<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 14:11:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 14:11:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ سے دن بھر کی تیزی زائل، 100 انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272398/</link>
      <description>&lt;p&gt;**پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں اس کا بینچ مارک انڈیکس 533.73 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ اس پیشرفت سے قبل انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد مارکیٹ نے دن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور خریداری کے رجحان کے باعث انڈیکس 1,000 پوائنٹس سے زائد کے اضافے سے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 115,093.11 پوائنٹس تک جا پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں فروخت کا شدید دباؤ شروع ہوا جس کے سبب نہ صرف ابتدا میں ملنے والی مثبت برتری ختم ہوگئی بلکہ اس نے انڈیکس کو بھی منفی زون میں دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 533.73 پوائنٹس یا 0.47 فیصد کی کمی سے 113,568.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ کے رجحان میں تبدیلی کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تازہ جغرافیائی کشیدگی تھی جس سے نہ صرف سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئے بلکہ اس سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کا معاملہ بھی پس منظر میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انڈیکس کے ہیوی اسٹاکس یعنی پی پی ایل ، او جی ڈی سی ، پی ایس او ، یو بی ایل ، اور ایس وائی ایس کی بدولت انڈیکس میں مجموعی طور پر 275 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ ایل او سی، ایچ ایم بی، ایچ یو بی سی، ای ایف ای آر ٹی اور بی اے ایچ ایل جیسی کمپنیاں 427 پوائنٹس کی کمی کا سبب بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو پی ایس ایکس بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1000 سے زائد پوائنٹس کے خسارے  سے بحالی کے بعد 114,102.24 پوائنٹس کی ہموار سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر منگل کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں معمولی رد و بدل دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر نے ایشیائی کرنسیوں کے مقابلے میں حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی ٹیرف اور ان کے معاشی ترقی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات دوبارہ ظاہر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کے ساتھ ساتھ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے فراہمی بڑھانے کے وعدوں نے بھی خام تیل کی قیمتوں کو دباؤ میں رکھا، جو کہ اب تقریباً چار سال کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں توجہ اب کرنسی مارکیٹ پر مرکوز ہوگئی ہے، خاص طور پر تائیوان ڈالر کی حالیہ سیشنز میں اچانک قدر میں اضافے کے بعد۔ اس پیش رفت نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ خطے کی دیگر کرنسیوں کی قدر میں ممکنہ رد و بدل زیر غور ہے تاکہ امریکہ سے تجارتی رعایتیں حاصل کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان ڈالر کی قدر میں اس تیزی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑی سطح پر ڈالر سے وابستہ پوزیشنز ختم کی جارہی ہیں۔ یہ صورتحال اُن معیشتوں کی جانب بھی توجہ مبذول کراتی ہے جہاں کئی برسوں سے جاری تجارتی سرپلس کے باعث برآمد کنندگان اور انشورنس کمپنیوں نے بڑی تعداد میں ڈالر جمع کر رکھے تھے، جو اب غیر یقینی کا شکار ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو توجہ ہانگ کانگ کی جانب مبذول ہو گئی، جہاں عملی طور پر مرکزی بینک نے مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر سے منسلک رکھنے اور اس کی قدر میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے 7.8 ارب ڈالر کی مداخلت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹس میں ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کا سب سے وسیع انڈیکس (جس میں جاپان شامل نہیں) 0.2 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان میں تعطیل کے باعث مارکیٹ بند رہی۔ تائیوان کے اسٹاکس میں بھی 0.3 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی منڈیاں تعطیلات کے بعد کھلیں تو بلیو چِپ انڈیکس معمولی بہتری کے ساتھ کھلا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کی توجہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے امکانات پر مرکوز ہے کیونکہ بیجنگ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے محصولات پر بات چیت کی پیش کش کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن چند تفصیلات کے ساتھ ہی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی  اور سرمایہ کار وائٹ ہاؤس سے آنے والی شہ سرخیوں کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر روپیہ 281.37 روپے پر بند ہوا جو ڈالر کے مقابلے میں 15 پیسے کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ روز کے 399.54 ملین سے بڑھ کر 420.55 ملین ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 19.85 ارب روپے سے بڑھ کر 23.70 ارب روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی سدرن گیس 54.32 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، کے الیکٹرک لمیٹڈ 42.26 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے اور دیوان سیمنٹ 26.19 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو 453 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 188 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 218 میں کمی جبکہ 47 میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/05/06185353db23720.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>**پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں اس کا بینچ مارک انڈیکس 533.73 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ اس پیشرفت سے قبل انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد مارکیٹ نے دن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور خریداری کے رجحان کے باعث انڈیکس 1,000 پوائنٹس سے زائد کے اضافے سے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 115,093.11 پوائنٹس تک جا پہنچا تھا۔</p>
