<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 02:12:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 02:12:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود 50 بی پی ایس کی کمی کے ساتھ 11.5 فیصد کیے جانے کا امکان ہے، بروکریج ہاؤس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272171/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے اپنی آئندہ میٹنگ میں کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع ہے، جس سے شرح سود کم ہو کر 11.5 فیصد پر آ جائے گی۔ یہ بات بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 5 مئی 2025 کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ  مانیٹری پالیسی کمیٹی 5 مئی 2025 کو اپنا اگلا اجلاس شروع کرنے جا رہی ہے، اور ہمیں توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ پالیسی میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد تک لے آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس میں، جو 10 مارچ کو ہوا تھا، مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو 12 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کمیٹی کا کہنا تھا کہ فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح توقع سے کم رہی، جس کی بنیادی وجہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی ہے۔ تاہم، ان قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے مہنگائی کی گرتی ہوئی رفتار کم ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بنیادی مہنگائی مستقل طور پر بلند سطح پر موجود ہے، اور اگر خوراک و توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، مہنگائی کی مسلسل کمی اور حقیقی شرح سود میں واضح گنجائش کے باعث، شرح سود میں نرمی کی جا سکتی ہے تاکہ معیشت کی بحالی میں مدد ملے، اور یہ نرمی میکرو اکنامک استحکام کو متاثر نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی ہی شرح سود میں ممکنہ کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ مارچ 2025 میں ہیڈ لائن انفلیشن کم ہو کر 0.7 فیصد پر آ گئی، جو 6 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، اور توقع ہے کہ اپریل 2025 میں یہ مزید کم ہو کر 0.45 فیصد کی تاریخی سطح پر آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 25-2024 کے ابتدائی 10 مہینوں  میں اوسط مہنگائی کی شرح 4.88 فیصد رہی، جو پچھلے سال اسی عرصے میں ریکارڈ کی گئی 26.22 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ بہتری بڑی حد تک بلند بیس ایفیکٹ اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کی مرہون منت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بلند بیس ایفیکٹ کا اثر آئندہ مہینوں میں کم ہو جائے گا، جس سے مہنگائی پر دوبارہ دباؤ آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے اپنی آئندہ میٹنگ میں کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع ہے، جس سے شرح سود کم ہو کر 11.5 فیصد پر آ جائے گی۔ یہ بات بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں کہی۔</strong></p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 5 مئی 2025 کو متوقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ  مانیٹری پالیسی کمیٹی 5 مئی 2025 کو اپنا اگلا اجلاس شروع کرنے جا رہی ہے، اور ہمیں توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ پالیسی میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد تک لے آئے گا۔</p>
<p>گزشتہ اجلاس میں، جو 10 مارچ کو ہوا تھا، مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو 12 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>اس وقت کمیٹی کا کہنا تھا کہ فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح توقع سے کم رہی، جس کی بنیادی وجہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی ہے۔ تاہم، ان قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے مہنگائی کی گرتی ہوئی رفتار کم ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بنیادی مہنگائی مستقل طور پر بلند سطح پر موجود ہے، اور اگر خوراک و توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، مہنگائی کی مسلسل کمی اور حقیقی شرح سود میں واضح گنجائش کے باعث، شرح سود میں نرمی کی جا سکتی ہے تاکہ معیشت کی بحالی میں مدد ملے، اور یہ نرمی میکرو اکنامک استحکام کو متاثر نہیں کرے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی ہی شرح سود میں ممکنہ کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ مارچ 2025 میں ہیڈ لائن انفلیشن کم ہو کر 0.7 فیصد پر آ گئی، جو 6 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، اور توقع ہے کہ اپریل 2025 میں یہ مزید کم ہو کر 0.45 فیصد کی تاریخی سطح پر آ جائے گی۔</p>
<p>مالی سال 25-2024 کے ابتدائی 10 مہینوں  میں اوسط مہنگائی کی شرح 4.88 فیصد رہی، جو پچھلے سال اسی عرصے میں ریکارڈ کی گئی 26.22 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ بہتری بڑی حد تک بلند بیس ایفیکٹ اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کی مرہون منت ہے۔</p>
<p>تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بلند بیس ایفیکٹ کا اثر آئندہ مہینوں میں کم ہو جائے گا، جس سے مہنگائی پر دوبارہ دباؤ آ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272171</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Apr 2025 10:31:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/291031017e4803a.gif" type="image/gif" medium="image" height="229" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/291031017e4803a.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
