<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 20:22:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 20:22:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں اسرائیلی بمباری سے بچوں سمیت 11 افراد شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272319/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتے کے روز کہاہے کہ خان یونس پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 11 افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں ایک برس کی عمر تک کے 3 بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کیمپ میں البیرم خاندان کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں 11 افراد نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد باسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شہید ہونے والوں میں سے آٹھ کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان سب کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں ایک لڑکا اور لڑکی، دونوں ایک سالہ بچہ اور ایک ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں حماس کے رکن کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائے وقوعہ پر امدادی کارکن مشعلیں روشن کرکے لاشیں نکالنے کیلئے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے ایک صحافی کی جانب سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ریسکیو اہلکار ملبے سے ایک نوزائیدہ بچے کی لاش نکال کر لے جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریبی عمارت کی رہائشی فائقہ ابو حطاب نے بتایا کہ انہوں نے ایک تیز روشنی دیکھی، پھر ایک دھماکہ ہوا اور پورے علاقے کو دھویں کے بادلوں نے لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابو حطاب نے کہا کہ ہم کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، ہر طرف تاریکی پھیل گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تمام کھڑکیاں تباہ ہو گئیں، ہمارے کمرے تباہ ہو گئے، پڑوسیوں کا گھر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد 18 مارچ کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اپنی مہم دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے اب تک کم از کم 2,396 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 52،495 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں جنگ سے تباہ حال علاقے میں کم از کم 42 افراد شہید ہوئے جو 2 مارچ سے مکمل طور پر اسرائیلی ناکہ بندی کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے غزہ کو امداد کی فراہمی روک دی ہے کہ حماس نے رسد کا رخ موڑ دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد جنگجوؤں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں قید یرغمالیوں کو رہا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے اداروں نے عائد پابندیاں اٹھانے کیلئے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے باشندے انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتے کے روز کہاہے کہ خان یونس پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 11 افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں ایک برس کی عمر تک کے 3 بچے بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کیمپ میں البیرم خاندان کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں 11 افراد نشانہ بنے۔</p>
<p>محمد باسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شہید ہونے والوں میں سے آٹھ کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان سب کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں ایک لڑکا اور لڑکی، دونوں ایک سالہ بچہ اور ایک ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں حماس کے رکن کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>جائے وقوعہ پر امدادی کارکن مشعلیں روشن کرکے لاشیں نکالنے کیلئے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتے رہے۔</p>
<p>اے ایف پی کے ایک صحافی کی جانب سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ریسکیو اہلکار ملبے سے ایک نوزائیدہ بچے کی لاش نکال کر لے جارہا ہے۔</p>
<p>قریبی عمارت کی رہائشی فائقہ ابو حطاب نے بتایا کہ انہوں نے ایک تیز روشنی دیکھی، پھر ایک دھماکہ ہوا اور پورے علاقے کو دھویں کے بادلوں نے لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>ابو حطاب نے کہا کہ ہم کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، ہر طرف تاریکی پھیل گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تمام کھڑکیاں تباہ ہو گئیں، ہمارے کمرے تباہ ہو گئے، پڑوسیوں کا گھر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>اسرائیل نے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد 18 مارچ کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی۔</p>
<p>غزہ کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اپنی مہم دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے اب تک کم از کم 2,396 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 52،495 ہو گئی ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں جنگ سے تباہ حال علاقے میں کم از کم 42 افراد شہید ہوئے جو 2 مارچ سے مکمل طور پر اسرائیلی ناکہ بندی کی زد میں ہے۔</p>
<p>اسرائیل نے یہ کہتے ہوئے غزہ کو امداد کی فراہمی روک دی ہے کہ حماس نے رسد کا رخ موڑ دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد جنگجوؤں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں قید یرغمالیوں کو رہا کریں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے اداروں نے عائد پابندیاں اٹھانے کیلئے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے باشندے انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272319</guid>
      <pubDate>Sat, 03 May 2025 20:25:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/032024479d9254b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/032024479d9254b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
