<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی و معاشی عدم استحکام اور بلند ٹیکس شرح بیرونی سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہے، اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے سیاسی و معاشی عدم استحکام، بلند ٹیکس شرح اور ناکافی بنیادی ڈھانچے کو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا ہے۔ یہ بنیادی مسائل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان، اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور مارکیٹ کی وسعت کے باوجود، طویل المدتی غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اپنی حالیہ اقتصادی رپورٹ میں پاکستان میں غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کو درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سلامتی کی صورتحال، قانونی نظام، جائیداد کے حقوق، اور امن و امان کی صورت حال بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو متوجہ کرنے میں اہم عوامل ہیں، اور ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں  غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (ایف پی آئی) اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) شامل ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتیں، جیسے پاکستان، طویل المدتی اور ترقیاتی نوعیت کی حامل ایف ڈی آئی کو ترجیح دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی آئی میزبان ملک کو سرمایہ، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے ساتھ آتی ہے جو مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور مقابلے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایف ڈی آئی مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور معیشت میں تنوع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں ایف ڈی آئی اب بھی علاقائی ممالک سے پیچھے ہے، حالانکہ یہاں ایک وسیع مارکیٹ، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، اور مختلف شعبوں میں غیر استعمال شدہ امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائی میں پاکستان میں ایف ڈی آئی سالانہ اوسطاً جی ڈی پی کا صرف 1.0 فیصد رہی، جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں یہ اوسط سالانہ 2.7 فیصد ہے، یعنی پاکستان کی سطح اس عالمی معیار سے آدھی سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان میں ایف ڈی آئی زیادہ تر بجلی، بینکاری، ٹیلی کام اور تیز رفتار اشیائے صرف (ایف ایم سی جیز) جیسے شعبوں میں مرکوز رہی ہے، جو بنیادی طور پر ملکی طلب کو پورا کر رہی ہے، نہ کہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے۔ دیگر نجی مالیاتی ذرائع بھی کمزور رہے ہیں، جو جی ڈی پی کی شرح نمو اور ترقیاتی ضروریات سے پیچھے ہیں، اور یہ صورتحال پاکستان کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے کہ وہ 2 تا 3 فیصد کے درمیانے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی فنانس کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، متعلقہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو روکنے والے عناصر میں سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال، بلند ٹیکسیشن اور بنیادی ڈھانچے کی کمی سرفہرست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پالیسیوں کی بار بار تبدیلی ان سرمایہ کاروں کو مایوس کرتی ہے جو معیشت میں طویل المدتی مفادات رکھتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر بلند اقتصادی پالیسی غیر یقینی کی موجودہ صورتحال میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح، سیاسی تبدیلی کے دوران اگر اقتصادی اصلاحات کا عمل متاثر ہو، تو یہ بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی تحقیق سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے کا عمل  ایک مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے، خاص طور پر کاروبار کی رجسٹریشن، اجازت نامے حاصل کرنے، معاہدوں اور دانشورانہ املاک کے حقوق کے نفاذ جیسے معاملات میں۔ اس کے علاوہ، مقامی قوانین کی پیروی کرنے کی بلند لاگت غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس کے حوالے سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح ہم عصر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس پالیسی میں بار بار تبدیلیاں سرمایہ کاروں کو غیر یقینی میں مبتلا کرتی ہیں اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کی عدم دستیابی بھی عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ٹرانسپورٹ، توانائی اور مواصلات کی سہولیات ترقی یافتہ نہیں ہیں، جو صنعتی ترقی اور کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بندرگاہوں اور لاجسٹکس میں موجود غیر مؤثر نظام بھی برآمدات کی مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح، پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی ہم عصر ممالک سے پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، جب تک ان بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام نہیں بن پائے گا، اور طویل المدتی ترقی و مالی استحکام کی راہ میں مشکلات برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے سیاسی و معاشی عدم استحکام، بلند ٹیکس شرح اور ناکافی بنیادی ڈھانچے کو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا ہے۔ یہ بنیادی مسائل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مسلسل کمزور کر رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان، اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور مارکیٹ کی وسعت کے باوجود، طویل المدتی غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اپنی حالیہ اقتصادی رپورٹ میں پاکستان میں غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کو درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سلامتی کی صورتحال، قانونی نظام، جائیداد کے حقوق، اور امن و امان کی صورت حال بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو متوجہ کرنے میں اہم عوامل ہیں، اور ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔</p>
<p>غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں  غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (ایف پی آئی) اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) شامل ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتیں، جیسے پاکستان، طویل المدتی اور ترقیاتی نوعیت کی حامل ایف ڈی آئی کو ترجیح دیتی ہیں۔</p>
<p>ایف ڈی آئی میزبان ملک کو سرمایہ، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے ساتھ آتی ہے جو مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور مقابلے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ایف ڈی آئی مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور معیشت میں تنوع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں ایف ڈی آئی اب بھی علاقائی ممالک سے پیچھے ہے، حالانکہ یہاں ایک وسیع مارکیٹ، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، اور مختلف شعبوں میں غیر استعمال شدہ امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائی میں پاکستان میں ایف ڈی آئی سالانہ اوسطاً جی ڈی پی کا صرف 1.0 فیصد رہی، جبکہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں یہ اوسط سالانہ 2.7 فیصد ہے، یعنی پاکستان کی سطح اس عالمی معیار سے آدھی سے بھی کم ہے۔</p>
<p>گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان میں ایف ڈی آئی زیادہ تر بجلی، بینکاری، ٹیلی کام اور تیز رفتار اشیائے صرف (ایف ایم سی جیز) جیسے شعبوں میں مرکوز رہی ہے، جو بنیادی طور پر ملکی طلب کو پورا کر رہی ہے، نہ کہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے۔ دیگر نجی مالیاتی ذرائع بھی کمزور رہے ہیں، جو جی ڈی پی کی شرح نمو اور ترقیاتی ضروریات سے پیچھے ہیں، اور یہ صورتحال پاکستان کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے کہ وہ 2 تا 3 فیصد کے درمیانے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی فنانس کر سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، متعلقہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو روکنے والے عناصر میں سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال، بلند ٹیکسیشن اور بنیادی ڈھانچے کی کمی سرفہرست ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پالیسیوں کی بار بار تبدیلی ان سرمایہ کاروں کو مایوس کرتی ہے جو معیشت میں طویل المدتی مفادات رکھتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر بلند اقتصادی پالیسی غیر یقینی کی موجودہ صورتحال میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح، سیاسی تبدیلی کے دوران اگر اقتصادی اصلاحات کا عمل متاثر ہو، تو یہ بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>ماضی کی تحقیق سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے کا عمل  ایک مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے، خاص طور پر کاروبار کی رجسٹریشن، اجازت نامے حاصل کرنے، معاہدوں اور دانشورانہ املاک کے حقوق کے نفاذ جیسے معاملات میں۔ اس کے علاوہ، مقامی قوانین کی پیروی کرنے کی بلند لاگت غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔</p>
<p>ٹیکس کے حوالے سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح ہم عصر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس پالیسی میں بار بار تبدیلیاں سرمایہ کاروں کو غیر یقینی میں مبتلا کرتی ہیں اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کی عدم دستیابی بھی عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ٹرانسپورٹ، توانائی اور مواصلات کی سہولیات ترقی یافتہ نہیں ہیں، جو صنعتی ترقی اور کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بندرگاہوں اور لاجسٹکس میں موجود غیر مؤثر نظام بھی برآمدات کی مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح، پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بھی ہم عصر ممالک سے پیچھے ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، جب تک ان بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام نہیں بن پائے گا، اور طویل المدتی ترقی و مالی استحکام کی راہ میں مشکلات برقرار رہیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272261</guid>
      <pubDate>Fri, 02 May 2025 08:26:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/020825320d828f9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/020825320d828f9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
