<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 10:32:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 10:32:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ میں نرمی، بڑے پیمانے پر محصولات کم کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور چین نے بدھ کے روز ایک دوسرے کی اشیاء پر عائد وسیع پیمانے پر محصولات میں 90 دن کے لیے نمایاں کمی کر دی، جو کہ ایک شدید تجارتی جنگ میں عارضی نرمی کی علامت ہے، جس نے عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز کو متاثر کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور بیجنگ نے جنیوا میں اختتام پذیر ہونے والے اہم مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت آسمان کو چھوتے محصولات کو بڑی حد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن کے پاس اب چین کے ساتھ ایک ”انتہائی مضبوط“ تجارتی معاہدے کا خاکہ موجود ہے، جس کے تحت بیجنگ کی معیشت امریکی کاروباروں کے لیے ”کھل جائے گی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس چین کے ساتھ ایک بہت ہی مضبوط معاہدے کا خاکہ موجود ہے۔ لیکن اس معاہدے کا سب سے دلچسپ پہلو … وہ چین کا امریکی کاروباروں کے لیے کھلنا ہے،“ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے کو ایئر فورس ون میں دورانِ پرواز خلیجی دورے کے آغاز پر بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے مزید کہا ”میرا خیال ہے کہ یہ چیز ہمارے لیے، اور چین کے لیے بھی، انتہائی دلچسپ ہو سکتی ہے، کہ ہم چین کو کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں،“ تاہم انہوں نے اس کی  مزید تفصیل نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مختلف معیشتوں پر وسیع پیمانے پر محصولات لگا کر بین الاقوامی تجارت کو تہ و بالا کر دیا تھا، اور چین کو خاص طور پر اس کا شدید نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے موقف سے نہ ہٹتے ہوئے جوابی ٹیرف عائد کیے، جن کے نتیجے میں دونوں جانب سے نئے ٹیکسز کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد جب اسٹاک مارکیٹس گر گئیں اور کاروبار شدید متاثر ہونے لگے، تو بالآخر دنیا کی دو بڑی تجارتی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں ہفتے کے اختتام پر مذاکرات کا آغاز ہوا تاکہ اس تعطل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت، امریکہ نے چینی اشیاء پر عائد اپنے نئے ٹیرف 30 فیصد تک کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ چین نے اپنے محصولات کو 10 فیصد تک کم کر دیا، یعنی 100 فیصد سے زائد کی کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’کوئی فاتح نہیں‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی بدھ کو واشنگٹن کے وقت کے مطابق نصف شب کے بعد نافذ العمل ہوئی، جو کہ تجارتی کشیدگی میں ایک بڑی کمی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے چینی درآمدات پر ٹیرف 145 فیصد تک اور بعض مصنوعات پر 245 فیصد تک جا پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے ان چینی مصنوعات پر بھی محصولات میں کمی کی جو کم قیمت والی ہوتی ہیں اور جن کا تعلق ای-کامرس پلیٹ فارمز جیسے Shein اور Temu سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے حکم کے تحت، اس طرح کے کم مالیت والے پارسلز پر اب ان کی قیمت کا 54 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جو پہلے 120 فیصد تھی ، یا متبادل طور پر 100 ڈالر کی ادائیگی کرنا ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ بعض غیر محصولاتی جوابی اقدامات کو بھی معطل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی وزارت تجارت نے بتایا ہے کہ وہ اُن اقدامات کو 90 دنوں کے لیے روک رہی ہے جن کے تحت 28 امریکی اداروں کو ”ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ“ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں شامل اداروں کو ایسی اشیاء کی فراہمی ممنوع ہے جو سول اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ان اقدامات کو بھی روک رہی ہے جن کے تحت 17 امریکی اداروں کو ”غیر معتبر اداروں کی فہرست“ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں شامل کمپنیوں کو چین میں درآمد و برآمد اور نئی سرمایہ کاری سے روکا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اپریل کو شامل کیے گئے 11 اداروں کے لیے یہ معطلی 90 دن کے لیے ہوگی، جبکہ 9 اپریل کو شامل کیے گئے 6 اداروں کے لیے معطلی کی مدت واضح نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹوں میں چین-امریکہ ٹیرف معطلی کی خبروں کے بعد نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکام نے اس ہفتے بیجنگ میں لاطینی امریکی رہنماؤں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس کے دوران خود کو ایک مستحکم شراکت دار اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صدر شی جن پنگ نے برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا سمیت دیگر رہنماؤں سے خطاب میں کہا: ”ٹیرف یا تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اعلیٰ سفارتکار وانگ ای نے ایک ”بڑی طاقت“ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”طاقت کو حق کا معیار سمجھتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’دوبارہ کشیدگی کے خطرات باقی‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کشیدگی کے گہرے اسباب اب بھی موجود ہیں — امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اضافی ٹیرف کی شرح چین سے زیادہ ہے، کیونکہ اس میں ایک 20 فیصد محصول بھی شامل ہے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی کیمیکل برآمدات پر شکایات کی بنیاد پر لگایا گیا، خاص طور پر وہ کیمیکل جو فینٹانائل (ایک خطرناک نشہ آور دوا) بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن طویل عرصے سے بیجنگ پر فینٹانائل کی تجارت سے چشم پوشی کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی چین سختی سے تردید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ 90 دن کے بعد دوبارہ محصولات کے نافذ ہونے کے امکان سے غیر یقینی کی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی چیف ماہرِ معیشت یوئے سو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”مزید ٹیرف میں کمی مشکل ہو گی اور دوبارہ کشیدگی کا خطرہ برقرار ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا بیجنگ کے ساتھ اُتار چڑھاؤ پر مبنی ٹیرف تنازع اُن امریکی کمپنیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جو چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کرتی ہیں، اور یہ عارضی نرمی صرف جزوی طور پر اس طوفان کو کم کرنے کی امید پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کے حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ چین کی معیشت — جو پہلے ہی طویل پراپرٹی بحران اور سست روی کا شکار صارفین کی خرچ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے دباؤ میں ہے — تجارتی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور چین نے بدھ کے روز ایک دوسرے کی اشیاء پر عائد وسیع پیمانے پر محصولات میں 90 دن کے لیے نمایاں کمی کر دی، جو کہ ایک شدید تجارتی جنگ میں عارضی نرمی کی علامت ہے، جس نے عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز کو متاثر کیا تھا۔</strong></p>
<p>واشنگٹن اور بیجنگ نے جنیوا میں اختتام پذیر ہونے والے اہم مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت آسمان کو چھوتے محصولات کو بڑی حد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن کے پاس اب چین کے ساتھ ایک ”انتہائی مضبوط“ تجارتی معاہدے کا خاکہ موجود ہے، جس کے تحت بیجنگ کی معیشت امریکی کاروباروں کے لیے ”کھل جائے گی“۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس چین کے ساتھ ایک بہت ہی مضبوط معاہدے کا خاکہ موجود ہے۔ لیکن اس معاہدے کا سب سے دلچسپ پہلو … وہ چین کا امریکی کاروباروں کے لیے کھلنا ہے،“ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے کو ایئر فورس ون میں دورانِ پرواز خلیجی دورے کے آغاز پر بتائی۔</p>
<p>امریکی صدر نے مزید کہا ”میرا خیال ہے کہ یہ چیز ہمارے لیے، اور چین کے لیے بھی، انتہائی دلچسپ ہو سکتی ہے، کہ ہم چین کو کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں،“ تاہم انہوں نے اس کی  مزید تفصیل نہیں دی۔</p>
<p>ٹرمپ نے مختلف معیشتوں پر وسیع پیمانے پر محصولات لگا کر بین الاقوامی تجارت کو تہ و بالا کر دیا تھا، اور چین کو خاص طور پر اس کا شدید نقصان ہوا۔</p>
<p>چین نے موقف سے نہ ہٹتے ہوئے جوابی ٹیرف عائد کیے، جن کے نتیجے میں دونوں جانب سے نئے ٹیکسز کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔</p>
<p>اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد جب اسٹاک مارکیٹس گر گئیں اور کاروبار شدید متاثر ہونے لگے، تو بالآخر دنیا کی دو بڑی تجارتی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں ہفتے کے اختتام پر مذاکرات کا آغاز ہوا تاکہ اس تعطل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔</p>
<p>معاہدے کے تحت، امریکہ نے چینی اشیاء پر عائد اپنے نئے ٹیرف 30 فیصد تک کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ چین نے اپنے محصولات کو 10 فیصد تک کم کر دیا، یعنی 100 فیصد سے زائد کی کمی۔</p>
<p><strong>’کوئی فاتح نہیں‘</strong></p>
