<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 03:29:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 03:29:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی محصولات: اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272338/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کچھ شراکت داروں پر 46 فیصد تک اور پاکستان پر 29 فیصد تک محصولات (ٹیرف) میں اضافے پر اب بھی ماہرینِ معیشت منقسم ہیں، تاہم ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس پالیسی نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کے رخ کو موڑ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصولات کی پہلی لہر متعارف کرائے جانے کے بعد کارپوریشنز اور سووینئر فنڈز نے امریکہ میں نئے کارخانوں، سپلائی چینز اور روزگار کے مواقع کے لیے 3 کھرب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 1.4 کھرب ڈالر، سعودی عرب کی جانب سے 600 ارب ڈالر اور ایپل کی طرف سے 500 ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اوریکل، سافٹ بینک، سیمنز، ٹی ایس ایم سی، جانسن اینڈ جانسن، ایلی للی، ہونڈا اور ہنڈائی جیسے بڑے اداروں کی طرف سے بھی اہم یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تیزی ٹرمپ کے اس یقین کو درست ثابت کرتی ہے کہ دنیا کی سب بڑی صارف مارکیٹ تک رسائی کوئی حق نہیں، بلکہ ایک خاص موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی معیشت میں محصولات (ٹیکس) کوئی نئی چیز نہیں۔ 1913 میں فیڈرل انکم ٹیکس کے آنے سے پہلے، حکومت کا خرچ انہی محصولات سے پورا ہوتا تھا اور انہی سے صنعتکاری کو فروغ ملا۔ لیکن 2000 کی دہائی کے آغاز تک، امریکہ میں اوسط درآمدی ڈیوٹی صرف 3 سے 4 فیصد رہ گئی تھی — جو بھارت یا یورپی یونین جیسے شراکت دار ممالک کے زیادہ ٹیرف کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد اب چین کو 34 فیصد، ویتنام کو 46 فیصد، یورپی یونین کو 20 فیصد اور پاکستان کو 29 فیصد تک محصولات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانے کی پیش گوئیاں ہیں کہ یہ اقدامات 2025 تک ہر سال 300 ارب ڈالر اور دس سالوں میں 3.2 کھرب (ٹریلین) ڈالر لا سکتے ہیں۔ یہ اقدامات عام قیمتوں میں اچانک اضافہ کرنے کے بجائے ایسے ٹیکس کی طرح کام کریں گے جو لوگوں کو امریکی چیزیں خریدنے کی طرف مائل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ اعداد و شمار ہوشربا ہیں۔ امریکہ ہر سال تقریباً 6 ارب ڈالر کی پاکستانی برآمدات خریدتا ہے، جو پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہیں۔ لیکن یہ برآمدات امریکہ کی 3.36 کھرب ڈالر کی درآمدات میں صرف 0.16 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات میں سے زیادہ تر (تقریباً 75 فیصد) ٹیکسٹائل پر مشتمل ہیں، اس کے بعد چمڑا، سرجیکل آلات، چاول اور سیمنٹ آتے ہیں۔ پاکستان کے حریف ممالک جیسے بنگلہ دیش اور ویتنام کو اب 46 فیصد تک ڈیوٹی دینا پڑ رہی ہے جبکہ بھارت کو تھوڑا فائدہ ہے کیونکہ اسے صرف 26 فیصد ڈیوٹی کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی فیکٹریاں اپنی مارکیٹ بچانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہیں مگر ساتھ ہی صبر کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ کو کی جانے والی برآمدات پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 1.5 فیصد حصہ ہیں۔ یہ کمزوری ماضی کی پالیسیوں کی غلطیوں اور بیرونی جھٹکوں دونوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم، ملبوسات (کپڑے) جو پہلے 22 فیصد ڈیوٹی پر امریکہ برآمد ہوتی تھیں اب تقریباً 49 فیصد پر پہنچ جائیں گی — اور یہ اضافہ چھوٹے منافع والی صنعتوں کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑی پاکستانی ملیں چین اور ویتنام سے آنے والے آرڈرز پر انحصار کر رہی ہیں۔ بروکریج ریسرچ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ انٹرلوپ، گل احمد، نشاط ملز اور کوہ نور ٹیکسٹائل جیسی لسٹڈ کمپنیوں کو مارجن میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر وہ ویلیو چین میں بہتری نہ  لائیں یا اخراجات خریداروں پر منتقل نہ کریں۔ اہم ملبوسات کے کوڈ61، 62، 63 اور 52 میں بھارت کی تین پوائنٹس کی ٹیرف برتری مسابقتی برتری کو مزید تقویت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں پاکستانی برآمدات میں آرڈرز کم ہو جائیں گے اور کیش فلو (رقم کی دستیابی) کا دباؤ بڑھے گا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سستی توانائی یا سبسڈی والے قرضے ہی برآمدکنندگان کو مقابلے میں برقرار رکھ سکتے ہیں — لیکن یہی اقدامات وہ ہیں جن کی منظوری آئی ایم ایف سے ملنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے جو راستہ چُنا ہے وہ جوابی کارروائی نہیں بلکہ سفارتی بات چیت ہے۔ اگرچہ پاکستان پہلے ہی امریکی اشیاء پر اوسطاً 58 فیصد ڈیوٹی لگا رہا ہے — جو دوسرے ممالک کے ساتھ 7.3 فیصد کی اوسط سے کہیں زیادہ ہے — مگر حکام کو امید ہے کہ اگر وہ یہ واضح کریں کہ امریکہ کی روئی بغیر کسی ڈیوٹی کے، سویا بین صرف 3.25 فیصد پر، اور گوشت 5 سے 10 فیصد ڈیوٹی پر آتا ہے جبکہ پاکستان کے تیار شدہ کپڑے 50 فیصد کے قریب ٹیرف کا سامنا کرتے ہیں، تو شاید مخصوص اشیاء کے لیے کچھ ریلیف حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں ایک ٹیم نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکی تجارتی نمائندے سے مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر صورتحال اب بھی قابو میں ہے۔ 2024 میں پاک امریکہ دو طرفہ تجارت 7.3 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ ایک ہی خریدار (یعنی امریکہ) پاکستان کی تقریباً 20 فیصد برآمدات پر اثر انداز ہوتا ہے اور اگر برآمدات کا صرف 1 فیصد بھی کم ہو جائے تو یہ اُن علاقوں میں روزگار پر ضرب لگاتا ہے جو پہلے ہی بجلی کی بندش اور پرانی مشینری جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے حکام دو رخی حکمت عملی کی بات کر رہے ہیں۔ پہلی یہ کہ امریکہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھی جائے، شاید اس طرح کہ کچھ خام مال امریکہ سے منگوایا جائے تاکہ رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔ دوسرا یہ کہ برآمدات کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں: یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کا فائدہ اٹھایا جائے، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے علاقوں میں مخصوص طلب کو ہدف بنایا جائے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو استعمال کرتے ہوئے مقامی صنعتوں کو علاقائی سپلائی چینز سے جوڑا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام اقدامات کے لیے ملک کے اندر ایک مضبوط صنعتی پالیسی کی ضرورت ہوگی، جس میں ٹیرف کو آسان بنایا جائے، پیچیدگیوں کو ختم کیا جائے، ٹیکنالوجی میں بہتری کے لیے آسان قرضے دیے جائیں اور کپاس کے علاوہ دیگر شعبوں جیسے تانبا، فرنیچر، اور تیار شدہ خوراک کی بھرپور تشہیر کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی مارکیٹیں اب بھی ان فیصلوں کے اثرات کا اندازہ لگا رہی ہیں۔ ٹیرف اعلان کے بعد تیل کی قیمت میں سات فیصد کمی ہوئی، بانڈز کی پیداوار کم ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ غیر یقینی کا شکار ہوئی کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ سخت تجارتی رکاوٹیں عالمی مانگ کو اتنا کم کر سکتی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود کم کرنا پڑ جائے — ایسا نتیجہ جو واشنگٹن کو اپنے بڑھتے ہوئے قرض کو سستے داموں دوبارہ فنانس کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجہ کچھ بھی ہو، اب دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جس عالمی نظام نے آزاد تجارت کو معمول بنا دیا تھا وہ اب ایک ایسی سپر پاور سے نمنٹے کی  کوشش کررہی ہے جو اپنی صارف مارکیٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے سبق بالکل واضح ہے۔ ہم ٹرمپ کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ وہ امریکہ کے عوام کے ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے ہیں اور اُنہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی قوم کے مفاد میں جو فیصلہ بہتر سمجھیں، وہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے لیے 29 فیصد ٹیرف ایک ایسا دھچکہ ہے جو ہمیں گرائے گا نہیں تو شدید نقصان ضرور پہنچائے گا۔ یہ ہماری غفلت کی قیمت بتارہا ہے — ہماری محدود برآمدات، ایک ہی بڑے خریدار پر انحصار، اور اتنی مالی گنجائش نہ ہونا کہ ہم ایسے جھٹکوں کو آسانی سے برداشت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اگر اس مشکل وقت کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ ہمارے لیے ایک موقع بن سکتا ہے کہ ہم اپنی فیکٹریاں بہتر بنائیں، نئی قسم کی چیزیں بنانا شروع کریں، اور زیادہ فائدہ مند تجارتی معاہدے کریں۔ لیکن اگر ہم نے کچھ نہ کیا، تو جو مارکیٹ ہم نے بڑی محنت سے حاصل کی ہے، وہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ایسے ملک کے ہاتھ لگ سکتی ہے جو تیزی سے امریکہ کو چیزیں فراہم کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کچھ شراکت داروں پر 46 فیصد تک اور پاکستان پر 29 فیصد تک محصولات (ٹیرف) میں اضافے پر اب بھی ماہرینِ معیشت منقسم ہیں، تاہم ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس پالیسی نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کے رخ کو موڑ دیا ہے۔</strong></p>
<p>محصولات کی پہلی لہر متعارف کرائے جانے کے بعد کارپوریشنز اور سووینئر فنڈز نے امریکہ میں نئے کارخانوں، سپلائی چینز اور روزگار کے مواقع کے لیے 3 کھرب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 1.4 کھرب ڈالر، سعودی عرب کی جانب سے 600 ارب ڈالر اور ایپل کی طرف سے 500 ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اوریکل، سافٹ بینک، سیمنز، ٹی ایس ایم سی، جانسن اینڈ جانسن، ایلی للی، ہونڈا اور ہنڈائی جیسے بڑے اداروں کی طرف سے بھی اہم یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔</p>
<p>حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تیزی ٹرمپ کے اس یقین کو درست ثابت کرتی ہے کہ دنیا کی سب بڑی صارف مارکیٹ تک رسائی کوئی حق نہیں، بلکہ ایک خاص موقع ہے۔</p>
<p>امریکی معیشت میں محصولات (ٹیکس) کوئی نئی چیز نہیں۔ 1913 میں فیڈرل انکم ٹیکس کے آنے سے پہلے، حکومت کا خرچ انہی محصولات سے پورا ہوتا تھا اور انہی سے صنعتکاری کو فروغ ملا۔ لیکن 2000 کی دہائی کے آغاز تک، امریکہ میں اوسط درآمدی ڈیوٹی صرف 3 سے 4 فیصد رہ گئی تھی — جو بھارت یا یورپی یونین جیسے شراکت دار ممالک کے زیادہ ٹیرف کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد اب چین کو 34 فیصد، ویتنام کو 46 فیصد، یورپی یونین کو 20 فیصد اور پاکستان کو 29 فیصد تک محصولات کا سامنا ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانے کی پیش گوئیاں ہیں کہ یہ اقدامات 2025 تک ہر سال 300 ارب ڈالر اور دس سالوں میں 3.2 کھرب (ٹریلین) ڈالر لا سکتے ہیں۔ یہ اقدامات عام قیمتوں میں اچانک اضافہ کرنے کے بجائے ایسے ٹیکس کی طرح کام کریں گے جو لوگوں کو امریکی چیزیں خریدنے کی طرف مائل کرے گا۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ اعداد و شمار ہوشربا ہیں۔ امریکہ ہر سال تقریباً 6 ارب ڈالر کی پاکستانی برآمدات خریدتا ہے، جو پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہیں۔ لیکن یہ برآمدات امریکہ کی 3.36 کھرب ڈالر کی درآمدات میں صرف 0.16 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی برآمدات میں سے زیادہ تر (تقریباً 75 فیصد) ٹیکسٹائل پر مشتمل ہیں، اس کے بعد چمڑا، سرجیکل آلات، چاول اور سیمنٹ آتے ہیں۔ پاکستان کے حریف ممالک جیسے بنگلہ دیش اور ویتنام کو اب 46 فیصد تک ڈیوٹی دینا پڑ رہی ہے جبکہ بھارت کو تھوڑا فائدہ ہے کیونکہ اسے صرف 26 فیصد ڈیوٹی کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی فیکٹریاں اپنی مارکیٹ بچانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کار صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہیں مگر ساتھ ہی صبر کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ کو کی جانے والی برآمدات پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 1.5 فیصد حصہ ہیں۔ یہ کمزوری ماضی کی پالیسیوں کی غلطیوں اور بیرونی جھٹکوں دونوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم، ملبوسات (کپڑے) جو پہلے 22 فیصد ڈیوٹی پر امریکہ برآمد ہوتی تھیں اب تقریباً 49 فیصد پر پہنچ جائیں گی — اور یہ اضافہ چھوٹے منافع والی صنعتوں کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے۔</p>
<p>یہ دباؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑی پاکستانی ملیں چین اور ویتنام سے آنے والے آرڈرز پر انحصار کر رہی ہیں۔ بروکریج ریسرچ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ انٹرلوپ، گل احمد، نشاط ملز اور کوہ نور ٹیکسٹائل جیسی لسٹڈ کمپنیوں کو مارجن میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر وہ ویلیو چین میں بہتری نہ  لائیں یا اخراجات خریداروں پر منتقل نہ کریں۔ اہم ملبوسات کے کوڈ61، 62، 63 اور 52 میں بھارت کی تین پوائنٹس کی ٹیرف برتری مسابقتی برتری کو مزید تقویت دیتی ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں پاکستانی برآمدات میں آرڈرز کم ہو جائیں گے اور کیش فلو (رقم کی دستیابی) کا دباؤ بڑھے گا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سستی توانائی یا سبسڈی والے قرضے ہی برآمدکنندگان کو مقابلے میں برقرار رکھ سکتے ہیں — لیکن یہی اقدامات وہ ہیں جن کی منظوری آئی ایم ایف سے ملنا مشکل ہے۔</p>
<p>اسلام آباد نے جو راستہ چُنا ہے وہ جوابی کارروائی نہیں بلکہ سفارتی بات چیت ہے۔ اگرچہ پاکستان پہلے ہی امریکی اشیاء پر اوسطاً 58 فیصد ڈیوٹی لگا رہا ہے — جو دوسرے ممالک کے ساتھ 7.3 فیصد کی اوسط سے کہیں زیادہ ہے — مگر حکام کو امید ہے کہ اگر وہ یہ واضح کریں کہ امریکہ کی روئی بغیر کسی ڈیوٹی کے، سویا بین صرف 3.25 فیصد پر، اور گوشت 5 سے 10 فیصد ڈیوٹی پر آتا ہے جبکہ پاکستان کے تیار شدہ کپڑے 50 فیصد کے قریب ٹیرف کا سامنا کرتے ہیں، تو شاید مخصوص اشیاء کے لیے کچھ ریلیف حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں ایک ٹیم نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکی تجارتی نمائندے سے مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالے۔</p>
<p>مجموعی طور پر صورتحال اب بھی قابو میں ہے۔ 2024 میں پاک امریکہ دو طرفہ تجارت 7.3 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ ایک ہی خریدار (یعنی امریکہ) پاکستان کی تقریباً 20 فیصد برآمدات پر اثر انداز ہوتا ہے اور اگر برآمدات کا صرف 1 فیصد بھی کم ہو جائے تو یہ اُن علاقوں میں روزگار پر ضرب لگاتا ہے جو پہلے ہی بجلی کی بندش اور پرانی مشینری جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔</p>
