<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 08:43:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 08:43:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس او ایز خود خریداری کے قواعد وضع کرسکتے ہیں، پیپرا بورڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272012/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری ادارے (ایس او ایز) اپنی خریداری کی پالیسیاں خود مرتب کرنے میں خودمختار ہیں، اور صرف اسی صورت میں ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے جب وہ پیپرا کے مجموعی فریم ورک سے انحراف کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، حالیہ بورڈ اجلاس کے دوران  پیپرا کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) نے ایجنڈا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کے تحت متعدد اداروں نے اپنی آزاد خریداری پالیسیاں  جائزہ لینے کے لیے  پیپرا کو بھیجی ہیں اور رائے طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ  پیپرا بورڈ کے 92ویں اجلاس میں 20 فروری 2025 کو پیش کیا گیا۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ یہ جاننے کے لیے وزارتِ قانون و انصاف سے قانونی رائے لی جائے کہ آیا ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کو  پیپرا آرڈیننس 2002 پر فوقیت حاصل ہے یا نہیں، جو کہ پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق ایک مخصوص قانون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ کے فیصلے کے بعد  پیپرا نے 11 مارچ 2025 کو وزارتِ قانون و انصاف سے رجوع کیا۔ وزارت نے 21 مارچ 2025 کے جواب میں واضح کیا کہ ایس او ایز اپنی خریداری کی پالیسیاں خود تشکیل دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وفاقی حکومت سے منظوری حاصل ہو۔ مزید برآں، انہیں صرف ان حدود میں  پیپرا آرڈیننس 2002 کی پیروی کرنی ہے جو وفاقی حکومت کی طرف سے متعین کی گئی ہوں، جس کا مطلب یہ ہے کہ  پیپرا آرڈیننس کی مکمل عملداری لازم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ  پیپرا آرڈیننس 2002 پبلک پروکیورمنٹ پر ایک خاص قانون ہے، ایس او ایز ایکٹ 2023 بھی ایک مخصوص قانون ہے جو صرف ایس او ایز کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ (2017 ایس سی ایم آر 1218) کی روشنی میں، جب دو مخصوص قوانین میں ٹکراؤ ہو تو بعد میں بنایا گیا قانون فوقیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کو  پیپرا آرڈیننس 2002 پر برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وضاحت کی روشنی میں، ایم ڈی  پیپرا نے کہا کہ اگرچہ ایس او ایز آزاد خریداری پالیسیاں بنا سکتے ہیں،  پیپرا کو ایک ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے ان پالیسیوں کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ان کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ  پیپرا کو ایسی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے قبل ایس او ایز سے یہ وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ وہ  پیپرا فریم ورک کے کن حصوں پر عمل کریں گے اور کہاں نئی شقیں یا انحرافات شامل کریں گے، جن کی مکمل وضاحت بھی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ڈی پیپرا نے تجویز دی کہ  پیپرا کو ایس او ایز کی خریداری پالیسیوں کا درج ذیل نکات کی بنیاد پر جائزہ لینا چاہیے:&lt;br /&gt;
(i) بنیادی اصولوں کی پیروی،&lt;br /&gt;
(ii) انحراف کی نوعیت،&lt;br /&gt;
(iii) نئی پالیسی شقیں،&lt;br /&gt;
(iv)  سرکاری اعلامیہ بطور ایس او ایز،&lt;br /&gt;
(v) پروکیورمنٹ پالیسی کا دائرہ کار،&lt;br /&gt;
(vi) نگرانی و ضابطہ سازی کا نظام،&lt;br /&gt;
(vii) تھرڈ پارٹی جانچ اور شکایات کا ازالہ،&lt;br /&gt;
