<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 04:06:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 04:06:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹارٹ اپ نیم ای ایف یو لائف پارٹنرشپ کے ساتھ انشورنس کے شعبے میں داخل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم نیم(Neem) جو عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی سیڈ فنڈنگ حاصل کر چکا ہے، نے ای ایف یو لائف  کے ساتھ ایک اسٹریٹیجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اس نے انشورنس کے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد انشورنس کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنانا ہے—پریمیم کی وصولی سے لے کر کلیمز کی ادائیگی تک—جو نیم کے فنانشل انفراسٹرکچر کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم کے پیمنٹ بٹن’ کے ذریعے ای ایف یو لائف  کے صارفین اب کارڈز، والٹس، بینک ٹرانسفرز وغیرہ سے ڈیجیٹل ادائیگی کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ ادائیگیاں خودکار طور پر پالیسی نمبرز کے ساتھ میچ ہو جائیں گی، جس سے انسانی غلطیوں اور تاخیر میں کمی آئے گی، ری کنسیلی ایشن کا عمل تیز ہوگا اور انسانی محنت کم لگے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم، ای ایف یو لائف  کے لیے ایک وائٹ لیبل والٹ سسٹم بنانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین اپنے فنڈز اسٹور کر سکیں گے، مختلف ذرائع سے ٹاپ اپ کر سکیں گے، اور انہی فنڈز کے ذریعے پریمیم ادا کر سکیں گے، پالیسیاں خرید سکیں گے اور کلیمز وصول کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ای ایف یو لائف کی پیشکشیں جلد ہی نیم کےشریعت کے مطابق کمائی تک رسائی کا پلیٹ فارم ’پے می نائو‘ میں شامل کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;، نیم کا کہنا ہے کہ اس سے ملازمین کو اسلامی انشورنس مصنوعات جیسے کہ زندگی، صحت اور حادثاتی کوریج تک رسائی اور ادائیگی کی سہولت ملے گی، وہ بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے جہاں انہیں تنخواہیں ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایف یو لائف کے سی او او عظیم پیرانی نے کہا کہ نیم کے پیمنٹ پلیٹ فارم کے انضمام نے ہمیں پریمیم کی وصولی کے طریقے پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا—یہ عمل اب تیز، محفوظ اور صارف دوست بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس اہم رابطے کو ڈیجیٹل بنا کر نہ صرف اپنی ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں بلکہ اپنے پالیسی ہولڈرز کے لیے سہولت بھی پیدا کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی زیادہ جامع انشورنس کے تجربے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="انشورنس-کیوں" href="#انشورنس-کیوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انشورنس کیوں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈ سے بات کرتے ہوئے نیم کے شریک بانی ندیم شیخ نے وضاحت کی کہ “انشورنس وہ اہم شعبہ ہے جہاں نہ صرف رسائی محدود ہے بلکہ ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر بھی ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہ اکہ یہ مالی فلاح کا ایک اہم ستون ہے، لیکن ابھی تک بہت کم ترقی یافتہ ہے۔ ہم نے اس شعبے میں داخل ہو کر انشورنس تک رسائی کو آسان بنانے اور پورے نظام کو—پریمیم کی وصولی سے لے کر کلیمز تک—ڈیجیٹل کرنے کا موقع دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف انشورنس کمپنیوں کو تیزی سے اپنی خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کی آپریشنل کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے اور آمدن کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جبکہ صارفین کے لیے انشورنس کو مزید قابل رسائی اور بغیر رکاوٹ کے تجربہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں مالی تحفظ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود، انشورنس کا شعبہ ابھی بھی بہت پیچھے ہے، اور اس کی پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف  ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو علاقائی معیار سے بہت پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی بڑی حد تک پرانے، نقدی پر انحصار کرنے والے نظاموں کی وجہ سے ہے، اور نیم ان مسائل کو حل کرنے کے لیے براہ راست انشورنس کے نظام میں ڈیجیٹل پیمنٹ اور والٹ انفراسٹرکچر کو شامل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم آئندہ دیگر انشورنس کمپنیوں کے ساتھ بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ان کی پیشکشوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور والٹس کو شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندیم شیخ نے بزنس ریکارڈر کو یہ بھی بتایا کہ نیم کا نقطہ نظر  سیکٹر ایگنوسٹک ہے، اور وہ ان شعبوں میں مالی مصنوعات کو ضم کرنے پر توجہ دیتا ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس کے علاوہ، نیم پہلے ہی کئی اہم شعبوں میں فعال ہے جن میں صحت (صحت کہانی)، لاجسٹکس (اسمارٹ لین، ٹی سی ایس)، سفری خدمات (ایزبائیک)، زراعت (باخبر کسان, فارم ٹو ہوم)، تعلیم (ایڈکاسا)، ریٹیل (ثنا صفیناز، یونین فیبرکس)، طرزِ زندگی (دوام, پیڈلورس)، سیکیورٹی (ویکن ہٹ پاکستان)، ورک فورس سلویشن(ایچ آر ایس جی) اور ای کامرس (بیچلو ڈاٹ پی کے, فینریر, ای کام ڈیلز) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آگے چل کر اسٹریٹیجک شراکت داریوں اور مالیاتی حلوں کے ذریعے ہم ان شعبوں میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کریں گے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم نیم(Neem) جو عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی سیڈ فنڈنگ حاصل کر چکا ہے، نے ای ایف یو لائف  کے ساتھ ایک اسٹریٹیجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اس نے انشورنس کے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔</strong></p>
