<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 06:40:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 06:40:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی شرح نمو میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے، آئی ایم ایف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272259/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ ”علاقائی ترقی اور معاشی منظرنامہ“ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی معاشی نمو تقریباً جمود کا شکار رہے گی، جو اکتوبر کے تخمینے کے مقابلے میں 0.6 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ اس کمی کی وجہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران کمزور معاشی سرگرمیاں اور بڑھتی ہوئی تجارتی غیر یقینی صورتحال ہیں، جو کہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں متوقع اور حالیہ مالیاتی نرمی کے مثبت اثرات کو زائل کر رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2.6 فیصد جبکہ مالی سال 2026 میں 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو کہ مالی سال 2024 میں 2.5 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی میں 2025 اور اس کے بعد بھی کمی کا رجحان جاری رہے گا، جو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ اس کمی کی وجوہات میں موافق بنیادی اثرات (جیسے مصر، پاکستان)، اشیائے خورونوش اور اجناس کی قیمتوں میں کمی (جیسے مراکش)، اور سخت مالیاتی پالیسی کے اثرات (جیسے مصر) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ  اور پاکستان میں حالیہ ترقیاتی رجحانات میں تیل برآمد کرنے والے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے درمیان فرق دیکھنے میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024 میں، بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اوپیک پلس کی رضاکارانہ پیداوار میں کٹوتیوں کے باوجود متنوع معیشتوں کی بدولت غیر یقینی حالات میں کامیابی سے پیش رفت کی۔ اس کے برعکس، جاری علاقائی تنازعات اور ان کے اثرات نے متعدد تیل درآمد کرنے والے ممالک کی ترقی پر منفی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے چل کر، اگرچہ  شمالی افریقہ خطے اور پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی پیشگوئی کی گئی ہے، لیکن یہ رفتار اکتوبر کے تخمینے کے مقابلے میں خاصی سست ہو گی۔ اس کی وجوہات میں عالمی تجارتی کشیدگیوں کے اثرات، تیل کی پیداوار کی سست رفتاری، علاقائی تنازعات کے حل میں تاخیر، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں سست پیش رفت (خاص طور پر مصر میں) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، دوبارہ ابھرنے والے مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے سود کی بلند شرحیں طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جن پر قرضوں کا بوجھ زیادہ ہے، جیسا کہ پاکستان۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی نظم و ضبط کا عمل جاری رہے گا لیکن سست رفتاری سے، کیونکہ عوامی قرضے کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، کئی  شمالی افریقہ ممالک اور پاکستان میں قرض لینے کی لاگت بلند رہے گی، اور مؤثر سود کی شرحیں وبا سے پہلے کی سطح سے بلند رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بعض ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بیرونی قرضوں پر ’سورین اسپریڈز‘ میں کمی آئی ہے، لیکن زیادہ مقروض ممالک میں یہ پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان، مصر، اردن، اور تیونس جیسے ممالک کو اپنی میچور ہونے والی قرض ادائیگیاں زیادہ سود پر دوبارہ فنانس کرنی پڑیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند قرضوں اور مالی ضروریات کا سامنا کرنے والے ممالک، خاص طور پر مصر، اردن، پاکستان اور تیونس، کو مالیاتی نظم و ضبط کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سبسڈی پر اخراجات محدود کرنا، ٹیکس مراعات کا خاتمہ، اور ٹیکس نظام کی مؤثر اصلاحات کے ذریعے آمدنی میں اضافہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کو سرکاری اداروں (جیسے پاکستان، مصر) اور عوامی و نجی شراکت داری (جیسے مراکش) سے جُڑے ممکنہ مالی خطرات سے بھی خبردار رہنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اُن تیل درآمد کنندہ ممالک، جو تنازعات سے متاثر نہیں ہوئے (جیسے موریتانیا، مراکش، پاکستان، صومالیہ، تیونس)، میں مالیاتی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔ ان ممالک میں 2024 میں بنیادی بجٹ خسارہ اوسطاً 1.4 فیصد کم ہوا، جو ٹیکس پالیسی، انتظامی اصلاحات، اور سبسڈی میں کمی کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ تاہم پاکستان میں سودی ادائیگیوں میں 0.9 فیصد کے اضافے نے اس بہتری کو محدود کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور قفقاز و وسطی ایشیا  کے ممالک کے لیے 2 اپریل کو نافذ کی جانے والی ٹیرفز 20 سے 40 فیصد کے درمیان رکھی گئیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جب کہ دیگر ممالک کے لیے شرح 10 فیصد رکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان ٹیرفز کا مجموعی اثر زیادہ تر ممالک کے لیے ایک فیصد سے کم ہے، تاہم پاکستان اور اردن کے لیے اثرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی برآمدات میں امریکہ کا حصہ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیونس کو سیاحت اور ترسیلات زر کی مد میں مثبت آمد حاصل ہوئی، پاکستان میں 2023 کے سیلاب کے بعد زرعی پیداوار میں بہتری اور معاشی بحالی دیکھی گئی، اور