(viii) سی آئی پی ایس سرٹیفیکیشن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، بورڈ کے ایک رکن نے رائے دی کہ چونکہ وزارتِ قانون و انصاف نے ایس او ای ایکٹ اور  پیپرا آرڈیننس کا جائزہ لینے کے بعد یہ رائے دی ہے کہ ایس او ایز وفاقی حکومت کی منظوری سے اپنی آزاد خریداری پالیسیاں بنا سکتے ہیں،  پیپرا کا کام صرف ان پالیسیوں میں  پیپرا فریم ورک سے انحراف کی نشاندہی اور ضرورت کے مطابق تبصرہ کرنا ہے۔ مزید یہ کہ، ایسے ایس او ایز پر  پیپرا کو ریگولیٹر کی حیثیت سے عملدرآمد کا کوئی جواز نہیں جن کی خریداری  پیپرا فریم ورک کے مطابق نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری ادارے (ایس او ایز) اپنی خریداری کی پالیسیاں خود مرتب کرنے میں خودمختار ہیں، اور صرف اسی صورت میں ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے جب وہ پیپرا کے مجموعی فریم ورک سے انحراف کریں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق، حالیہ بورڈ اجلاس کے دوران  پیپرا کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) نے ایجنڈا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کے تحت متعدد اداروں نے اپنی آزاد خریداری پالیسیاں  جائزہ لینے کے لیے  پیپرا کو بھیجی ہیں اور رائے طلب کی ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ  پیپرا بورڈ کے 92ویں اجلاس میں 20 فروری 2025 کو پیش کیا گیا۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ یہ جاننے کے لیے وزارتِ قانون و انصاف سے قانونی رائے لی جائے کہ آیا ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کو  پیپرا آرڈیننس 2002 پر فوقیت حاصل ہے یا نہیں، جو کہ پبلک پروکیورمنٹ سے متعلق ایک مخصوص قانون ہے۔</p>
<p>بورڈ کے فیصلے کے بعد  پیپرا نے 11 مارچ 2025 کو وزارتِ قانون و انصاف سے رجوع کیا۔ وزارت نے 21 مارچ 2025 کے جواب میں واضح کیا کہ ایس او ایز اپنی خریداری کی پالیسیاں خود تشکیل دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وفاقی حکومت سے منظوری حاصل ہو۔ مزید برآں، انہیں صرف ان حدود میں  پیپرا آرڈیننس 2002 کی پیروی کرنی ہے جو وفاقی حکومت کی طرف سے متعین کی گئی ہوں، جس کا مطلب یہ ہے کہ  پیپرا آرڈیننس کی مکمل عملداری لازم نہیں۔</p>
<p>وزارت نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ  پیپرا آرڈیننس 2002 پبلک پروکیورمنٹ پر ایک خاص قانون ہے، ایس او ایز ایکٹ 2023 بھی ایک مخصوص قانون ہے جو صرف ایس او ایز کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ (2017 ایس سی ایم آر 1218) کی روشنی میں، جب دو مخصوص قوانین میں ٹکراؤ ہو تو بعد میں بنایا گیا قانون فوقیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، ایس او ایز ایکٹ 2023 کی دفعہ 17(2) کو  پیپرا آرڈیننس 2002 پر برتری حاصل ہے۔</p>
<p>اس وضاحت کی روشنی میں، ایم ڈی  پیپرا نے کہا کہ اگرچہ ایس او ایز آزاد خریداری پالیسیاں بنا سکتے ہیں،  پیپرا کو ایک ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے ان پالیسیوں کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ان کے اپنے فریم ورک سے ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ  پیپرا کو ایسی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے قبل ایس او ایز سے یہ وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ وہ  پیپرا فریم ورک کے کن حصوں پر عمل کریں گے اور کہاں نئی شقیں یا انحرافات شامل کریں گے، جن کی مکمل وضاحت بھی فراہم کی جائے۔</p>
<p>ایم ڈی پیپرا نے تجویز دی کہ  پیپرا کو ایس او ایز کی خریداری پالیسیوں کا درج ذیل نکات کی بنیاد پر جائزہ لینا چاہیے:<br />
(i) بنیادی اصولوں کی پیروی،<br />
(ii) انحراف کی نوعیت،<br />
(iii) نئی پالیسی شقیں،<br />
(iv)  سرکاری اعلامیہ بطور ایس او ایز،<br />
(v) پروکیورمنٹ پالیسی کا دائرہ کار،<br />
(vi) نگرانی و ضابطہ سازی کا نظام،<br />
(vii) تھرڈ پارٹی جانچ اور شکایات کا ازالہ،<br />
(viii) سی آئی پی ایس سرٹیفیکیشن۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، بورڈ کے ایک رکن نے رائے دی کہ چونکہ وزارتِ قانون و انصاف نے ایس او ای ایکٹ اور  پیپرا آرڈیننس کا جائزہ لینے کے بعد یہ رائے دی ہے کہ ایس او ایز وفاقی حکومت کی منظوری سے اپنی آزاد خریداری پالیسیاں بنا سکتے ہیں،  پیپرا کا کام صرف ان پالیسیوں میں  پیپرا فریم ورک سے انحراف کی نشاندہی اور ضرورت کے مطابق تبصرہ کرنا ہے۔ مزید یہ کہ، ایسے ایس او ایز پر  پیپرا کو ریگولیٹر کی حیثیت سے عملدرآمد کا کوئی جواز نہیں جن کی خریداری  پیپرا فریم ورک کے مطابق نہ ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272012</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Apr 2025 09:34:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/2409341237a4f58.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/2409341237a4f58.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