<p>تاہم کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں فروخت کا شدید دباؤ شروع ہوا جس کے سبب نہ صرف ابتدا میں ملنے والی مثبت برتری ختم ہوگئی بلکہ اس نے انڈیکس کو بھی منفی زون میں دھکیل دیا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 533.73 پوائنٹس یا 0.47 فیصد کی کمی سے 113,568.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ کے رجحان میں تبدیلی کی بنیادی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تازہ جغرافیائی کشیدگی تھی جس سے نہ صرف سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئے بلکہ اس سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کا معاملہ بھی پس منظر میں چلا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انڈیکس کے ہیوی اسٹاکس یعنی پی پی ایل ، او جی ڈی سی ، پی ایس او ، یو بی ایل ، اور ایس وائی ایس کی بدولت انڈیکس میں مجموعی طور پر 275 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ ایل او سی، ایچ ایم بی، ایچ یو بی سی، ای ایف ای آر ٹی اور بی اے ایچ ایل جیسی کمپنیاں 427 پوائنٹس کی کمی کا سبب بنیں۔</p>
<p>پیر کو پی ایس ایکس بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1000 سے زائد پوائنٹس کے خسارے  سے بحالی کے بعد 114,102.24 پوائنٹس کی ہموار سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>ادھر منگل کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں معمولی رد و بدل دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر نے ایشیائی کرنسیوں کے مقابلے میں حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی ٹیرف اور ان کے معاشی ترقی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات دوبارہ ظاہر کیے۔</p>
<p>ان خدشات کے ساتھ ساتھ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے فراہمی بڑھانے کے وعدوں نے بھی خام تیل کی قیمتوں کو دباؤ میں رکھا، جو کہ اب تقریباً چار سال کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔</p>
<p>ایشیا میں توجہ اب کرنسی مارکیٹ پر مرکوز ہوگئی ہے، خاص طور پر تائیوان ڈالر کی حالیہ سیشنز میں اچانک قدر میں اضافے کے بعد۔ اس پیش رفت نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ خطے کی دیگر کرنسیوں کی قدر میں ممکنہ رد و بدل زیر غور ہے تاکہ امریکہ سے تجارتی رعایتیں حاصل کی جاسکیں۔</p>
<p>تائیوان ڈالر کی قدر میں اس تیزی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑی سطح پر ڈالر سے وابستہ پوزیشنز ختم کی جارہی ہیں۔ یہ صورتحال اُن معیشتوں کی جانب بھی توجہ مبذول کراتی ہے جہاں کئی برسوں سے جاری تجارتی سرپلس کے باعث برآمد کنندگان اور انشورنس کمپنیوں نے بڑی تعداد میں ڈالر جمع کر رکھے تھے، جو اب غیر یقینی کا شکار ہوچکے ہیں۔</p>
<p>منگل کو توجہ ہانگ کانگ کی جانب مبذول ہو گئی، جہاں عملی طور پر مرکزی بینک نے مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر سے منسلک رکھنے اور اس کی قدر میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے 7.8 ارب ڈالر کی مداخلت کی۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹس میں ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کا سب سے وسیع انڈیکس (جس میں جاپان شامل نہیں) 0.2 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ جاپان میں تعطیل کے باعث مارکیٹ بند رہی۔ تائیوان کے اسٹاکس میں بھی 0.3 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>چینی منڈیاں تعطیلات کے بعد کھلیں تو بلیو چِپ انڈیکس معمولی بہتری کے ساتھ کھلا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کی توجہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے امکانات پر مرکوز ہے کیونکہ بیجنگ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے محصولات پر بات چیت کی پیش کش کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>لیکن چند تفصیلات کے ساتھ ہی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی  اور سرمایہ کار وائٹ ہاؤس سے آنے والی شہ سرخیوں کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر روپیہ 281.37 روپے پر بند ہوا جو ڈالر کے مقابلے میں 15 پیسے کی کمی ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ روز کے 399.54 ملین سے بڑھ کر 420.55 ملین ہو گیا۔</p>
<p>حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 19.85 ارب روپے سے بڑھ کر 23.70 ارب روپے ہوگئی۔</p>
<p>سوئی سدرن گیس 54.32 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، کے الیکٹرک لمیٹڈ 42.26 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے اور دیوان سیمنٹ 26.19 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔</p>
<p>منگل کو 453 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 188 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 218 میں کمی جبکہ 47 میں استحکام رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/05/06185353db23720.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272398</guid>
      <pubDate>Tue, 06 May 2025 19:25:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/06101121914247d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/06101121914247d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
