<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ 2024: بینکوں کی قرض لینے کی شرح میں اضافہ، ڈپازٹس میں ایک کھرب روپے سے زائد کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272033/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے ”فنانشل اسٹیبلیٹی ریویو – 2024“ میں کہا ہے کہ  31 دسمبر 2024 کو ختم ہونے والے سال کے دوران پاکستانی بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹ (جمع شدہ رقوم) بڑھانے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ان کی توجہ ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو (اے ڈی آر) میں اضافے پر مرکوز ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلیٹی ریویو میں مالیاتی شعبے کے مختلف حصوں — جیسے کہ بینک، مائیکروفنانس بینک ترقیاتی مالیاتی ادارے، نان بینک مالیاتی ادارے، انشورنس، مالیاتی منڈیاں اور مالیاتی نظام کا ڈھانچہ، کی کارکردگی اور خطرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی دیکھا گیا کہ غیر مالیاتی کارپوریٹ شعبہ، جو نجی شعبے میں بینکوں سے سب سے زیادہ قرض لینے والوں میں شامل ہے، مالی طور پر کتنا مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام پر بینکوں کے ڈپازٹس کم ہوکر 30.28 ٹریلین روپے تھے جو ستمبر 2024 میں 31.34 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے تھے جو سال کے آخری تین ماہ میں 1.06 ٹریلین روپے یا 3.5 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق بینکوں نے اپنی ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو (اے ڈی آر) بڑھانے کی کوشش کی جس کے باعث ڈیپازٹس اکٹھا کرنے کی رفتار بھی کم ہو گئی۔ چنانچہ اثاثوں میں اضافہ کرنے کے لیے بینکوں کا انحصار قرضوں پر بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے مزید کہا کہ بینکوں کی آمدن مستحکم رہی کیونکہ ان کے منافع کمانے والے اثاثوں کی مقدار میں اضافہ ہو تاہم شرحِ سود میں کمی کی وجہ سے آمدن میں تیزی سے اضافہ نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معلوم ہوا ہے کہ 2024 کے آخری سہ ماہی میں بینکوں نے حکومت کے مقرر کردہ لازمی ہدف کے تحت قرضے (ایڈوانسز) بڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے بینکوں کو اپنے ڈیپازٹس کے کم از کم 50 فیصد تک نجی شعبے کو قرضے (ایڈوانسز) دینے پڑے تاکہ 15 فیصد تک کے اضافی ٹیکس سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے تحت، بینکوں نے بظاہر نئے ڈیپازٹس کم کردیے اور کارپوریٹ شعبے کو قرضے دینے میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دسمبر 2024 کے آخر میں حکومت نے اے ڈی آر  (ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو) کی بنیاد پر لگنے والا ٹیکس ختم کر دیا اور اس کی جگہ بینکوں پر کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد بڑھا کر 44 فیصد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2025 میں بینکوں کے ڈیپازٹس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 31.63 کھرب روپے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیبلیٹی ریویو میں بتایا گیا کہ ڈیپازٹرز کا اعتماد بڑھانے اور تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیپازٹ پروٹیکشن کی حد 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے فوری ادائیگی کے نظام راست نے کیلنڈر سال 2024 کے دوران تقریبا 40 ملین صارفین تک رسائی اور تقریبا 800 ملین ٹرانزیکشنز کی پروسیسنگ کے ساتھ اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بینکنگ سیکٹر کے کریڈٹ رسک پروفائل میں نان پرفارمنگ قرضوں کی مناسب فراہمی کی وجہ سے کوئی سنگین تشویش ظاہر نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیار آئی ایف آرز-9 (انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈ) کو اپنانے سے بینکوں کے خطرات کو سنبھالنے کے طریقہ کار میں مزید بہتری آئے گی اور قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر یا نادہندگی کی صورت میں مالی تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بینکاری شعبے کا ”کپیٹل ایڈیسی ریشو“ (سی اے آر) مزید بہتر ہو کر 20.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کہ نہ صرف عالمی معیار سے زیادہ ہے بلکہ ملکی ریگولیٹری تقاضوں سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے دوران معاشی حالات میں نمایاں بہتری آئی، جس کا اظہار مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اس کے نتیجے میں شرح سود میں بڑی کمی، مالیاتی خسارے پر قابو پانے، روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ میں استحکام، معاشی سرگرمیوں میں اضافے، اور بیرونی کھاتوں کے توازن میں بہتری سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں، مالیاتی شعبہ نے 17.8 فیصد کی معقول رفتار سے ترقی کرتے ہوئے 2024 کے دوران اپنے آپریشنل اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے ”فنانشل اسٹیبلیٹی ریویو – 2024“ میں کہا ہے کہ  31 دسمبر 2024 کو ختم ہونے والے سال کے دوران پاکستانی بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹ (جمع شدہ رقوم) بڑھانے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ان کی توجہ ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو (اے ڈی آر) میں اضافے پر مرکوز ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیبلیٹی ریویو میں مالیاتی شعبے کے مختلف حصوں — جیسے کہ بینک، مائیکروفنانس بینک ترقیاتی مالیاتی ادارے، نان بینک مالیاتی ادارے، انشورنس، مالیاتی منڈیاں اور مالیاتی نظام کا ڈھانچہ، کی کارکردگی اور خطرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی دیکھا گیا کہ غیر مالیاتی کارپوریٹ شعبہ، جو نجی شعبے میں بینکوں سے سب سے زیادہ قرض لینے والوں میں شامل ہے، مالی طور پر کتنا مضبوط ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام پر بینکوں کے ڈپازٹس کم ہوکر 30.28 ٹریلین روپے تھے جو ستمبر 2024 میں 31.34 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے تھے جو سال کے آخری تین ماہ میں 1.06 ٹریلین روپے یا 3.5 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق بینکوں نے اپنی ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو (اے ڈی آر) بڑھانے کی کوشش کی جس کے باعث ڈیپازٹس اکٹھا کرنے کی رفتار بھی کم ہو گئی۔ چنانچہ اثاثوں میں اضافہ کرنے کے لیے بینکوں کا انحصار قرضوں پر بڑھ گیا۔</p>
<p>مرکزی بینک نے مزید کہا کہ بینکوں کی آمدن مستحکم رہی کیونکہ ان کے منافع کمانے والے اثاثوں کی مقدار میں اضافہ ہو تاہم شرحِ سود میں کمی کی وجہ سے آمدن میں تیزی سے اضافہ نہیں ہو سکا۔</p>
<p>معلوم ہوا ہے کہ 2024 کے آخری سہ ماہی میں بینکوں نے حکومت کے مقرر کردہ لازمی ہدف کے تحت قرضے (ایڈوانسز) بڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔</p>
<p>مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے بینکوں کو اپنے ڈیپازٹس کے کم از کم 50 فیصد تک نجی شعبے کو قرضے (ایڈوانسز) دینے پڑے تاکہ 15 فیصد تک کے اضافی ٹیکس سے بچا جا سکے۔</p>
<p>اس مقصد کے تحت، بینکوں نے بظاہر نئے ڈیپازٹس کم کردیے اور کارپوریٹ شعبے کو قرضے دینے میں اضافہ کیا۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دسمبر 2024 کے آخر میں حکومت نے اے ڈی آر  (ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو) کی بنیاد پر لگنے والا ٹیکس ختم کر دیا اور اس کی جگہ بینکوں پر کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد بڑھا کر 44 فیصد کر دی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2025 میں بینکوں کے ڈیپازٹس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 31.63 کھرب روپے ہو گئے۔</p>
<p>اسٹیبلیٹی ریویو میں بتایا گیا کہ ڈیپازٹرز کا اعتماد بڑھانے اور تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیپازٹ پروٹیکشن کی حد 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے فوری ادائیگی کے نظام راست نے کیلنڈر سال 2024 کے دوران تقریبا 40 ملین صارفین تک رسائی اور تقریبا 800 ملین ٹرانزیکشنز کی پروسیسنگ کے ساتھ اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بینکنگ سیکٹر کے کریڈٹ رسک پروفائل میں نان پرفارمنگ قرضوں کی مناسب فراہمی کی وجہ سے کوئی سنگین تشویش ظاہر نہیں ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیار آئی ایف آرز-9 (انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈ) کو اپنانے سے بینکوں کے خطرات کو سنبھالنے کے طریقہ کار میں مزید بہتری آئے گی اور قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر یا نادہندگی کی صورت میں مالی تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بینکاری شعبے کا ”کپیٹل ایڈیسی ریشو“ (سی اے آر) مزید بہتر ہو کر 20.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کہ نہ صرف عالمی معیار سے زیادہ ہے بلکہ ملکی ریگولیٹری تقاضوں سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے دوران معاشی حالات میں نمایاں بہتری آئی، جس کا اظہار مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اس کے نتیجے میں شرح سود میں بڑی کمی، مالیاتی خسارے پر قابو پانے، روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ میں استحکام، معاشی سرگرمیوں میں اضافے، اور بیرونی کھاتوں کے توازن میں بہتری سے ہوا۔</p>
<p>اس پس منظر میں، مالیاتی شعبہ نے 17.8 فیصد کی معقول رفتار سے ترقی کرتے ہوئے 2024 کے دوران اپنے آپریشنل اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272033</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Apr 2025 20:04:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/2420003255bacbe.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/2420003255bacbe.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
