<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیمتوں کی ڈی ریگولیشن سے دواؤں تک رسائی بہتر، صنعت کو مستحکم کرنے میں مددگار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272614/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کی ریگولیشن ختم کرنے کے فیصلے نے 2024 کے اوائل میں دواؤں تک رسائی کو بہتر بنایا اور فارماسیوٹیکل سیکٹر میں درکار استحکام پیدا کیا، جس سے صنعت کی پائیدار اور طویل المدتی ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی تبدیلی کا مقصد مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار اپنانا اور اس شعبے کو درپیش دیرینہ مسائل کا حل نکالنا تھا۔ اس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کو یہ گنجائش فراہم کی گئی کہ وہ قیمتیں مارکیٹ کے حالات کے مطابق خود طے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ قیمتوں کو ہم آہنگ کر کے کمپنیوں نے ان ادویات کی پیداوار کو مستحکم کر لیا ہے، جن کی دستیابی قیمتوں کی پابندی کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے فیصلے پر موجود شکوک و شبہات کے برعکس، پچھلا سال ثابت کرتا ہے کہ یہ اقدام ایک اصلاح تھا، نہ کہ قیمتوں کو بے لگام چھوڑنے کا عمل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی فہرست برائے ضروری ادویات (این ای ایم ایل) میں شامل ضروری ادویات بدستور حکومتی کنٹرول میں ہیں تاکہ غریب طبقات کے لیے ان کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم غیر ضروری ادویات پر مصنوعی حدیں ختم کر کے حکومت نے مینوفیکچررز کا اعتماد بحال کیا اور پیداوار کی بحالی ممکن بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین کے مطابق یہ (ڈی ریگولیشن) قیمتیں بے قابو کرنے کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک ایسی صنعت کو بچانے کی کوشش تھی جو تباہی کے دہانے پر تھی، اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے ذریعے مریضوں کو معیاری ادویات تک رسائی دلانا مقصد تھا۔ ڈی ریگولیشن نے صنعت کی بقاء اور مریضوں کی رسائی کے درمیان توازن قائم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی طور پر قابل عمل پیداوار کے نتیجے میں بہت سی اہم ادویات جو بند ہو چکی تھیں، اب دوبارہ دستیاب ہیں۔ آئی کیو وی آئی اے کے فروری 2025 کے اعدادوشمار کے مطابق ادویات کی فروخت میں سالانہ 3.79 فیصد اضافہ ہوا، جس سے یہ تاثر رد ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے رسائی کم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی چین کے مستحکم ہونے سے جعلی اور غیر رجسٹرڈ متبادل ادویات کے پھیلاؤ پر بھی قابو پایا جا سکا ہے، جو ماضی میں قلت کے دوران بازار میں آ گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈی ریگولیشن سے جدت اور سرمایہ کاری کو فروغ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ریگولیشن کا معاشی اثر بھی مثبت رہا۔ مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کا منافع 5.6 گنا بڑھ کر 5.6 ارب روپے ہو گیا، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں صرف 1 ارب روپے تھا۔ یہ اضافہ بہتر منافع، کم مالیاتی اخراجات اور پیداواری کارکردگی کی وجہ سے ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتے ہوئے منافع نے صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ پی پی ایم اے سے وابستہ کمپنیاں اپنی پیداواری سہولیات کو عالمی معیار (ڈبلیو ایچ او پی کیو اور پی آئی سی/ایس) پر لانے کے لیے تیزی سے اپ گریڈ کر رہی ہیں، جو پاکستان کو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی ریگولیٹڈ مارکیٹس میں برآمدات کے لیے تیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم اے کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، اور اگر پالیسی استحکام برقرار رہا تو یہ برآمدات سال بھر میں ایک ارب ڈالر اور اگلے پانچ سال میں 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پی پی ایم اے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی خریدار اب پاکستان کو ایک قابل بھروسہ اور معیاری سپلائر کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو صرف دو سال پہلے ممکن نہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع کے مطابق، پاکستان اور افغانستان صحت کے شعبے میں تعاون پر متفق ہو رہے ہیں، جس سے پاکستان اپنے پڑوسی ملک میں 500 ملین ڈالر کی برآمدی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کارکردگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مثبت پیش رفتوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کا رجحان بھی مثبت رہا۔ سال 2025 کے آغاز سے اب تک فارماسیوٹیکل سیکٹر کی قدر میں 194 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ کے ایس ای-100 انڈیکس کے 84 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ کئی سال بعد پہلی بار، فارما اسٹاکس پی ایس ایکس پر سرِفہرست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلیون کے شیئرز میں 436 فیصد اضافہ ہوا، گلاکسو کے شیئرز 362 فیصد اوپر گئے، مکٹر میں 315 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ اے جی پی کے بارے میں توقع ہے کہ یہ سال 2025 میں بھی عمدہ کارکردگی جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم اے شعبے کے لیے ایک شفاف اور اصولوں پر مبنی قیمتوں کے تعین کے نظام کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ضروری ادویات کو سستا رکھنے  اور انکی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے ڈریپ اور وزارت صحت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ مارکیٹ کے غلط استعمال کو روکا جا سکے، عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک جدت پسند ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیئرمین پی پی ایم اے کے مطابق: “یہ صرف بحالی کی کہانی نہیں ہے — یہ ترقی کی کہانی ہے۔ ان اصلاحات نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو ایک نئی شناخت دی ہے: قابلِ مسابقت، قابلِ اعتماد اور مریض دوست۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کی ریگولیشن ختم کرنے کے فیصلے نے 2024 کے اوائل میں دواؤں تک رسائی کو بہتر بنایا اور فارماسیوٹیکل سیکٹر میں درکار استحکام پیدا کیا، جس سے صنعت کی پائیدار اور طویل المدتی ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔</strong></p>
