<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 11:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 11:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلگام حملہ، اقوام متحدہ کا پاکستان اور بھارت سے تحمل برتنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272057/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ (یو این) نے بھارت اور پاکستان سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک چوتھائی صدی کے دوران  مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کی جانب سے شہریوں پر بدترین حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر ’سرحد پار دہشت گردی‘ کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں سے کہا کہ ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو صورتحال ہم نے دیکھی ہیں وہ مزید بگڑ نہ جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی مسئلے کو ہم سمجھتے ہیں کہ پرامن طریقے سے، باہمی گفتگو کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو معروف سیاحتی مقام پہلگام میں 26 شہریوں کے قتل میں ملوث مسلح حملہ آوروں کو پکڑنے کا عہد کیا ہے ۔ بعدازاں  بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ تین فرار حملہ آوروں میں سے دو پاکستانی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے پہلگام حملے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ میں دنیا بھر سے کہتا ہوں: بھارت ہر دہشت گرد اور ان کے حمایتی کو شناخت کرے گا، ان کا پیچھا کرے گا اور سزا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اُن کا پیچھا زمین کے آخری کونے تک کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے پہلگام حملے سے متعلق کسی بھی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوششوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کسی بھی بھارتی اقدام کا مؤثر جواب دینے کے عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ فوجی سربراہان کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور اس کے عوام کی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا ہر سطح پر ٹھوس اور مؤثر جوابی اقدام کے ساتھ سامنا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشمیر 1947 میں آزادی کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ اور بحریہ دونوں نے جمعرات کو فوجی مشقیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی پولیس کا دعویٰ ہے کہ تینوں مسلح افراد کا تعلق پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکام نے ہر حملہ آور کی گرفتاری سے متعلق معلومات دینے پر 20 لاکھ روپے (23,500 ڈالر) انعام کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے کے ایک دن بعد نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا، پاکستان کے ساتھ اہم زمینی سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، سفارتی تعلقات کو کم کر دیا تھا اور پاکستانیوں کے ویزے واپس لے لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواباً اسلام آباد نے جمعرات کو بھارتی سفارتکاروں اور فوجی مشیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے – صرف سکھ یاتریوں کو استثنیٰ دیا گیا – اور اپنی جانب سے مرکزی سرحدی گزرگاہ بند کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے خبردار کیا  کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی روکنے کی کوئی بھی کوشش اعلان جنگ تصور کیا جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خاک میں ملادو&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلگام  کا واقعہ کشمیری حملہ آوروں کی حالیہ حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو عام طور پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کا امکان اب بھی موجود ہے، کچھ کا خیال ہے کہ یہ چند دنوں میں ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 2019 میں کشمیر میں ایک خودکش حملے میں 41 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بھارت نے پاکستان کے اندر فضائی حملے کیے جس نے دونوں ممالک کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد جمعرات کو کہا تھا کہ جو بھی تھوڑی سی زمین ان  دہشت گردوں کے پاس ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسےخاک میں ملا دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے ماضی میں ہونے والے حملوں کے جواب دینے میں وقت لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقبوضہ کشمیر میں حالیہ برسوں میں بدترین حملہ 2019 میں پلوامہ میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی لڑاکا طیاروں نے 12 دن بعد پاکستانی علاقے پر فضائی حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سکیورٹی فورسز نے پہلگام حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے نے ہندو قوم پرست گروہوں کو مشتعل کردیا ہے، اور ہندوستان بھر کے اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے طالب علموں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ (یو این) نے بھارت اور پاکستان سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔</strong></p>
<p>ایک چوتھائی صدی کے دوران  مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کی جانب سے شہریوں پر بدترین حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر ’سرحد پار دہشت گردی‘ کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں سے کہا کہ ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو صورتحال ہم نے دیکھی ہیں وہ مزید بگڑ نہ جائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی مسئلے کو ہم سمجھتے ہیں کہ پرامن طریقے سے، باہمی گفتگو کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔</p>
<p>بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو معروف سیاحتی مقام پہلگام میں 26 شہریوں کے قتل میں ملوث مسلح حملہ آوروں کو پکڑنے کا عہد کیا ہے ۔ بعدازاں  بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ تین فرار حملہ آوروں میں سے دو پاکستانی تھے۔</p>
<p>مودی نے پہلگام حملے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ میں دنیا بھر سے کہتا ہوں: بھارت ہر دہشت گرد اور ان کے حمایتی کو شناخت کرے گا، ان کا پیچھا کرے گا اور سزا دے گا۔</p>
<p>ہم اُن کا پیچھا زمین کے آخری کونے تک کریں گے۔</p>
<p>اسلام آباد نے پہلگام حملے سے متعلق کسی بھی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوششوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کسی بھی بھارتی اقدام کا مؤثر جواب دینے کے عزم ظاہر کیا۔</p>
<p>پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ فوجی سربراہان کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور اس کے عوام کی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا ہر سطح پر ٹھوس اور مؤثر جوابی اقدام کے ساتھ سامنا کیا جائے گا۔</p>
<p>کشمیر 1947 میں آزادی کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔</p>
<p>بھارتی فضائیہ اور بحریہ دونوں نے جمعرات کو فوجی مشقیں کیں۔</p>
<p>بھارتی پولیس کا دعویٰ ہے کہ تینوں مسلح افراد کا تعلق پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ سے ہے۔</p>
<p>بھارتی حکام نے ہر حملہ آور کی گرفتاری سے متعلق معلومات دینے پر 20 لاکھ روپے (23,500 ڈالر) انعام کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>اس حملے کے ایک دن بعد نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا، پاکستان کے ساتھ اہم زمینی سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، سفارتی تعلقات کو کم کر دیا تھا اور پاکستانیوں کے ویزے واپس لے لیے تھے۔</p>
<p>جواباً اسلام آباد نے جمعرات کو بھارتی سفارتکاروں اور فوجی مشیروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے – صرف سکھ یاتریوں کو استثنیٰ دیا گیا – اور اپنی جانب سے مرکزی سرحدی گزرگاہ بند کر دی۔</p>
<p>پاکستان نے خبردار کیا  کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی روکنے کی کوئی بھی کوشش اعلان جنگ تصور کیا جائیگا۔</p>
<p><strong>خاک میں ملادو</strong></p>
<p>پہلگام  کا واقعہ کشمیری حملہ آوروں کی حالیہ حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو عام طور پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کا امکان اب بھی موجود ہے، کچھ کا خیال ہے کہ یہ چند دنوں میں ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 2019 میں کشمیر میں ایک خودکش حملے میں 41 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بھارت نے پاکستان کے اندر فضائی حملے کیے جس نے دونوں ممالک کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔</p>
<p>مودی نے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد جمعرات کو کہا تھا کہ جو بھی تھوڑی سی زمین ان  دہشت گردوں کے پاس ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسےخاک میں ملا دیا جائے۔</p>
<p>بھارت نے ماضی میں ہونے والے حملوں کے جواب دینے میں وقت لیا ہے۔</p>
<p>مقبوضہ کشمیر میں حالیہ برسوں میں بدترین حملہ 2019 میں پلوامہ میں ہوا تھا۔</p>
<p>بھارتی لڑاکا طیاروں نے 12 دن بعد پاکستانی علاقے پر فضائی حملے کیے تھے۔</p>
<p>بھارتی سکیورٹی فورسز نے پہلگام حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<p>اس حملے نے ہندو قوم پرست گروہوں کو مشتعل کردیا ہے، اور ہندوستان بھر کے اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے طالب علموں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272057</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Apr 2025 15:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/251141400449684.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="657" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/251141400449684.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
