<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلگام واقعے کے بعد، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، بھارت نے جارحانہ سفارتی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا۔ ان انتقامی اقدامات میں، بھارت نے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو بھی معطل کر دیا، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کے اس اقدام کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتی ہے، خاص طور پر درج ذیل نکات کے پیش نظر:&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے یہ اقدام پہلگام سانحے کے فوراً بعد اس وقت اٹھایا جب پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی قابلِ اعتبار شواہد موجود نہیں تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے اس واقعے کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا تاکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے لیے ایک جواز پیدا کیا جا سکے۔ یہ طرزِ عمل اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ انسانی المیے کو سیاسی و سفارتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، جو کہ بین الاقوامی اصولوں اور روایات کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;• سندھ طاس معاہدہ تین فریقوں کے درمیان ہے - بھارت، پاکستان اور عالمی بینک تیسرے فریق کے ضامن کے طور پر۔ بھارت نے یہ فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا جو معاہدے کی قانونی حیثیت اور پاکستان اور ورلڈ بینک کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان کے درمیان معاہدے میں تنازعات کے حل اور ثالثی کی ایک شق شامل ہے، جس میں عالمی بینک تیسرے فریق کے ضامن اور ریفری کے طور پر شامل ہے۔ تنازعات کی صورت میں ، تنازعات کو درج کرنے کے لئے یہ چینل مقرر کیا گیا ہے۔ معاہدے کی معطلی استعمال کرنے کا آپشن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ بالا تین حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور جب اسے بین الاقوامی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تو اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی ایک غیر ذمے دارانہ اقدام ہے، جس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اب یہ معاہدہ ایک معلق حالت میں ہے، جو ہر فریق کو دوسرے کے آبی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا موقع فراہم کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں صورتحال سنگین فوجی تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، مودی حکومت کا اگلا ایجنڈا سندھ طاس معاہدے میں اپنے مفاد کے مطابق تبدیلیاں لانا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بھارت اس سمت میں شدید دباؤ ڈال رہا تھا، لیکن پاکستان کی طرف سے خاموشی نے بھارت کو مایوس کیا۔ پہلگام واقعہ بھارت کے لیے اس عمل کو تیز کرنے کا ایک موقع بن کر سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بھارت نے ایک اضافی بیانیہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا ہے تاکہ اپنے عوام کو پاکستان مخالف جذبات سے ابھارا جا سکے۔ بھارت کے آبی وسائل کے وزیر، چندرکانت راگھوناتھ پاٹل نے ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:”ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھارت میں نعرہ گونج رہا ہے: ”پاکستان کے لیے ایک قطرہ پانی بھی نہیں“، جو پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کو ایک تیسرے فریق کی حیثیت سے ضامن بنا کر طے پایا، ایک ایسا معاہدہ ہے جو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ یہ دریا دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں اور تنازعات کے باوجود قائم رہا، اور اسے اکثر بین الاقوامی سطح پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے کامیاب نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ معاہدے کی یک طرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کے تحت کئی سوالات کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر چونکہ اسے عالمی بینک کی توثیق حاصل ہے۔ بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت ایسے معاہدوں کی پاسداری لازم ہے، جب تک کہ دونوں فریق باہمی رضامندی سے اس میں ترمیم پر متفق نہ ہوں۔ یک طرفہ معطلی اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز، جیسے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف یا بین الاقوامی ثالثی کے اداروں میں لے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلگام واقعے کے فوراً بعد، بھارت کی وزارتِ آبی وسائل کی سیکرٹری نے پاکستان کی وزارتِ آبی وسائل کے ہم منصب کو ایک خط ارسال کیا، جس میں بھارت نے باضابطہ طور پر پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی معطلی کے لیے پیش کیے گئے متعدد وجوہات میں سے، بھارتی حکومت کی جانب سے دی گئی اطلاع میں اس فیصلے کو قومی سلامتی کے خدشات اور اس مبینہ سرحد پار دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے جو بقول بھارت، پاکستان کی سرزمین سے انجام دی جاتی ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ مذاکرات کے لیے کھولا جائے تاکہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر رعایتیں حاصل کر سکے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنی نئی حاصل کردہ معاشی طاقت اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس ایک مضبوط اور ٹھوس قانونی بنیاد موجود ہے جس کی بنا پر وہ بھارت کے اس یک طرفہ اور جارحانہ اقدام — یعنی سندھ طاس معاہدے کی معطلی — کو بین الاقوامی عدالت انصاف یا کسی بین الاقوامی ثالثی فورم میں چیلنج کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ جب حالات کچھ سنبھلیں گے، تو پاکستان اور بھارت کو ناگزیر طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا تاکہ 1960 کے معاہدے کی ایک مخصوص شق کے تحت سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف یا بین الاقوامی ثالثی فورمز میں کامیابی اسے مذاکرات کی میز پر ایک مضبوط پوزیشن فراہم کرسکتی ہے اور بھارت کی جانب سے معاہدے کو دوبارہ مذاکرات کے لیے لانے کے لیے استعمال کی جانے والی کچھ مفروضوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پہلگام واقعے کے بعد، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، بھارت نے جارحانہ سفارتی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا۔ ان انتقامی اقدامات میں، بھارت نے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو بھی معطل کر دیا، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔</strong></p>
