<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 21:06:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 21:06:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی کی برآمدات میں اضافے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی پیشکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا آرمیلن نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حمایت کے لئے اٹلی کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس شعبے کو ملک کی اقتصادی ترقی اور برآمدی کارکردگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ٹیکسٹائل  شعبے میں عشروں پر محیط ترقیاتی سفر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے جو اسپننگ سے لے کر ویلیو ایڈیڈ گارمنٹس تک پوری ویلیو چین میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں بزنس ریکارڈر کے ہیڈکوارٹرز کے تاریخی دورے کے دوران خصوصی انٹرویو میں سفیر آرمیلن نے مضبوط دوطرفہ تجارتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُنہوں نے کہا  کہ اٹلی اس اہم شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد کیلئے جدید ترین ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ٹیکسٹائل مشینری پر درآمدی ڈیوٹیز کم کریں تاکہ جدید ٹیکنالوجی والی مشینری تک رسائی آسان ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رکاوٹیں کم کرنا نہ صرف صنعت کو جدید بنانے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کی جی ڈی پی کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا کیونکہ ٹیکسٹائل سیکٹر ملک کی سب سے بڑی پیداوار اور برآمدی کمائی والی صنعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی حالیہ ایگا ٹیکس پاکستان 2025 نمائش کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ تقریب اٹلی اور پاکستان کے صنعتی تعاون میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پہلی بار ، دو مخصوص اطالوی پویلین پیش کیے گئے تھے جس میں جدید ٹیکسٹائل مشینری کی نمائش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایگا ٹیکس نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے بہت اہم نمائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نمائش میں شرکت کرنے والی اطالوی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں موجود صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ یہاں کاروبار کرنے کے مضبوط ارادے کے ساتھ ہیں، اور ہم ان کی کوششوں کی مکمل حمایت اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایونٹ میں اٹلی سمیت 30 ممالک کے 450 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 11 اطالوی کمپنیوں نے دونوں پویلینز میں 50 سے زائد معروف برانڈز کی نمائش کی جو پاکستان کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر آرمیلن کے بیانات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی اور صنعتی تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں باہمی ترقی اور جدت ممکن ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ کوشش کے طور پر اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے، آرمیلن نے اٹلی کی جانب سے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے عزم کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہمارے دونوں اقتصادی نظاموں میں بہت سی تکمیل کی خصوصیات ہیں، اور یہاں ہمارا مشن یہی ہے کہ ان تکمیلوں کو بڑھایا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ تجارتی توازن 1.5 بلین یورو ہے جو مستقبل کی ترقی کے لئے ایک ٹھوس بنیاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ “زیادہ سے زیادہ اور بہتر کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کو مشینری اور ٹیکنالوجیز کی مختلف اقسام برآمد کرتا ہے، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتے اور زراعت کے شعبوں کے لیے جدید ترین ساز و سامان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، پاکستان اٹلی کو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ چاول جیسے غذائی اجناس برآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے سفیر آرمیلن نے تجارتی میلوں میں باہمی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ معروف اطالوی اور یورپی میلوں میں شرکت کریں جن میں میلان میں سلون ڈیل موبائل، ای آئی سی ایم اے، ایکسپو ریوا شوہ، لینا پیلے اور کاسموپروف شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم مصنوعات کی نمائش اور نئی منڈیوں کی تلاش کے مواقع پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر آرمیلن نے پاکستان میں اٹلی کی سرمایہ کاری کی کئی کامیاب کہانیاں شیئر کیں۔ ایک قابلِ ذکر مثال پاکستان میں ایک بڑے فاسٹ فوڈ چین اور ایک اٹالین کافی پروڈیوسر کے درمیان تعاون ہے۔ اس شراکت داری میں اعلی معیار کے کافی بینز اور ایسپریسو مشینوں کی درآمد کی جاتی ہے، جو پاکستانی صارفین میں پریمیم کافی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینٹل سیکٹر میں ڈینٹل ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی اطالوی کمپنی پاکستان میں اپنے آپریشنز کو وسعت دے رہی ہے اور مقامی پروفیشنلز کو جدید آلات اور تربیت فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کی اقتصادی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر  نے ملک کی لچک اور چیلنجز کے سامنے اپنی مطابقت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1970 کی دہائی کے توانائی کے بحران کے دوران، اٹلی نے تیزی سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی، جس کی بدولت یہ پائیدار توانائی میں قائد کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکا۔ یہ لچک اقتصادی استحکام اور ترقی کو برقرار رکھنے میں اہم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپناکر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی تعاون کے علاوہ سفیر آرمیلن نے اٹلی اور پاکستان کے درمیان مضبوط ثقافتی و سماجی روابط پر زور دیا۔ انہوں نے خاندان، برادری اور مہمان نوازی جیسے مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا جو دونوں معاشروں کی بنیاد ہیں۔ انہی قدروں نے باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کو فروغ دیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانی تارکین وطن نے لوگوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے ہیں، جنہیں دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر آرمیلن نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا آرمیلن نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حمایت کے لئے اٹلی کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس شعبے کو ملک کی اقتصادی ترقی اور برآمدی کارکردگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ٹیکسٹائل  شعبے میں عشروں پر محیط ترقیاتی سفر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے جو اسپننگ سے لے کر ویلیو ایڈیڈ گارمنٹس تک پوری ویلیو چین میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔</p>
