<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 13:30:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 13:30:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں ترامیم، پاور ڈویژن اپنی تجاویز دوبارہ ای سی سی کو پیش کریگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272671/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں ترامیم سے متعلق اپنی تجویز دوبارہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد بجلی کی خریداری کی موجودہ قیمتوں میں نمایاں کمی لانا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن نے اس تجویز کو دوبارہ پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں کابینہ ڈویژن نے وضاحت کی کہ اگرچہ 13 مارچ 2025 کو منعقدہ ای سی سی کے اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری دی گئی تھی، تاہم وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کی توثیق مؤخر کر دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت مؤخر کیا گیا جب کابینہ نے پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کروائی گئی اضافی ایجنڈا آئٹم پر غور کیا اور ہدایت کی کہ تجاویز کو دوبارہ پیش کرنے سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کابینہ نے ان ترامیم کی توثیق پارلیمانی اور عوامی دباؤ کے باعث مؤخر کی تھی۔ تاہم اب جب کہ زمینی حقائق میں تبدیلی آئی ہے، کابینہ ڈویژن نے پاور ڈویژن کو تجویز دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ابتدائی تجویز کے تحت، حکومت نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی مدت کو 5 سال تک محدود کرنا چاہتی ہے اور بجلی کی خریداری کی موجودہ قیمت (27 روپے فی یونٹ) کو بتدریج کم کرکے 10 روپے فی یونٹ تک لانے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 مارچ 2024 کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ عوام میں موجود اس پالیسی سے متعلق ابہام کو دور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق، موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام صارفین کو فکسڈ چارجز سے بچنے کا موقع دیتا ہے، جو بڑھتے ہوئے کیپیسٹی پیمنٹ پریشر (سی پی پی)، کم ہوتی ہوئی بجلی کی فروخت اور فکسڈ چارجز کی وصولی میں کمی کے ساتھ مل کر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی فروخت میں تقریباً 3.2 ارب یونٹ کی کمی واقع ہوئی، جس سے 101 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑا اور دیگر صارفین کے لیے اوسط نرخ میں تقریباً 0.9 روپے فی یونٹ کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے برسوں میں یہ اثر مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مالی سال 2034 تک نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی فروخت میں ممکنہ کمی 18.8 ارب یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جس سے تقریباً 545 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور دیگر صارفین کے لیے اوسط ٹیرف میں 3.6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجوزہ آئی جی سی ای پی 2025 کے تحت 2034 تک 8,000 میگاواٹ سے زائد نیٹ میٹرنگ شامل کی جائے گی، جسے ”زبردستی کی گئی شمولیت“ قرار دیا گیا ہے، جو سستی ترین بجلی پیداوار کی منصوبہ بندی کے اصول کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران پاور ڈویژن نے ورلڈ بینک سے ملک گیر سطح پر چھتوں پر لگنے والے سولر سسٹمز کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی معاونت کی درخواست کی ہے، جو اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کے ذریعے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواباً ورلڈ بینک نے پاور ڈویژن کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کی قائم مقام آپریشنز منیجر،ایوا لیزلیٹ لیسکراویٹ نے اقتصادی امور ڈویژن  کے سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں تصدیق کی کہ بینک اس اقدام میں اپنی ”انرجی سیکٹر مینجمنٹ اسسٹنس پروگرام“ (ایس ایم اے پی) کے تحت معاونت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ یہ تجزیہ پاور ڈویژن کے ساتھ جاری ہمارے تعاون کا تسلسل ہوگا اور یہ ’الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن اینڈ ایفیشنسی امپروومنٹ پروجیکٹ (ای ڈی ای آئی پی)‘ کے تحت تقسیم کار نظام کو مضبوط بنانے اور پالیسی سازی میں معاونت کے لیے کیے جانے والے کام کی تکمیل کرے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت درج ذیل مقاصد پر کام کیا جائے گا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . پاکستان میں نصب شدہ چھتوں والے سولر پی وی سسٹمز کی موجودہ صورتحال کا نقشہ اور تجزیہ
2 . ترقی کے رجحانات کی شناخت اور مستقبل کی ممکنہ پیش رفت کی پیش گوئی
3 . بجلی کے نظام میں شمولیت اور منصوبہ بندی کے لیے اثرات کا جائزہ
