<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 15:22:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 15:22:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل این جی کی درآمد، پیٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کی تشکیل نو کی تجویز دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272349/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ 2018 کے بعد سے  پچھلے سات سالوں کے دوران اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہنے کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد پر کمیٹی کی تشکیل نو کی تجویز پیش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پیٹرولیم ڈویژن نے کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو آگاہ کیا کہ اگرچہ سی سی آئی کی قائم کردہ کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، تاہم کوئی اتفاق رائے یا رپورٹ تیار نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومت/ سی سی آئی کے تحت قائم کردہ کمیٹی تحلیل ہو چکی ہے۔ لہٰذا پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ اسی طے شدہ حدودِ کار (ٹی او آر) کے ساتھ کمیٹی کو دوبارہ تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق، جو سی سی آئی کے ساتھ شیئر کی گئیں، بین الصوبائی رابطہ کی وزارت  نے سی سی آئی کو آگاہ کیا کہ 2018 میں سندھ حکومت کی درخواست پر ایل این جی کی درآمد کا معاملہ سی سی آئی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت کے درج ذیل اہم تحفظات پیش کیے گئے اور ان پر غور کیا گیا:
(i) ایل این جی درآمدی شے نہیں بلکہ ایک گیس ہے، جس کے فیصلے سی سی آئی کے دائرہ کار میں آتے ہیں؛
(ii) سی سی آئی اور متعلقہ صوبے کی رضامندی کے بغیر آر ایل این جی کو مقامی گیس کے ساتھ تبدیل کرنا
(iii) پنجاب کے منصوبوں کو ایل این جی کی الاٹمنٹ؛
(iv) آر ایل این جی کی درآمد نے وفاقی حکومت کی توجہ تیل اور گیس کے مقامی وسائل کی تلاش سے ہٹا دی۔
(v) آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی؛
(vi) ایل این جی پالیسی 2011 کی دفعات 6.3 اور 8.1 میں ترمیم، جن کے تحت آر ایل این جی کی قیمت کو گیس کی اوسط لاگت کے تعین میں شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی آئی نے اپنی 39ویں میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ ایل این جی پالیسی اور سندھ حکومت کے مشاہدات کو آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ سی سی آئی کے 24 ستمبر 2018 کے فیصلے کے مطابق، ایل این جی پالیسی 2021 اور سندھ حکومت کا مؤقف پیٹرولیم ڈویژن نے 41ویں اجلاس میں 23 دسمبر 2019 کو پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی آئی نے اپنے 41ویں اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم  سندھ کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کریں گے تاکہ معاملے پر مزید بات ہو سکے، اور اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;42ویں اجلاس، جو 6 اگست 2020 کو ہوا، میں سی سی آئی نے عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;43ویں اجلاس، جو 11 نومبر 2020 کو منعقد ہوا، میں فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن/ وفاقی و صوبائی توانائی محکمے معاون خصوصی کی پیش کردہ پریزنٹیشن کے نکات پر مشاورت کریں گے اور مختلف تجاویز و ممکنہ حل ترتیب دے کر آئندہ اجلاس میں پیش کریں گے۔ اس عمل میں معاون خصوصی مرکزی کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;44ویں اجلاس، جو 7 اپریل 2021 کو منعقد ہوا، میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے وزیر، توانائی کے وزیر اور معاون خصوصی برائے توانائی و پیٹرولیم شامل ہوں گے، جو صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے مقامی گیس ذخائر میں کمی اور ملکی گیس کی بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی آئی کے 49ویں اجلاس، جو 13 جنوری 2022 کو منعقد ہوا، میں عمل درآمد کی صورتحال نوٹ کی گئی اور پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ 2018 کے بعد سے  پچھلے سات سالوں کے دوران اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہنے کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد پر کمیٹی کی تشکیل نو کی تجویز پیش کی ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے پیٹرولیم ڈویژن نے کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو آگاہ کیا کہ اگرچہ سی سی آئی کی قائم کردہ کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، تاہم کوئی اتفاق رائے یا رپورٹ تیار نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ادھر، نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومت/ سی سی آئی کے تحت قائم کردہ کمیٹی تحلیل ہو چکی ہے۔ لہٰذا پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ اسی طے شدہ حدودِ کار (ٹی او آر) کے ساتھ کمیٹی کو دوبارہ تشکیل دیا جائے۔</p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق، جو سی سی آئی کے ساتھ شیئر کی گئیں، بین الصوبائی رابطہ کی وزارت  نے سی سی آئی کو آگاہ کیا کہ 2018 میں سندھ حکومت کی درخواست پر ایل این جی کی درآمد کا معاملہ سی سی آئی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p>سندھ حکومت کے درج ذیل اہم تحفظات پیش کیے گئے اور ان پر غور کیا گیا:
(i) ایل این جی درآمدی شے نہیں بلکہ ایک گیس ہے، جس کے فیصلے سی سی آئی کے دائرہ کار میں آتے ہیں؛
(ii) سی سی آئی اور متعلقہ صوبے کی رضامندی کے بغیر آر ایل این جی کو مقامی گیس کے ساتھ تبدیل کرنا
(iii) پنجاب کے منصوبوں کو ایل این جی کی الاٹمنٹ؛
(iv) آر ایل این جی کی درآمد نے وفاقی حکومت کی توجہ تیل اور گیس کے مقامی وسائل کی تلاش سے ہٹا دی۔
(v) آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی؛
(vi) ایل این جی پالیسی 2011 کی دفعات 6.3 اور 8.1 میں ترمیم، جن کے تحت آر ایل این جی کی قیمت کو گیس کی اوسط لاگت کے تعین میں شامل کیا گیا۔</p>
<p>سی سی آئی نے اپنی 39ویں میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ ایل این جی پالیسی اور سندھ حکومت کے مشاہدات کو آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ سی سی آئی کے 24 ستمبر 2018 کے فیصلے کے مطابق، ایل این جی پالیسی 2021 اور سندھ حکومت کا مؤقف پیٹرولیم ڈویژن نے 41ویں اجلاس میں 23 دسمبر 2019 کو پیش کیا۔</p>
<p>سی سی آئی نے اپنے 41ویں اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم  سندھ کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کریں گے تاکہ معاملے پر مزید بات ہو سکے، اور اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔</p>
<p>42ویں اجلاس، جو 6 اگست 2020 کو ہوا، میں سی سی آئی نے عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔</p>
<p>43ویں اجلاس، جو 11 نومبر 2020 کو منعقد ہوا، میں فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن/ وفاقی و صوبائی توانائی محکمے معاون خصوصی کی پیش کردہ پریزنٹیشن کے نکات پر مشاورت کریں گے اور مختلف تجاویز و ممکنہ حل ترتیب دے کر آئندہ اجلاس میں پیش کریں گے۔ اس عمل میں معاون خصوصی مرکزی کردار ادا کریں گے۔</p>
<p>44ویں اجلاس، جو 7 اپریل 2021 کو منعقد ہوا، میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے وزیر، توانائی کے وزیر اور معاون خصوصی برائے توانائی و پیٹرولیم شامل ہوں گے، جو صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے مقامی گیس ذخائر میں کمی اور ملکی گیس کی بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔</p>
<p>سی سی آئی کے 49ویں اجلاس، جو 13 جنوری 2022 کو منعقد ہوا، میں عمل درآمد کی صورتحال نوٹ کی گئی اور پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272349</guid>
      <pubDate>Mon, 05 May 2025 08:21:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/05082129ccbe625.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/05082129ccbe625.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
