<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات آج مسقط میں ہوں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272582/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح مذاکرات کار آج اتوار کو سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر پائے جانے والے اختلافات کو دور کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل ایران پر اپنا مؤقف مزید سخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا یہ چوتھا دور ہوگا، جس میں عمان ثالث کے طور پر شامل ہے۔ اگرچہ دونوں فریق سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن کئی حساس نکات پر سخت اختلافات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی مذاکرات کار وٹکوف نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ واشنگٹن کی ”ریڈ لائن“ یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں یورینیم کی افزودگی  جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے ایران کے نیوکلیئر پلانٹس — نطنز، فردو اور اصفہان — کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اتوار کو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ”ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر عباس عراقچی نے جواب میں کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ان مذاکرات کا مقصد ایران کے قانونی جوہری حقوق کو محدود کرنا ہے، تو ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق ایران کچھ پابندیاں قبول کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔ تاہم یورینیم کی افزودگی ختم کرنا یا ذخائر حوالے کرنا ایران کی ریڈ لائنز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکہ 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے ایران نے یورینیم کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح مذاکرات کار آج اتوار کو سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر پائے جانے والے اختلافات کو دور کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل ایران پر اپنا مؤقف مزید سخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا یہ چوتھا دور ہوگا، جس میں عمان ثالث کے طور پر شامل ہے۔ اگرچہ دونوں فریق سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن کئی حساس نکات پر سخت اختلافات برقرار ہیں۔</p>
<p>امریکی مذاکرات کار وٹکوف نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ واشنگٹن کی ”ریڈ لائن“ یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں یورینیم کی افزودگی  جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے ایران کے نیوکلیئر پلانٹس — نطنز، فردو اور اصفہان — کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اتوار کو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ”ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔“</p>
<p>ادھر عباس عراقچی نے جواب میں کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ان مذاکرات کا مقصد ایران کے قانونی جوہری حقوق کو محدود کرنا ہے، تو ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق ایران کچھ پابندیاں قبول کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔ تاہم یورینیم کی افزودگی ختم کرنا یا ذخائر حوالے کرنا ایران کی ریڈ لائنز ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے ایران نے یورینیم کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272582</guid>
      <pubDate>Sun, 11 May 2025 12:43:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/1112433465e998d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/1112433465e998d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