4 . نیٹ میٹرنگ پالیسی اور متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کی نظرثانی کے لیے بروقت سفارشات کی فراہمی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوا لیزلیٹ لیسکراویٹ کے مطابق کہ ہم نے اس کام کے دائرہ کار، ٹائم لائن، اور مطلوبہ ڈیٹا کی تفصیلات پر مبنی منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے، جسے پاور ڈویژن اور وزارتِ اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ بینک حکومت پاکستان کی پائیدار، مساوی اور مضبوط توانائی کے شعبے کی ترقی میں بھرپور معاونت کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں ترامیم سے متعلق اپنی تجویز دوبارہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد بجلی کی خریداری کی موجودہ قیمتوں میں نمایاں کمی لانا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن نے اس تجویز کو دوبارہ پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں کابینہ ڈویژن نے وضاحت کی کہ اگرچہ 13 مارچ 2025 کو منعقدہ ای سی سی کے اجلاس میں ان ترامیم کی منظوری دی گئی تھی، تاہم وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کی توثیق مؤخر کر دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت مؤخر کیا گیا جب کابینہ نے پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کروائی گئی اضافی ایجنڈا آئٹم پر غور کیا اور ہدایت کی کہ تجاویز کو دوبارہ پیش کرنے سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی جائے۔</p>
<p>اس سے قبل کابینہ نے ان ترامیم کی توثیق پارلیمانی اور عوامی دباؤ کے باعث مؤخر کی تھی۔ تاہم اب جب کہ زمینی حقائق میں تبدیلی آئی ہے، کابینہ ڈویژن نے پاور ڈویژن کو تجویز دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ابتدائی تجویز کے تحت، حکومت نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی مدت کو 5 سال تک محدود کرنا چاہتی ہے اور بجلی کی خریداری کی موجودہ قیمت (27 روپے فی یونٹ) کو بتدریج کم کرکے 10 روپے فی یونٹ تک لانے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>23 مارچ 2024 کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ عوام میں موجود اس پالیسی سے متعلق ابہام کو دور کرے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق، موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام صارفین کو فکسڈ چارجز سے بچنے کا موقع دیتا ہے، جو بڑھتے ہوئے کیپیسٹی پیمنٹ پریشر (سی پی پی)، کم ہوتی ہوئی بجلی کی فروخت اور فکسڈ چارجز کی وصولی میں کمی کے ساتھ مل کر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ مالی سال 2024 کے دوران نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی فروخت میں تقریباً 3.2 ارب یونٹ کی کمی واقع ہوئی، جس سے 101 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑا اور دیگر صارفین کے لیے اوسط نرخ میں تقریباً 0.9 روپے فی یونٹ کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>آنے والے برسوں میں یہ اثر مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مالی سال 2034 تک نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی کی فروخت میں ممکنہ کمی 18.8 ارب یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جس سے تقریباً 545 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور دیگر صارفین کے لیے اوسط ٹیرف میں 3.6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجوزہ آئی جی سی ای پی 2025 کے تحت 2034 تک 8,000 میگاواٹ سے زائد نیٹ میٹرنگ شامل کی جائے گی، جسے ”زبردستی کی گئی شمولیت“ قرار دیا گیا ہے، جو سستی ترین بجلی پیداوار کی منصوبہ بندی کے اصول کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس دوران پاور ڈویژن نے ورلڈ بینک سے ملک گیر سطح پر چھتوں پر لگنے والے سولر سسٹمز کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی معاونت کی درخواست کی ہے، جو اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کے ذریعے کی گئی ہے۔</p>
<p>جواباً ورلڈ بینک نے پاور ڈویژن کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کی قائم مقام آپریشنز منیجر،ایوا لیزلیٹ لیسکراویٹ نے اقتصادی امور ڈویژن  کے سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں تصدیق کی کہ بینک اس اقدام میں اپنی ”انرجی سیکٹر مینجمنٹ اسسٹنس پروگرام“ (ایس ایم اے پی) کے تحت معاونت فراہم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ یہ تجزیہ پاور ڈویژن کے ساتھ جاری ہمارے تعاون کا تسلسل ہوگا اور یہ ’الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن اینڈ ایفیشنسی امپروومنٹ پروجیکٹ (ای ڈی ای آئی پی)‘ کے تحت تقسیم کار نظام کو مضبوط بنانے اور پالیسی سازی میں معاونت کے لیے کیے جانے والے کام کی تکمیل کرے گا۔“</p>
<p>اس منصوبے کے تحت درج ذیل مقاصد پر کام کیا جائے گا:</p>
<p>1 . پاکستان میں نصب شدہ چھتوں والے سولر پی وی سسٹمز کی موجودہ صورتحال کا نقشہ اور تجزیہ
2 . ترقی کے رجحانات کی شناخت اور مستقبل کی ممکنہ پیش رفت کی پیش گوئی
3 . بجلی کے نظام میں شمولیت اور منصوبہ بندی کے لیے اثرات کا جائزہ
4 . نیٹ میٹرنگ پالیسی اور متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کی نظرثانی کے لیے بروقت سفارشات کی فراہمی</p>
<p>ایوا لیزلیٹ لیسکراویٹ کے مطابق کہ ہم نے اس کام کے دائرہ کار، ٹائم لائن، اور مطلوبہ ڈیٹا کی تفصیلات پر مبنی منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے، جسے پاور ڈویژن اور وزارتِ اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ بینک حکومت پاکستان کی پائیدار، مساوی اور مضبوط توانائی کے شعبے کی ترقی میں بھرپور معاونت کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272671</guid>
      <pubDate>Wed, 14 May 2025 08:19:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/1408190399b47b6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/1408190399b47b6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
