<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاجر برادری نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کو ناکافی قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272412/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی چیمبر اور اسلام آباد چیمبر سمیت کاروباری برادری نے شرح سود میں صرف ایک فیصد کمی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو مہنگائی کی شرح کے مطابق 10 فیصد سے نیچے لایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرم شیخ نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 12 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کرنے کے اعلان کے بعد کہا کہ پالیسی سازوں کو اسے کم از کم 4 فیصد کم کرکے 7 سے 8 فیصد پر لانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی رجحان اور افراط زر کی مقامی شرح پر عمل کرنا چاہیے تھا جو گزشتہ 60 سال میں سب سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد چیمبر  کے صدر ناصر منصور قریشی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد تک کم کرنے کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ کاروباری برادری معاشی بحالی کو مؤثر سہارا دینے کے لیے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کی توقع کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر منصور قریشی نے تسلیم کیا کہ یہ اقدام درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے کیونکہ بلند شرح سود نے طویل عرصے سے کاروباری شعبے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر بوجھ ڈالا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی ریٹ کو 10 فیصد سے کم لانا نجی شعبے کا دیرینہ مطالبہ ہے تاکہ سستی فنانسنگ تک رسائی کو بہتر بنایا جاسکے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 11 فیصد تک کمی سے کاروباری اداروں کو کچھ راحت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے اجلاس کے بعد نئی شرح کا اعلان کیا جو جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 1000 بیسس پوائنٹس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، جب شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر قریشی نے نشاندہی کی کہ مارچ اور اپریل میں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی جو بڑی حد تک بجلی کے نرخوں میں کمی اور غذائی افراط زر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ہوئی، جو کہ شرح سود میں زیادہ جارحانہ کمی کے لیے مناسب جواز فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ معاشی اشاریوں کی کڑی نگرانی کرے اور مستقبل کے پالیسی فیصلوں میں کاروباری برادری کی ضروریات کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کم شرح سود سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی چیمبر اور اسلام آباد چیمبر سمیت کاروباری برادری نے شرح سود میں صرف ایک فیصد کمی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو مہنگائی کی شرح کے مطابق 10 فیصد سے نیچے لایا جائے۔</strong></p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرم شیخ نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 12 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کرنے کے اعلان کے بعد کہا کہ پالیسی سازوں کو اسے کم از کم 4 فیصد کم کرکے 7 سے 8 فیصد پر لانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی رجحان اور افراط زر کی مقامی شرح پر عمل کرنا چاہیے تھا جو گزشتہ 60 سال میں سب سے کم ہے۔</p>
<p>اسلام آباد چیمبر  کے صدر ناصر منصور قریشی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد تک کم کرنے کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ کاروباری برادری معاشی بحالی کو مؤثر سہارا دینے کے لیے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کی توقع کر رہی تھی۔</p>
<p>ناصر منصور قریشی نے تسلیم کیا کہ یہ اقدام درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے کیونکہ بلند شرح سود نے طویل عرصے سے کاروباری شعبے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر بوجھ ڈالا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی ریٹ کو 10 فیصد سے کم لانا نجی شعبے کا دیرینہ مطالبہ ہے تاکہ سستی فنانسنگ تک رسائی کو بہتر بنایا جاسکے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 11 فیصد تک کمی سے کاروباری اداروں کو کچھ راحت ملے گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے اجلاس کے بعد نئی شرح کا اعلان کیا جو جون 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 1000 بیسس پوائنٹس کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، جب شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔</p>
<p>ناصر قریشی نے نشاندہی کی کہ مارچ اور اپریل میں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی جو بڑی حد تک بجلی کے نرخوں میں کمی اور غذائی افراط زر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ہوئی، جو کہ شرح سود میں زیادہ جارحانہ کمی کے لیے مناسب جواز فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ معاشی اشاریوں کی کڑی نگرانی کرے اور مستقبل کے پالیسی فیصلوں میں کاروباری برادری کی ضروریات کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کم شرح سود سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272412</guid>
      <pubDate>Tue, 06 May 2025 15:21:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/06151415760d108.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/06151415760d108.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