<p>سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کے اس اقدام کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتی ہے، خاص طور پر درج ذیل نکات کے پیش نظر:</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>بھارت نے یہ اقدام پہلگام سانحے کے فوراً بعد اس وقت اٹھایا جب پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی قابلِ اعتبار شواہد موجود نہیں تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے اس واقعے کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا تاکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے لیے ایک جواز پیدا کیا جا سکے۔ یہ طرزِ عمل اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ انسانی المیے کو سیاسی و سفارتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، جو کہ بین الاقوامی اصولوں اور روایات کے خلاف ہے۔</p>
</blockquote>
<p>• سندھ طاس معاہدہ تین فریقوں کے درمیان ہے - بھارت، پاکستان اور عالمی بینک تیسرے فریق کے ضامن کے طور پر۔ بھارت نے یہ فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا جو معاہدے کی قانونی حیثیت اور پاکستان اور ورلڈ بینک کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>بھارت اور پاکستان کے درمیان معاہدے میں تنازعات کے حل اور ثالثی کی ایک شق شامل ہے، جس میں عالمی بینک تیسرے فریق کے ضامن اور ریفری کے طور پر شامل ہے۔ تنازعات کی صورت میں ، تنازعات کو درج کرنے کے لئے یہ چینل مقرر کیا گیا ہے۔ معاہدے کی معطلی استعمال کرنے کا آپشن نہیں ہے۔</p>
<p>مذکورہ بالا تین حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور جب اسے بین الاقوامی ثالثی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا تو اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p>مزید برآں، بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی ایک غیر ذمے دارانہ اقدام ہے، جس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اب یہ معاہدہ ایک معلق حالت میں ہے، جو ہر فریق کو دوسرے کے آبی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا موقع فراہم کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں صورتحال سنگین فوجی تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، مودی حکومت کا اگلا ایجنڈا سندھ طاس معاہدے میں اپنے مفاد کے مطابق تبدیلیاں لانا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بھارت اس سمت میں شدید دباؤ ڈال رہا تھا، لیکن پاکستان کی طرف سے خاموشی نے بھارت کو مایوس کیا۔ پہلگام واقعہ بھارت کے لیے اس عمل کو تیز کرنے کا ایک موقع بن کر سامنے آیا۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بھارت نے ایک اضافی بیانیہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا ہے تاکہ اپنے عوام کو پاکستان مخالف جذبات سے ابھارا جا سکے۔ بھارت کے آبی وسائل کے وزیر، چندرکانت راگھوناتھ پاٹل نے ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:”ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے۔“</p>
<p>اب بھارت میں نعرہ گونج رہا ہے: ”پاکستان کے لیے ایک قطرہ پانی بھی نہیں“، جو پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کو ایک تیسرے فریق کی حیثیت سے ضامن بنا کر طے پایا، ایک ایسا معاہدہ ہے جو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ یہ دریا دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p>یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں اور تنازعات کے باوجود قائم رہا، اور اسے اکثر بین الاقوامی سطح پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے کامیاب نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ معاہدے کی یک طرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کے تحت کئی سوالات کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر چونکہ اسے عالمی بینک کی توثیق حاصل ہے۔ بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت ایسے معاہدوں کی پاسداری لازم ہے، جب تک کہ دونوں فریق باہمی رضامندی سے اس میں ترمیم پر متفق نہ ہوں۔ یک طرفہ معطلی اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز، جیسے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف یا بین الاقوامی ثالثی کے اداروں میں لے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p>پہلگام واقعے کے فوراً بعد، بھارت کی وزارتِ آبی وسائل کی سیکرٹری نے پاکستان کی وزارتِ آبی وسائل کے ہم منصب کو ایک خط ارسال کیا، جس میں بھارت نے باضابطہ طور پر پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے آگاہ کیا۔</p>
<p>معاہدے کی معطلی کے لیے پیش کیے گئے متعدد وجوہات میں سے، بھارتی حکومت کی جانب سے دی گئی اطلاع میں اس فیصلے کو قومی سلامتی کے خدشات اور اس مبینہ سرحد پار دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے جو بقول بھارت، پاکستان کی سرزمین سے انجام دی جاتی ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ مذاکرات کے لیے کھولا جائے تاکہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر رعایتیں حاصل کر سکے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنی نئی حاصل کردہ معاشی طاقت اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس ایک مضبوط اور ٹھوس قانونی بنیاد موجود ہے جس کی بنا پر وہ بھارت کے اس یک طرفہ اور جارحانہ اقدام — یعنی سندھ طاس معاہدے کی معطلی — کو بین الاقوامی عدالت انصاف یا کسی بین الاقوامی ثالثی فورم میں چیلنج کر سکتا ہے۔</p>
<p>بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ جب حالات کچھ سنبھلیں گے، تو پاکستان اور بھارت کو ناگزیر طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا تاکہ 1960 کے معاہدے کی ایک مخصوص شق کے تحت سندھ طاس معاہدے پر نظرِ ثانی کی جا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف یا بین الاقوامی ثالثی فورمز میں کامیابی اسے مذاکرات کی میز پر ایک مضبوط پوزیشن فراہم کرسکتی ہے اور بھارت کی جانب سے معاہدے کو دوبارہ مذاکرات کے لیے لانے کے لیے استعمال کی جانے والی کچھ مفروضوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272311</guid>
      <pubDate>Sat, 03 May 2025 15:28:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/03145920cc67793.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/03145920cc67793.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
