<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس آر او 760 کی معطلی، پاکستان سے جواہرات اور زیورات کی برآمدات رک گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272676/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں، کیونکہ وفاقی حکومت نے اچانک ایس آر او 760(1)/2013 کو دو ماہ کے لیے معطل کر دیا۔ یہ ریگولیٹری فریم ورک قانونی طور پر سونے اور زیورات کی برآمدات کو ممکن بناتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اس غیر متوقع فیصلے کے باعث برآمد کنندگان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، کیونکہ کروڑوں ڈالر مالیت کی کھیپیں پھنس گئی ہیں اور بین الاقوامی معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں، جس سے پوری صنعت میں بے چینی پھیل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیمز جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی جی جے ٹی ای اے) نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فوری اپیل کی ہے کہ وزارت تجارت کی جانب سے ایس آر او کی دو ماہ کے لیے معطلی کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کو ارسال کردہ خط میں ایسوسی ایشن نے اس یکطرفہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے قانونی اور شفاف برآمدی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پی جی جے ٹی ای اے کے چیئرمین عمران خان ٹیسوری کے مطابق کہ اس غیر متوقع اقدام نے ہماری قانونی اور شفاف برآمدی سرگرمیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، برآمدی کھیپیں پھنس گئی ہیں، جاری معاہدے خطرے میں ہیں، اور پاکستان کی برآمدی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران ٹیسوری نے انکشاف کیا کہ تقریباً 50 سے 60 ملین ڈالر مالیت کی کھیپیں ترسیل کے لیے تیار ہیں، مگر ایس آر او کی معطلی کے باعث برآمد نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے، قانونی برآمدات کو روکنا ایک غیرمنصفانہ اور نقصان دہ اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ ان کے اراکین مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں، سونے کی درآمد صرف مجاز ذرائع سے کرتے ہیں، گرے مارکیٹ سے اجتناب کرتے ہیں اور صرف برآمدات پر توجہ دیتے ہیں، نہ کہ مقامی مارکیٹ پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایس آر او کی معطلی قانون پر عمل کرنے والے برآمد کنندگان کو نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا جو اس دائرہ کار سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت پر آیا ہے جب پاکستان برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پالیسی یوٹرن برآمدات میں مزید کمی کا سبب بن سکتا ہے اور جیولری کے منظم شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی جی جے ٹی ای اے عمران خان ٹیسوری نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ایس آر او 760(1)/2013 کو فوری بحال کیا جائے تاکہ تجارتی تسلسل برقرار رہے، رکی ہوئی کھیپیں کلیئر ہوں اور مالی و قانونی نقصانات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی میں پی جی جے ٹی ای اے کے نمائندے کو شامل کیا جائے تاکہ جائزہ منصفانہ ہو اور ایسی ترامیم کی سفارشات سامنے آ سکیں جو غلط استعمال کو روکیں مگر قانونی برآمد کنندگان کو نقصان نہ پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے حکومت کی شفافیت اور ضابطہ سازی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بلينکٹ اقدامات سے اجتناب کیا جائے جو جائز تجارت کو متاثر کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کے اختتام پر وزیراعظم سے ”قومی مفاد میں فوری اقدام“ کا مطالبہ کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ملک کی تجارتی پالیسی کو زیادہ متوازن اور برآمد دوست سمت میں لے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں، کیونکہ وفاقی حکومت نے اچانک ایس آر او 760(1)/2013 کو دو ماہ کے لیے معطل کر دیا۔ یہ ریگولیٹری فریم ورک قانونی طور پر سونے اور زیورات کی برآمدات کو ممکن بناتا ہے۔</strong></p>
<p>حکومت کے اس غیر متوقع فیصلے کے باعث برآمد کنندگان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، کیونکہ کروڑوں ڈالر مالیت کی کھیپیں پھنس گئی ہیں اور بین الاقوامی معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں، جس سے پوری صنعت میں بے چینی پھیل گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان جیمز جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی جی جے ٹی ای اے) نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فوری اپیل کی ہے کہ وزارت تجارت کی جانب سے ایس آر او کی دو ماہ کے لیے معطلی کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔</p>
<p>وزیراعظم کو ارسال کردہ خط میں ایسوسی ایشن نے اس یکطرفہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے قانونی اور شفاف برآمدی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پی جی جے ٹی ای اے کے چیئرمین عمران خان ٹیسوری کے مطابق کہ اس غیر متوقع اقدام نے ہماری قانونی اور شفاف برآمدی سرگرمیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، برآمدی کھیپیں پھنس گئی ہیں، جاری معاہدے خطرے میں ہیں، اور پاکستان کی برآمدی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>عمران ٹیسوری نے انکشاف کیا کہ تقریباً 50 سے 60 ملین ڈالر مالیت کی کھیپیں ترسیل کے لیے تیار ہیں، مگر ایس آر او کی معطلی کے باعث برآمد نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے، قانونی برآمدات کو روکنا ایک غیرمنصفانہ اور نقصان دہ اقدام ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ ان کے اراکین مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں، سونے کی درآمد صرف مجاز ذرائع سے کرتے ہیں، گرے مارکیٹ سے اجتناب کرتے ہیں اور صرف برآمدات پر توجہ دیتے ہیں، نہ کہ مقامی مارکیٹ پر۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایس آر او کی معطلی قانون پر عمل کرنے والے برآمد کنندگان کو نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا جو اس دائرہ کار سے باہر ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت پر آیا ہے جب پاکستان برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پالیسی یوٹرن برآمدات میں مزید کمی کا سبب بن سکتا ہے اور جیولری کے منظم شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔“</p>
<p>چیئرمین پی جی جے ٹی ای اے عمران خان ٹیسوری نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ایس آر او 760(1)/2013 کو فوری بحال کیا جائے تاکہ تجارتی تسلسل برقرار رہے، رکی ہوئی کھیپیں کلیئر ہوں اور مالی و قانونی نقصانات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی میں پی جی جے ٹی ای اے کے نمائندے کو شامل کیا جائے تاکہ جائزہ منصفانہ ہو اور ایسی ترامیم کی سفارشات سامنے آ سکیں جو غلط استعمال کو روکیں مگر قانونی برآمد کنندگان کو نقصان نہ پہنچائیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے حکومت کی شفافیت اور ضابطہ سازی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بلينکٹ اقدامات سے اجتناب کیا جائے جو جائز تجارت کو متاثر کریں۔</p>
<p>خط کے اختتام پر وزیراعظم سے ”قومی مفاد میں فوری اقدام“ کا مطالبہ کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ملک کی تجارتی پالیسی کو زیادہ متوازن اور برآمد دوست سمت میں لے جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272676</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 09:08:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/14090831ec7eecf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/14090831ec7eecf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