<p>اسی لیے حکام دو رخی حکمت عملی کی بات کر رہے ہیں۔ پہلی یہ کہ امریکہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھی جائے، شاید اس طرح کہ کچھ خام مال امریکہ سے منگوایا جائے تاکہ رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔ دوسرا یہ کہ برآمدات کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں: یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کا فائدہ اٹھایا جائے، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے علاقوں میں مخصوص طلب کو ہدف بنایا جائے اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو استعمال کرتے ہوئے مقامی صنعتوں کو علاقائی سپلائی چینز سے جوڑا جائے۔</p>
<p>ان تمام اقدامات کے لیے ملک کے اندر ایک مضبوط صنعتی پالیسی کی ضرورت ہوگی، جس میں ٹیرف کو آسان بنایا جائے، پیچیدگیوں کو ختم کیا جائے، ٹیکنالوجی میں بہتری کے لیے آسان قرضے دیے جائیں اور کپاس کے علاوہ دیگر شعبوں جیسے تانبا، فرنیچر، اور تیار شدہ خوراک کی بھرپور تشہیر کی جائے۔</p>
<p>دنیا بھر کی مارکیٹیں اب بھی ان فیصلوں کے اثرات کا اندازہ لگا رہی ہیں۔ ٹیرف اعلان کے بعد تیل کی قیمت میں سات فیصد کمی ہوئی، بانڈز کی پیداوار کم ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ غیر یقینی کا شکار ہوئی کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ سخت تجارتی رکاوٹیں عالمی مانگ کو اتنا کم کر سکتی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود کم کرنا پڑ جائے — ایسا نتیجہ جو واشنگٹن کو اپنے بڑھتے ہوئے قرض کو سستے داموں دوبارہ فنانس کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔</p>
<p>وجہ کچھ بھی ہو، اب دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جس عالمی نظام نے آزاد تجارت کو معمول بنا دیا تھا وہ اب ایک ایسی سپر پاور سے نمنٹے کی  کوشش کررہی ہے جو اپنی صارف مارکیٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے سبق بالکل واضح ہے۔ ہم ٹرمپ کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ وہ امریکہ کے عوام کے ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے ہیں اور اُنہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی قوم کے مفاد میں جو فیصلہ بہتر سمجھیں، وہ کریں۔</p>
<p>ہمارے لیے 29 فیصد ٹیرف ایک ایسا دھچکہ ہے جو ہمیں گرائے گا نہیں تو شدید نقصان ضرور پہنچائے گا۔ یہ ہماری غفلت کی قیمت بتارہا ہے — ہماری محدود برآمدات، ایک ہی بڑے خریدار پر انحصار، اور اتنی مالی گنجائش نہ ہونا کہ ہم ایسے جھٹکوں کو آسانی سے برداشت کر سکیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اگر اس مشکل وقت کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ ہمارے لیے ایک موقع بن سکتا ہے کہ ہم اپنی فیکٹریاں بہتر بنائیں، نئی قسم کی چیزیں بنانا شروع کریں، اور زیادہ فائدہ مند تجارتی معاہدے کریں۔ لیکن اگر ہم نے کچھ نہ کیا، تو جو مارکیٹ ہم نے بڑی محنت سے حاصل کی ہے، وہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ایسے ملک کے ہاتھ لگ سکتی ہے جو تیزی سے امریکہ کو چیزیں فراہم کر سکے۔</p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272338</guid>
      <pubDate>Sun, 04 May 2025 14:55:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/0414485945f7f11.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/0414485945f7f11.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
