<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور روس کراچی میں نئی اسٹیل ملز قائم کرنے پر متفق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272673/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور روس نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی روسی وفد کے نمائندے ڈینس نذروف کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ روسی حکام نے پاکستان کو اپنے ملک کی جانب سے کراچی میں اسٹیل مل کی تعمیر کے لیے عزم کا یقین دلایا اور پاکستان کو ماسکو میں روسی وزارت صنعت کی طرف سے منعقد ہونے والی نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی وفد نے ہاورن اختر کو بتایا کہ اسی موضوع پر 2024 کے ستمبر میں روس کے نائب وزیر صنعت و تجارت ایلکسی گروزڈیف اور اس وقت کے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کے درمیان ایک اجلاس ہوا تھا۔ اس وقت دونوں فریقوں نے کراچی میں نئی اسٹیل مل قائم کرنے کی تجویز پر آگے بڑھنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان میں نئی اسٹیل مل قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات پر بات چیت کرنا تھا۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ ہارون اختر خان نے وزیراعظم کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے اور ملک نے اپنے آپ کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور مستحکم مقام کے طور پر پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورن اختر خان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اسٹیل صنعت میں قابل ذکر تعاون کا امکان ہے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک محفوظ اور ترقی پذیر سرمایہ کاری مرکز ہے، اور عالمی برادری نے اس کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے روسی کاروباری افراد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اسٹیل پیداوار جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے نئے راستے کھولنے میں اہم قدم اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے روسی حکام کو آگاہ کیا کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی 700 ایکڑ اراضی کو نئی اسٹیل مل قائم کرنے کے لیے مختص کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 1.887 بلین ٹن کے تخمینی ذخائر کے ساتھ آئرن ایسک کے قابل قدر ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو سالانہ 2.7 بلین ڈالر کی مالیت کا آئرن اور اسٹیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں آئرن اور اسٹیل کی پیداواری ضروریات اور طلب کے درمیان مسلسل فرق موجود ہے۔ گزشتہ سال کے دوران اس فرق کا تخمینہ 3.1 ملین ٹن لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فی کس اسٹیل کی کھپت ان ترقی پذیر ممالک سے بھی کم ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ درمیانے اور طویل مدتی میں اس شعبے میں بڑا ترقیاتی امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیل صنعت کی کارکردگی محدود ہے کیونکہ یہ پرانی اور غیر مؤثر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس میں 600 چھوٹے یونٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ جگہ کراچی میں واقع ہے اور یہ پورٹ قاسم کے قریب ہے، جس سے خام مال کی نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ پاکستان کے صنعتی اور زرعی ماہرین روس کا دورہ کرنے والے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم قدم ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ابھی تک پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی بحالی کے حوالے سے رسمی بات چیت شروع نہیں کی ہے۔ تاہم، 4 اپریل 2024 کو صدر آصف علی زرداری اور روسی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد، جس میں روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی مدد کی پیشکش کی، پاکستان نے نئی اسٹیل مل قائم کرنے پر غور شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ 2003 میں پاکستان اور روس کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کرنا اور اس کی توسیع کرنا تھا۔ اس کے بعد، ٹیاژپروم ایکسپورٹ روس کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا، جو غیر ملکی ممالک کو دھاتی پلانٹس اور متعلقہ اداروں کے ڈیزائن، تعمیر اور جدید کاری میں مدد فراہم کرتا ہے۔ 2013 میں ایک اور مفاہمت کی یادداشت میں روس سے 10 لاکھ ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور روس نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی روسی وفد کے نمائندے ڈینس نذروف کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ روسی حکام نے پاکستان کو اپنے ملک کی جانب سے کراچی میں اسٹیل مل کی تعمیر کے لیے عزم کا یقین دلایا اور پاکستان کو ماسکو میں روسی وزارت صنعت کی طرف سے منعقد ہونے والی نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔</p>
<p>روسی وفد نے ہاورن اختر کو بتایا کہ اسی موضوع پر 2024 کے ستمبر میں روس کے نائب وزیر صنعت و تجارت ایلکسی گروزڈیف اور اس وقت کے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کے درمیان ایک اجلاس ہوا تھا۔ اس وقت دونوں فریقوں نے کراچی میں نئی اسٹیل مل قائم کرنے کی تجویز پر آگے بڑھنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان میں نئی اسٹیل مل قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات پر بات چیت کرنا تھا۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ ہارون اختر خان نے وزیراعظم کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے اور ملک نے اپنے آپ کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور مستحکم مقام کے طور پر پیش کیا ہے۔</p>
<p>ہاورن اختر خان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اسٹیل صنعت میں قابل ذکر تعاون کا امکان ہے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک محفوظ اور ترقی پذیر سرمایہ کاری مرکز ہے، اور عالمی برادری نے اس کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے روسی کاروباری افراد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اسٹیل پیداوار جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے نئے راستے کھولنے میں اہم قدم اٹھایا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے روسی حکام کو آگاہ کیا کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی 700 ایکڑ اراضی کو نئی اسٹیل مل قائم کرنے کے لیے مختص کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 1.887 بلین ٹن کے تخمینی ذخائر کے ساتھ آئرن ایسک کے قابل قدر ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان کو سالانہ 2.7 بلین ڈالر کی مالیت کا آئرن اور اسٹیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں آئرن اور اسٹیل کی پیداواری ضروریات اور طلب کے درمیان مسلسل فرق موجود ہے۔ گزشتہ سال کے دوران اس فرق کا تخمینہ 3.1 ملین ٹن لگایا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان کی فی کس اسٹیل کی کھپت ان ترقی پذیر ممالک سے بھی کم ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ درمیانے اور طویل مدتی میں اس شعبے میں بڑا ترقیاتی امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیل صنعت کی کارکردگی محدود ہے کیونکہ یہ پرانی اور غیر مؤثر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس میں 600 چھوٹے یونٹس شامل ہیں۔</p>
<p>مذکورہ جگہ کراچی میں واقع ہے اور یہ پورٹ قاسم کے قریب ہے، جس سے خام مال کی نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ پاکستان کے صنعتی اور زرعی ماہرین روس کا دورہ کرنے والے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ابھی تک پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کی بحالی کے حوالے سے رسمی بات چیت شروع نہیں کی ہے۔ تاہم، 4 اپریل 2024 کو صدر آصف علی زرداری اور روسی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد، جس میں روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی مدد کی پیشکش کی، پاکستان نے نئی اسٹیل مل قائم کرنے پر غور شروع کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ 2003 میں پاکستان اور روس کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کرنا اور اس کی توسیع کرنا تھا۔ اس کے بعد، ٹیاژپروم ایکسپورٹ روس کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا، جو غیر ملکی ممالک کو دھاتی پلانٹس اور متعلقہ اداروں کے ڈیزائن، تعمیر اور جدید کاری میں مدد فراہم کرتا ہے۔ 2013 میں ایک اور مفاہمت کی یادداشت میں روس سے 10 لاکھ ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272673</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 08:40:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/14120636e4df098.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/14120636e4df098.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
