<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کردی گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت ”عوامی لیگ“ کی تمام سرگرمیوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ہفتے کی شب دیر گئے کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ان دنوں میں سامنے آیا ہے جب طالبعلموں کی قیادت میں قائم نئی جماعت ”نیشنل سٹیزن پارٹی“ نے سڑکوں پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، جو گزشتہ سال کی اُس عوامی بغاوت سے ابھری تھی جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ  اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں میں کئی مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتیں، جن میں جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن گروہ شامل ہیں، نے بھی شرکت کی اور عوامی لیگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عوامی لیگ اور اس کی قیادت کے خلاف انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل میں سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں پر مقدمہ مکمل نہیں ہو جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت اب یہ ٹریبیونل صرف افراد ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر بھی مقدمہ چلا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ترمیم عوامی لیگ کے خلاف اجتماعی حیثیت میں مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر دیتی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے اقتدار کے دوران متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1949 میں قائم ہونے والی عوامی لیگ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیس بک پیج پر بیان جاری کیا کہ غیر قانونی حکومت کے تمام فیصلے غیر قانونی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلادیش میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی اور مظاہروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگست میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو بھارت فرار ہونا پڑا اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد یونس نے اصلاحات کا وعدہ کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات 2026 تک مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیاسی ہنگامہ آرائی جولائی میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے شروع ہوئی تھی جو جلد ہی 1971 کی آزادی کے بعد کے سب سے خونریز سیاسی دور میں تبدیل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں حکومت نے عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم ”بنگلہ دیش چھاترا لیگ“ پر بھی پابندی عائد کر دی، اسے مظاہرین پر پرتشدد حملوں کے الزام میں ”دہشت گرد تنظیم“ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت ”عوامی لیگ“ کی تمام سرگرمیوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ہفتے کی شب دیر گئے کیا گیا۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ان دنوں میں سامنے آیا ہے جب طالبعلموں کی قیادت میں قائم نئی جماعت ”نیشنل سٹیزن پارٹی“ نے سڑکوں پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، جو گزشتہ سال کی اُس عوامی بغاوت سے ابھری تھی جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ  اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھیں۔</p>
<p>مظاہروں میں کئی مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتیں، جن میں جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن گروہ شامل ہیں، نے بھی شرکت کی اور عوامی لیگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عوامی لیگ اور اس کی قیادت کے خلاف انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل میں سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں پر مقدمہ مکمل نہیں ہو جاتا۔</p>
<p>ساتھ ہی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت اب یہ ٹریبیونل صرف افراد ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر بھی مقدمہ چلا سکے گا۔</p>
<p>یہ ترمیم عوامی لیگ کے خلاف اجتماعی حیثیت میں مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر دیتی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے اقتدار کے دوران متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔</p>
<p>1949 میں قائم ہونے والی عوامی لیگ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیس بک پیج پر بیان جاری کیا کہ غیر قانونی حکومت کے تمام فیصلے غیر قانونی ہیں۔</p>
<p>بنگلادیش میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی اور مظاہروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگست میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو بھارت فرار ہونا پڑا اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔</p>
<p>محمد یونس نے اصلاحات کا وعدہ کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات 2026 تک مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ سیاسی ہنگامہ آرائی جولائی میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے شروع ہوئی تھی جو جلد ہی 1971 کی آزادی کے بعد کے سب سے خونریز سیاسی دور میں تبدیل ہو گئی۔</p>
<p>اکتوبر میں حکومت نے عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم ”بنگلہ دیش چھاترا لیگ“ پر بھی پابندی عائد کر دی، اسے مظاہرین پر پرتشدد حملوں کے الزام میں ”دہشت گرد تنظیم“ قرار دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272583</guid>
      <pubDate>Sun, 11 May 2025 12:51:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/1112505786c655a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/1112505786c655a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