<p>یہ کمی بدھ کو واشنگٹن کے وقت کے مطابق نصف شب کے بعد نافذ العمل ہوئی، جو کہ تجارتی کشیدگی میں ایک بڑی کمی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے چینی درآمدات پر ٹیرف 145 فیصد تک اور بعض مصنوعات پر 245 فیصد تک جا پہنچے تھے۔</p>
<p>واشنگٹن نے ان چینی مصنوعات پر بھی محصولات میں کمی کی جو کم قیمت والی ہوتی ہیں اور جن کا تعلق ای-کامرس پلیٹ فارمز جیسے Shein اور Temu سے ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے حکم کے تحت، اس طرح کے کم مالیت والے پارسلز پر اب ان کی قیمت کا 54 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جو پہلے 120 فیصد تھی ، یا متبادل طور پر 100 ڈالر کی ادائیگی کرنا ہو گی۔</p>
<p>چین نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ بعض غیر محصولاتی جوابی اقدامات کو بھی معطل کر رہا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی وزارت تجارت نے بتایا ہے کہ وہ اُن اقدامات کو 90 دنوں کے لیے روک رہی ہے جن کے تحت 28 امریکی اداروں کو ”ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ“ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں شامل اداروں کو ایسی اشیاء کی فراہمی ممنوع ہے جو سول اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہوں۔</p>
<p>وزارت نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ان اقدامات کو بھی روک رہی ہے جن کے تحت 17 امریکی اداروں کو ”غیر معتبر اداروں کی فہرست“ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں شامل کمپنیوں کو چین میں درآمد و برآمد اور نئی سرمایہ کاری سے روکا جاتا ہے۔</p>
<p>یکم اپریل کو شامل کیے گئے 11 اداروں کے لیے یہ معطلی 90 دن کے لیے ہوگی، جبکہ 9 اپریل کو شامل کیے گئے 6 اداروں کے لیے معطلی کی مدت واضح نہیں کی گئی۔</p>
<p>مارکیٹوں میں چین-امریکہ ٹیرف معطلی کی خبروں کے بعد نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>چینی حکام نے اس ہفتے بیجنگ میں لاطینی امریکی رہنماؤں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس کے دوران خود کو ایک مستحکم شراکت دار اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>چینی صدر شی جن پنگ نے برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا سمیت دیگر رہنماؤں سے خطاب میں کہا: ”ٹیرف یا تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔“</p>
<p>ان کے اعلیٰ سفارتکار وانگ ای نے ایک ”بڑی طاقت“ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”طاقت کو حق کا معیار سمجھتی ہے۔“</p>
<p><strong>’دوبارہ کشیدگی کے خطرات باقی‘</strong></p>
<p>تاہم، کشیدگی کے گہرے اسباب اب بھی موجود ہیں — امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اضافی ٹیرف کی شرح چین سے زیادہ ہے، کیونکہ اس میں ایک 20 فیصد محصول بھی شامل ہے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی کیمیکل برآمدات پر شکایات کی بنیاد پر لگایا گیا، خاص طور پر وہ کیمیکل جو فینٹانائل (ایک خطرناک نشہ آور دوا) بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن طویل عرصے سے بیجنگ پر فینٹانائل کی تجارت سے چشم پوشی کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی چین سختی سے تردید کرتا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ 90 دن کے بعد دوبارہ محصولات کے نافذ ہونے کے امکان سے غیر یقینی کی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>دی اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی چیف ماہرِ معیشت یوئے سو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”مزید ٹیرف میں کمی مشکل ہو گی اور دوبارہ کشیدگی کا خطرہ برقرار ہے۔“</p>
<p>صدر ٹرمپ کا بیجنگ کے ساتھ اُتار چڑھاؤ پر مبنی ٹیرف تنازع اُن امریکی کمپنیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جو چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کرتی ہیں، اور یہ عارضی نرمی صرف جزوی طور پر اس طوفان کو کم کرنے کی امید پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>بیجنگ کے حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ چین کی معیشت — جو پہلے ہی طویل پراپرٹی بحران اور سست روی کا شکار صارفین کی خرچ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے دباؤ میں ہے — تجارتی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272706</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 23:26:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/14230806aec3cec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/14230806aec3cec.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
