<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے پاکستان اور بھارت کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272389/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کو پاکستان اور بھارت کا سفر کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی اس سفری مشورے میں شہریوں کو پاکستان-بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب سفر کرنے سے خبردار کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہ علاقے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر خطرناک ہو سکتے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس خطے کا سفر ملتوی کر دیں جب تک حالات معمول پر نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے امریکہ نے بھی پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے لیے سفری مشورے جاری کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان-بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول کے قریب کسی بھی مقصد کے لیے سفر نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان اپنے اپنے حصے میں سرحد پر مضبوط فوجی موجودگی رکھتے ہیں۔ برطانوی ایڈوائزری  کے مطابق، بھارت اور پاکستان کے شہریوں کے لیے واحد سرکاری سرحدی گزرگاہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واگہ اور بھارت کے اٹاری کے درمیان واقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کو پاکستان اور بھارت کا سفر کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔</strong></p>
<p>پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی اس سفری مشورے میں شہریوں کو پاکستان-بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب سفر کرنے سے خبردار کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہ علاقے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر خطرناک ہو سکتے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس خطے کا سفر ملتوی کر دیں جب تک حالات معمول پر نہ آئیں۔</p>
<p>پہلے امریکہ نے بھی پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے لیے سفری مشورے جاری کیے تھے۔</p>
<p>جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان-بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول کے قریب کسی بھی مقصد کے لیے سفر نہ کریں۔</p>
<p>بھارت اور پاکستان اپنے اپنے حصے میں سرحد پر مضبوط فوجی موجودگی رکھتے ہیں۔ برطانوی ایڈوائزری  کے مطابق، بھارت اور پاکستان کے شہریوں کے لیے واحد سرکاری سرحدی گزرگاہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واگہ اور بھارت کے اٹاری کے درمیان واقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272389</guid>
      <pubDate>Tue, 06 May 2025 08:32:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آئی این پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/060831555641579.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/060831555641579.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