<p>منگل کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد انشورنس کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنانا ہے—پریمیم کی وصولی سے لے کر کلیمز کی ادائیگی تک—جو نیم کے فنانشل انفراسٹرکچر کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔</p>
<p>نیم کے پیمنٹ بٹن’ کے ذریعے ای ایف یو لائف  کے صارفین اب کارڈز، والٹس، بینک ٹرانسفرز وغیرہ سے ڈیجیٹل ادائیگی کر سکیں گے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ ادائیگیاں خودکار طور پر پالیسی نمبرز کے ساتھ میچ ہو جائیں گی، جس سے انسانی غلطیوں اور تاخیر میں کمی آئے گی، ری کنسیلی ایشن کا عمل تیز ہوگا اور انسانی محنت کم لگے گی۔</p>
<p>نیم، ای ایف یو لائف  کے لیے ایک وائٹ لیبل والٹ سسٹم بنانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین اپنے فنڈز اسٹور کر سکیں گے، مختلف ذرائع سے ٹاپ اپ کر سکیں گے، اور انہی فنڈز کے ذریعے پریمیم ادا کر سکیں گے، پالیسیاں خرید سکیں گے اور کلیمز وصول کر سکیں گے۔</p>
<p>اسی دوران ای ایف یو لائف کی پیشکشیں جلد ہی نیم کےشریعت کے مطابق کمائی تک رسائی کا پلیٹ فارم ’پے می نائو‘ میں شامل کی جائیں گی۔</p>
<p>، نیم کا کہنا ہے کہ اس سے ملازمین کو اسلامی انشورنس مصنوعات جیسے کہ زندگی، صحت اور حادثاتی کوریج تک رسائی اور ادائیگی کی سہولت ملے گی، وہ بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے جہاں انہیں تنخواہیں ملتی ہیں۔</p>
<p>ای ایف یو لائف کے سی او او عظیم پیرانی نے کہا کہ نیم کے پیمنٹ پلیٹ فارم کے انضمام نے ہمیں پریمیم کی وصولی کے طریقے پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا—یہ عمل اب تیز، محفوظ اور صارف دوست بن گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس اہم رابطے کو ڈیجیٹل بنا کر نہ صرف اپنی ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں بلکہ اپنے پالیسی ہولڈرز کے لیے سہولت بھی پیدا کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی زیادہ جامع انشورنس کے تجربے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="انشورنس-کیوں" href="#انشورنس-کیوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انشورنس کیوں؟</h3>
<p>بزنس ریکارڈ سے بات کرتے ہوئے نیم کے شریک بانی ندیم شیخ نے وضاحت کی کہ “انشورنس وہ اہم شعبہ ہے جہاں نہ صرف رسائی محدود ہے بلکہ ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر بھی ناکافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہ اکہ یہ مالی فلاح کا ایک اہم ستون ہے، لیکن ابھی تک بہت کم ترقی یافتہ ہے۔ ہم نے اس شعبے میں داخل ہو کر انشورنس تک رسائی کو آسان بنانے اور پورے نظام کو—پریمیم کی وصولی سے لے کر کلیمز تک—ڈیجیٹل کرنے کا موقع دیکھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف انشورنس کمپنیوں کو تیزی سے اپنی خدمات فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کی آپریشنل کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے اور آمدن کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جبکہ صارفین کے لیے انشورنس کو مزید قابل رسائی اور بغیر رکاوٹ کے تجربہ بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>نیم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں مالی تحفظ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود، انشورنس کا شعبہ ابھی بھی بہت پیچھے ہے، اور اس کی پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف  ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو علاقائی معیار سے بہت پیچھے ہے۔</p>
<p>یہ کمی بڑی حد تک پرانے، نقدی پر انحصار کرنے والے نظاموں کی وجہ سے ہے، اور نیم ان مسائل کو حل کرنے کے لیے براہ راست انشورنس کے نظام میں ڈیجیٹل پیمنٹ اور والٹ انفراسٹرکچر کو شامل کر رہا ہے۔</p>
<p>نیم آئندہ دیگر انشورنس کمپنیوں کے ساتھ بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ان کی پیشکشوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور والٹس کو شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>ندیم شیخ نے بزنس ریکارڈر کو یہ بھی بتایا کہ نیم کا نقطہ نظر  سیکٹر ایگنوسٹک ہے، اور وہ ان شعبوں میں مالی مصنوعات کو ضم کرنے پر توجہ دیتا ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>انشورنس کے علاوہ، نیم پہلے ہی کئی اہم شعبوں میں فعال ہے جن میں صحت (صحت کہانی)، لاجسٹکس (اسمارٹ لین، ٹی سی ایس)، سفری خدمات (ایزبائیک)، زراعت (باخبر کسان, فارم ٹو ہوم)، تعلیم (ایڈکاسا)، ریٹیل (ثنا صفیناز، یونین فیبرکس)، طرزِ زندگی (دوام, پیڈلورس)، سیکیورٹی (ویکن ہٹ پاکستان)، ورک فورس سلویشن(ایچ آر ایس جی) اور ای کامرس (بیچلو ڈاٹ پی کے, فینریر, ای کام ڈیلز) شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آگے چل کر اسٹریٹیجک شراکت داریوں اور مالیاتی حلوں کے ذریعے ہم ان شعبوں میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کریں گے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272690</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 13:40:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/14133939faa9d24.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/14133939faa9d24.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