<p>کراچی میں بزنس ریکارڈر کے ہیڈکوارٹرز کے تاریخی دورے کے دوران خصوصی انٹرویو میں سفیر آرمیلن نے مضبوط دوطرفہ تجارتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>اُنہوں نے کہا  کہ اٹلی اس اہم شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد کیلئے جدید ترین ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ٹیکسٹائل مشینری پر درآمدی ڈیوٹیز کم کریں تاکہ جدید ٹیکنالوجی والی مشینری تک رسائی آسان ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رکاوٹیں کم کرنا نہ صرف صنعت کو جدید بنانے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کی جی ڈی پی کی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا کیونکہ ٹیکسٹائل سیکٹر ملک کی سب سے بڑی پیداوار اور برآمدی کمائی والی صنعت ہے۔</p>
<p>کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی حالیہ ایگا ٹیکس پاکستان 2025 نمائش کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ تقریب اٹلی اور پاکستان کے صنعتی تعاون میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پہلی بار ، دو مخصوص اطالوی پویلین پیش کیے گئے تھے جس میں جدید ٹیکسٹائل مشینری کی نمائش کی گئی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایگا ٹیکس نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے بہت اہم نمائش ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نمائش میں شرکت کرنے والی اطالوی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں موجود صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ یہاں کاروبار کرنے کے مضبوط ارادے کے ساتھ ہیں، اور ہم ان کی کوششوں کی مکمل حمایت اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔</p>
<p>ایونٹ میں اٹلی سمیت 30 ممالک کے 450 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 11 اطالوی کمپنیوں نے دونوں پویلینز میں 50 سے زائد معروف برانڈز کی نمائش کی جو پاکستان کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>سفیر آرمیلن کے بیانات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی اور صنعتی تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں باہمی ترقی اور جدت ممکن ہوسکتی ہے۔</p>
<p>مشترکہ کوشش کے طور پر اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے، آرمیلن نے اٹلی کی جانب سے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے عزم کو اجاگر کیا۔</p>
<p>”ہمارے دونوں اقتصادی نظاموں میں بہت سی تکمیل کی خصوصیات ہیں، اور یہاں ہمارا مشن یہی ہے کہ ان تکمیلوں کو بڑھایا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ تجارتی توازن 1.5 بلین یورو ہے جو مستقبل کی ترقی کے لئے ایک ٹھوس بنیاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ “زیادہ سے زیادہ اور بہتر کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کو مشینری اور ٹیکنالوجیز کی مختلف اقسام برآمد کرتا ہے، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے، جوتے اور زراعت کے شعبوں کے لیے جدید ترین ساز و سامان شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری طرف، پاکستان اٹلی کو بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ چاول جیسے غذائی اجناس برآمد کرتا ہے۔</p>
<p>اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے سفیر آرمیلن نے تجارتی میلوں میں باہمی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ معروف اطالوی اور یورپی میلوں میں شرکت کریں جن میں میلان میں سلون ڈیل موبائل، ای آئی سی ایم اے، ایکسپو ریوا شوہ، لینا پیلے اور کاسموپروف شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم مصنوعات کی نمائش اور نئی منڈیوں کی تلاش کے مواقع پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>سفیر آرمیلن نے پاکستان میں اٹلی کی سرمایہ کاری کی کئی کامیاب کہانیاں شیئر کیں۔ ایک قابلِ ذکر مثال پاکستان میں ایک بڑے فاسٹ فوڈ چین اور ایک اٹالین کافی پروڈیوسر کے درمیان تعاون ہے۔ اس شراکت داری میں اعلی معیار کے کافی بینز اور ایسپریسو مشینوں کی درآمد کی جاتی ہے، جو پاکستانی صارفین میں پریمیم کافی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتی ہے۔</p>
<p>ڈینٹل سیکٹر میں ڈینٹل ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی اطالوی کمپنی پاکستان میں اپنے آپریشنز کو وسعت دے رہی ہے اور مقامی پروفیشنلز کو جدید آلات اور تربیت فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>اٹلی کی اقتصادی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر  نے ملک کی لچک اور چیلنجز کے سامنے اپنی مطابقت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1970 کی دہائی کے توانائی کے بحران کے دوران، اٹلی نے تیزی سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی، جس کی بدولت یہ پائیدار توانائی میں قائد کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکا۔ یہ لچک اقتصادی استحکام اور ترقی کو برقرار رکھنے میں اہم رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپناکر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔حوالے سے۔</p>
<p>اقتصادی تعاون کے علاوہ سفیر آرمیلن نے اٹلی اور پاکستان کے درمیان مضبوط ثقافتی و سماجی روابط پر زور دیا۔ انہوں نے خاندان، برادری اور مہمان نوازی جیسے مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا جو دونوں معاشروں کی بنیاد ہیں۔ انہی قدروں نے باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کو فروغ دیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔</p>
<p>اٹلی میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانی تارکین وطن نے لوگوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے ہیں، جنہیں دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>سفیر آرمیلن نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272275</guid>
      <pubDate>Fri, 02 May 2025 12:53:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/0212504527dcf86.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/0212504527dcf86.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
