<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 18:14:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 18:14:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے ساتھ کشیدگی: لفتھانزا، ایئر فرانس اور دیگر ایئرلائنز نے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال بند کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ماہ کئے گئے ہلاکت خیز حملے کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر ایئر فرانس اور جرمنی کی لفتھانسا ان عالمی ایئرلائنز میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرنا شروع کردیا ہے جیسا کہ پیر کے روز ایئرلائنز اور فلائٹ ٹریکرز سے ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے پاکستانی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے جیسے اقدامات کیے جبکہ پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملک کی پروازوں پر اپنی فضائی حدود میں پابندی عائد کردی، تجارت معطل کردی اور بھارتیوں کے لیے خصوصی ویزے روک دیے اگرچہ اس نے بین الاقوامی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں لفتھانزا گروپ کی ایئرلائنز نے کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کر رہی ہیں تاہم اس کے نتیجے میں ایشیا کے کچھ راستوں پر پروازوں کا دورانیہ طویل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ برٹش ایئرویز، سوئس انٹرنیشنل ایئر لائنز اور ایمریٹس کی کچھ پروازیں بحیرہ عرب میں سفر کرنے کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے بچنے کے لئے شمال کی طرف دہلی کی طرف مڑ رہی ہیں۔ برٹش ایئرویز اور ایمریٹس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فرانس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر لائن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی فضائی حدود میں پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے شیڈول اور منصوبوں میں تبدیلی کر رہی ہے، جن میں دہلی، بینکاک اور ہو چی منہ جیسے مقامات شامل ہیں اور ان تبدیلیوں کے باعث پروازوں کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق  لفتھانزا کی پرواز LH760، جو فرینکفرٹ سے نئی دہلی جا رہی تھی، اتوار کے روز ایک متبادل اور طویل راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹہ زیادہ پرواز میں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ فاصلے اور ایندھن کی اضافی لاگت کے علاوہ، ان تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر ملنے والی فیسوں میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے، جو ہر پرواز پر جہاز کے وزن اور فاصلے کے حساب سے سیکڑوں ڈالر تک جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مرکزی بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر 10.2 ارب ڈالر ہیں، جو بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ماہ کئے گئے ہلاکت خیز حملے کے بعد جوہری ہتھیاروں سے لیس حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر ایئر فرانس اور جرمنی کی لفتھانسا ان عالمی ایئرلائنز میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرنا شروع کردیا ہے جیسا کہ پیر کے روز ایئرلائنز اور فلائٹ ٹریکرز سے ظاہر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت نے پاکستانی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے جیسے اقدامات کیے جبکہ پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملک کی پروازوں پر اپنی فضائی حدود میں پابندی عائد کردی، تجارت معطل کردی اور بھارتیوں کے لیے خصوصی ویزے روک دیے اگرچہ اس نے بین الاقوامی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں لفتھانزا گروپ کی ایئرلائنز نے کہا ہے کہ وہ تاحکم ثانی پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کر رہی ہیں تاہم اس کے نتیجے میں ایشیا کے کچھ راستوں پر پروازوں کا دورانیہ طویل ہو جائے گا۔</p>
<p>فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ برٹش ایئرویز، سوئس انٹرنیشنل ایئر لائنز اور ایمریٹس کی کچھ پروازیں بحیرہ عرب میں سفر کرنے کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے بچنے کے لئے شمال کی طرف دہلی کی طرف مڑ رہی ہیں۔ برٹش ایئرویز اور ایمریٹس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ایئر فرانس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر لائن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی فضائی حدود میں پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے شیڈول اور منصوبوں میں تبدیلی کر رہی ہے، جن میں دہلی، بینکاک اور ہو چی منہ جیسے مقامات شامل ہیں اور ان تبدیلیوں کے باعث پروازوں کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے۔</p>
<p>فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق  لفتھانزا کی پرواز LH760، جو فرینکفرٹ سے نئی دہلی جا رہی تھی، اتوار کے روز ایک متبادل اور طویل راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹہ زیادہ پرواز میں رہی۔</p>
<p>زیادہ فاصلے اور ایندھن کی اضافی لاگت کے علاوہ، ان تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر ملنے والی فیسوں میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے، جو ہر پرواز پر جہاز کے وزن اور فاصلے کے حساب سے سیکڑوں ڈالر تک جا سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے مرکزی بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر 10.2 ارب ڈالر ہیں، جو بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272377</guid>
      <pubDate>Mon, 05 May 2025 16:59:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/051636530649d1d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/051636530649d1d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