<p>اس پالیسی تبدیلی کا مقصد مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار اپنانا اور اس شعبے کو درپیش دیرینہ مسائل کا حل نکالنا تھا۔ اس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کو یہ گنجائش فراہم کی گئی کہ وہ قیمتیں مارکیٹ کے حالات کے مطابق خود طے کر سکیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ قیمتوں کو ہم آہنگ کر کے کمپنیوں نے ان ادویات کی پیداوار کو مستحکم کر لیا ہے، جن کی دستیابی قیمتوں کی پابندی کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئی تھی۔</p>
<p>قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے فیصلے پر موجود شکوک و شبہات کے برعکس، پچھلا سال ثابت کرتا ہے کہ یہ اقدام ایک اصلاح تھا، نہ کہ قیمتوں کو بے لگام چھوڑنے کا عمل۔</p>
<p>قومی فہرست برائے ضروری ادویات (این ای ایم ایل) میں شامل ضروری ادویات بدستور حکومتی کنٹرول میں ہیں تاکہ غریب طبقات کے لیے ان کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم غیر ضروری ادویات پر مصنوعی حدیں ختم کر کے حکومت نے مینوفیکچررز کا اعتماد بحال کیا اور پیداوار کی بحالی ممکن بنائی۔</p>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین کے مطابق یہ (ڈی ریگولیشن) قیمتیں بے قابو کرنے کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک ایسی صنعت کو بچانے کی کوشش تھی جو تباہی کے دہانے پر تھی، اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے ذریعے مریضوں کو معیاری ادویات تک رسائی دلانا مقصد تھا۔ ڈی ریگولیشن نے صنعت کی بقاء اور مریضوں کی رسائی کے درمیان توازن قائم کیا۔</p>
<p>مالی طور پر قابل عمل پیداوار کے نتیجے میں بہت سی اہم ادویات جو بند ہو چکی تھیں، اب دوبارہ دستیاب ہیں۔ آئی کیو وی آئی اے کے فروری 2025 کے اعدادوشمار کے مطابق ادویات کی فروخت میں سالانہ 3.79 فیصد اضافہ ہوا، جس سے یہ تاثر رد ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے رسائی کم کی ہے۔</p>
<p>سپلائی چین کے مستحکم ہونے سے جعلی اور غیر رجسٹرڈ متبادل ادویات کے پھیلاؤ پر بھی قابو پایا جا سکا ہے، جو ماضی میں قلت کے دوران بازار میں آ گئی تھیں۔</p>
<p><strong>ڈی ریگولیشن سے جدت اور سرمایہ کاری کو فروغ</strong></p>
<p>ڈی ریگولیشن کا معاشی اثر بھی مثبت رہا۔ مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کا منافع 5.6 گنا بڑھ کر 5.6 ارب روپے ہو گیا، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں صرف 1 ارب روپے تھا۔ یہ اضافہ بہتر منافع، کم مالیاتی اخراجات اور پیداواری کارکردگی کی وجہ سے ممکن ہوا۔</p>
<p>بڑھتے ہوئے منافع نے صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ پی پی ایم اے سے وابستہ کمپنیاں اپنی پیداواری سہولیات کو عالمی معیار (ڈبلیو ایچ او پی کیو اور پی آئی سی/ایس) پر لانے کے لیے تیزی سے اپ گریڈ کر رہی ہیں، جو پاکستان کو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی ریگولیٹڈ مارکیٹس میں برآمدات کے لیے تیار کر رہا ہے۔</p>
<p>پی پی ایم اے کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، اور اگر پالیسی استحکام برقرار رہا تو یہ برآمدات سال بھر میں ایک ارب ڈالر اور اگلے پانچ سال میں 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔</p>
<p>ایک پی پی ایم اے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی خریدار اب پاکستان کو ایک قابل بھروسہ اور معیاری سپلائر کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو صرف دو سال پہلے ممکن نہ تھا۔</p>
<p>صنعتی ذرائع کے مطابق، پاکستان اور افغانستان صحت کے شعبے میں تعاون پر متفق ہو رہے ہیں، جس سے پاکستان اپنے پڑوسی ملک میں 500 ملین ڈالر کی برآمدی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p><strong>اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کارکردگی</strong></p>
<p>ان مثبت پیش رفتوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کا رجحان بھی مثبت رہا۔ سال 2025 کے آغاز سے اب تک فارماسیوٹیکل سیکٹر کی قدر میں 194 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ کے ایس ای-100 انڈیکس کے 84 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ کئی سال بعد پہلی بار، فارما اسٹاکس پی ایس ایکس پر سرِفہرست ہیں۔</p>
<p>ہیلیون کے شیئرز میں 436 فیصد اضافہ ہوا، گلاکسو کے شیئرز 362 فیصد اوپر گئے، مکٹر میں 315 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ اے جی پی کے بارے میں توقع ہے کہ یہ سال 2025 میں بھی عمدہ کارکردگی جاری رکھے گی۔</p>
<p>پی پی ایم اے شعبے کے لیے ایک شفاف اور اصولوں پر مبنی قیمتوں کے تعین کے نظام کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ضروری ادویات کو سستا رکھنے  اور انکی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے ڈریپ اور وزارت صحت کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ مارکیٹ کے غلط استعمال کو روکا جا سکے، عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک جدت پسند ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>سابق چیئرمین پی پی ایم اے کے مطابق: “یہ صرف بحالی کی کہانی نہیں ہے — یہ ترقی کی کہانی ہے۔ ان اصلاحات نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو ایک نئی شناخت دی ہے: قابلِ مسابقت، قابلِ اعتماد اور مریض دوست۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272614</guid>
      <pubDate>Mon, 12 May 2025 12:36:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/121235441f2a58d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/121235441f2a58d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