موریتانیا میں غیر معدنی شعبے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ ”علاقائی ترقی اور معاشی منظرنامہ“ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی معاشی نمو تقریباً جمود کا شکار رہے گی، جو اکتوبر کے تخمینے کے مقابلے میں 0.6 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ اس کمی کی وجہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران کمزور معاشی سرگرمیاں اور بڑھتی ہوئی تجارتی غیر یقینی صورتحال ہیں، جو کہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں متوقع اور حالیہ مالیاتی نرمی کے مثبت اثرات کو زائل کر رہی ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2.6 فیصد جبکہ مالی سال 2026 میں 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو کہ مالی سال 2024 میں 2.5 فیصد تھی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی میں 2025 اور اس کے بعد بھی کمی کا رجحان جاری رہے گا، جو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ اس کمی کی وجوہات میں موافق بنیادی اثرات (جیسے مصر، پاکستان)، اشیائے خورونوش اور اجناس کی قیمتوں میں کمی (جیسے مراکش)، اور سخت مالیاتی پالیسی کے اثرات (جیسے مصر) شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ  اور پاکستان میں حالیہ ترقیاتی رجحانات میں تیل برآمد کرنے والے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے درمیان فرق دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>
<p>سال 2024 میں، بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اوپیک پلس کی رضاکارانہ پیداوار میں کٹوتیوں کے باوجود متنوع معیشتوں کی بدولت غیر یقینی حالات میں کامیابی سے پیش رفت کی۔ اس کے برعکس، جاری علاقائی تنازعات اور ان کے اثرات نے متعدد تیل درآمد کرنے والے ممالک کی ترقی پر منفی اثر ڈالا۔</p>
<p>آگے چل کر، اگرچہ  شمالی افریقہ خطے اور پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی پیشگوئی کی گئی ہے، لیکن یہ رفتار اکتوبر کے تخمینے کے مقابلے میں خاصی سست ہو گی۔ اس کی وجوہات میں عالمی تجارتی کشیدگیوں کے اثرات، تیل کی پیداوار کی سست رفتاری، علاقائی تنازعات کے حل میں تاخیر، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں سست پیش رفت (خاص طور پر مصر میں) شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، دوبارہ ابھرنے والے مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے سود کی بلند شرحیں طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جن پر قرضوں کا بوجھ زیادہ ہے، جیسا کہ پاکستان۔</p>
<p>مالیاتی نظم و ضبط کا عمل جاری رہے گا لیکن سست رفتاری سے، کیونکہ عوامی قرضے کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، کئی  شمالی افریقہ ممالک اور پاکستان میں قرض لینے کی لاگت بلند رہے گی، اور مؤثر سود کی شرحیں وبا سے پہلے کی سطح سے بلند رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اگرچہ بعض ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بیرونی قرضوں پر ’سورین اسپریڈز‘ میں کمی آئی ہے، لیکن زیادہ مقروض ممالک میں یہ پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان، مصر، اردن، اور تیونس جیسے ممالک کو اپنی میچور ہونے والی قرض ادائیگیاں زیادہ سود پر دوبارہ فنانس کرنی پڑیں گی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند قرضوں اور مالی ضروریات کا سامنا کرنے والے ممالک، خاص طور پر مصر، اردن، پاکستان اور تیونس، کو مالیاتی نظم و ضبط کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سبسڈی پر اخراجات محدود کرنا، ٹیکس مراعات کا خاتمہ، اور ٹیکس نظام کی مؤثر اصلاحات کے ذریعے آمدنی میں اضافہ ضروری ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں کو سرکاری اداروں (جیسے پاکستان، مصر) اور عوامی و نجی شراکت داری (جیسے مراکش) سے جُڑے ممکنہ مالی خطرات سے بھی خبردار رہنا ہو گا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اُن تیل درآمد کنندہ ممالک، جو تنازعات سے متاثر نہیں ہوئے (جیسے موریتانیا، مراکش، پاکستان، صومالیہ، تیونس)، میں مالیاتی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔ ان ممالک میں 2024 میں بنیادی بجٹ خسارہ اوسطاً 1.4 فیصد کم ہوا، جو ٹیکس پالیسی، انتظامی اصلاحات، اور سبسڈی میں کمی کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ تاہم پاکستان میں سودی ادائیگیوں میں 0.9 فیصد کے اضافے نے اس بہتری کو محدود کر دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور قفقاز و وسطی ایشیا  کے ممالک کے لیے 2 اپریل کو نافذ کی جانے والی ٹیرفز 20 سے 40 فیصد کے درمیان رکھی گئیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جب کہ دیگر ممالک کے لیے شرح 10 فیصد رکھی گئی۔</p>
<p>اگرچہ ان ٹیرفز کا مجموعی اثر زیادہ تر ممالک کے لیے ایک فیصد سے کم ہے، تاہم پاکستان اور اردن کے لیے اثرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی برآمدات میں امریکہ کا حصہ زیادہ ہے۔</p>
<p>مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیونس کو سیاحت اور ترسیلات زر کی مد میں مثبت آمد حاصل ہوئی، پاکستان میں 2023 کے سیلاب کے بعد زرعی پیداوار میں بہتری اور معاشی بحالی دیکھی گئی، اور موریتانیا میں غیر معدنی شعبے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272259</guid>
      <pubDate>Fri, 02 May 2025 08:02:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/02080224f0f5540.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/02080224f0f5540.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
