<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 14:17:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 14:17:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر کے اعلیٰ مذاکرات کار کا غزہ مذاکرات کی رفتار پر اظہار مایوسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر کے چیف مذاکرات کار نے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے پر ایک ماہ قبل دوبارہ حملے شروع کرنے اور مذاکرات کا ایک اور دور کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد الخلیفی نے جمعہ کو کہا کہ ہم یقیناً مذاکرات کے عمل کی سست رفتاری سے مایوس ہیں کیوں کہ ایک فوری نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں انسانی جانیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں اگر یہ فوجی کارروائی روز بروز جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنوری 19 کو ایک جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوا تھا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ایک سال سے زائد عرصے کے حملے بڑی حد تک رک گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کا ابتدائی مرحلہ مارچ کے اوائل میں ختم ہو گیا تھا جس کے بعد فریقین آئندہ کے لائحہ عمل پر اب تک متفق نہ ہوسکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جنگ کے مستقل خاتمے کی جانب بڑھنا چاہیے، جیسا کہ جنوری کے فریم ورک میں طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل، جس نے ابتدائی مرحلے میں توسیع کی درخواست کی تھی، نے 18 مارچ کو دوبارہ غزہ میں فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے، جس سے پہلے اس نے امداد کی ترسیل بھی روک دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی شب، حماس نے اشارہ دیا کہ وہ اسرائیل کی نئی 45 دن کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی گروپ کے زیر حراست 10 یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’شور‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزیر مملکت نے کہا کہ ہم نے پچھلے کئی دنوں سے مسلسل کام کیا ہے تاکہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور اُس معاہدے کو بحال کیا جا سکے جسے دونوں نے پہلے منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم مشکلات کے باوجود اس کے لئے پرعزم رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثالثی کے طویل عمل کے دوران قطر اسرائیل اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے براہ راست تنقید کا نشانہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو کے کم از کم دو معاونین پر شبہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں دوحہ کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے قطری حکومت سے رقم وصول کی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ قطر نے ان الزامات ’بدنام کرنے کی مہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل مارچ میں اسرائیل کی داخلی سیکورٹی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں خلیجی ریاست سے ملنے والی رقوم کو 7 اکتوبر کے حملے سے قبل حماس کی فوجی طاقت میں اضافے سے منسوب کیا گیا تھا۔ قطر نے ان الزامات کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخلیفی نے کہا کہ ہمیں اپنی شمولیت کے ابتدائی دور سے ہی اس قسم کی تنقید اور منفی تبصرے موصول ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی سیاق و سباق کے تنقید، جیسا کہ ہم خود نیتن یاہو سے سنتے رہتے ہیں، اکثر صرف شور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخلیفی نے نیتن یاہو کی جانب سے امریکہ میں قائم انجیلی مسیحی چینل ڈے اسٹار کو دیے گئے حالیہ بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر نے امریکی کالج کیمپس میں ’امریکہ مخالف اور صیہونیت مخالف‘ کو فروغ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کشیدگی میں کمی‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی تعلیمی شراکت داری کے بارے میں ان کے دعووں کو بار بار غلط ثابت کیا گیا ہے۔ قطری عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ شفاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، جس میں الخلیفی اس کے اہم مذاکرات کار ہیں، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں حالیہ مہینوں کے دوران ابھرنے والے تنازعے میں سہولت کار کے طور پر بھی سامنے آیا ہے، مسلح ایم 23 گروپ نے ملک کے وسائل سے مالا مال مشرق میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے اوائل میں کانگو کے صدر فیلکس شیسیکیڈی اور ان کے روانڈا کے ہم منصب پال کاگامے، جن پر ایم 23 کی حمایت کا الزام ہے، نے دوحہ میں اچانک ملاقاتیں کیں اور بعد میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخلیفی نے کہا کہ یہ اجلاس کشیدگی میں کمی اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر ایک معاہدے کی طرف ایک راستہ تلاش کرنے کے لئے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزیر نے مزید کہا کہ ہم دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی یہ لچکدار ترتیب بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اگلے دنوں میں آپ جتنی کامیابیاں سن سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کامیابیاں ملیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخلیفی نے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کے بعد کہا کہ قطر نے ایم 23، روانڈا اور ڈی آر سی کو اسٹریٹجک کان کنی کے مرکز ولی کلے کے قریب ”کشیدگی کم کرنے“ پر راضی کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے ولی کلے سے مشرقی جانب، گوما کی طرف پیچھے ہٹنے کا عمل شروع ہو گیا۔ انہوں نے ڈی آر کانگو کے شمالی کیوو صوبے کے ایم 23 کے زیر قبضہ دارالحکومت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ تحریک ہمارے خیال میں ایک مثبت پیش رفت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخلیفی نے کہا کہ امریکہ ڈی آر کانگو میں ”ایک قابل اعتماد شراکت دار“ رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن میں افریقہ کے لئے امریکی سفیر مساد بولوس کے ساتھ تنازعہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلفی نے کہا کہ وہ صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بعد شام پر جاری پابندیوں کا معاملہ بھی امریکہ میں اٹھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کو گیس کی فراہمی کے لیے قطر کی مالی معاونت کے علاوہ قطر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ملک میں سرکاری شعبے کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ اس پر بہت غور سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ہم اس ماحول میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر کے چیف مذاکرات کار نے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے پر ایک ماہ قبل دوبارہ حملے شروع کرنے اور مذاکرات کا ایک اور دور کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>محمد الخلیفی نے جمعہ کو کہا کہ ہم یقیناً مذاکرات کے عمل کی سست رفتاری سے مایوس ہیں کیوں کہ ایک فوری نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں انسانی جانیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں اگر یہ فوجی کارروائی روز بروز جاری رہیں۔</p>
<p>قطر، امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنوری 19 کو ایک جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوا تھا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ایک سال سے زائد عرصے کے حملے بڑی حد تک رک گئے تھے۔</p>
<p>جنگ بندی کا ابتدائی مرحلہ مارچ کے اوائل میں ختم ہو گیا تھا جس کے بعد فریقین آئندہ کے لائحہ عمل پر اب تک متفق نہ ہوسکے ہیں۔</p>
<p>حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جنگ کے مستقل خاتمے کی جانب بڑھنا چاہیے، جیسا کہ جنوری کے فریم ورک میں طے پایا تھا۔</p>
<p>اسرائیل، جس نے ابتدائی مرحلے میں توسیع کی درخواست کی تھی، نے 18 مارچ کو دوبارہ غزہ میں فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے، جس سے پہلے اس نے امداد کی ترسیل بھی روک دی تھی۔</p>
<p>جمعرات کی شب، حماس نے اشارہ دیا کہ وہ اسرائیل کی نئی 45 دن کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول نہیں کرے گی۔</p>
<p>حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی گروپ کے زیر حراست 10 یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے۔</p>
<p>’شور‘</p>
<p>قطری وزیر مملکت نے کہا کہ ہم نے پچھلے کئی دنوں سے مسلسل کام کیا ہے تاکہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور اُس معاہدے کو بحال کیا جا سکے جسے دونوں نے پہلے منظور کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم مشکلات کے باوجود اس کے لئے پرعزم رہیں گے۔</p>
<p>ثالثی کے طویل عمل کے دوران قطر اسرائیل اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے براہ راست تنقید کا نشانہ رہا ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو کے کم از کم دو معاونین پر شبہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں دوحہ کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے قطری حکومت سے رقم وصول کی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ قطر نے ان الزامات ’بدنام کرنے کی مہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل مارچ میں اسرائیل کی داخلی سیکورٹی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں خلیجی ریاست سے ملنے والی رقوم کو 7 اکتوبر کے حملے سے قبل حماس کی فوجی طاقت میں اضافے سے منسوب کیا گیا تھا۔ قطر نے ان الزامات کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p>الخلیفی نے کہا کہ ہمیں اپنی شمولیت کے ابتدائی دور سے ہی اس قسم کی تنقید اور منفی تبصرے موصول ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی سیاق و سباق کے تنقید، جیسا کہ ہم خود نیتن یاہو سے سنتے رہتے ہیں، اکثر صرف شور ہوتا ہے۔</p>
<p>الخلیفی نے نیتن یاہو کی جانب سے امریکہ میں قائم انجیلی مسیحی چینل ڈے اسٹار کو دیے گئے حالیہ بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر نے امریکی کالج کیمپس میں ’امریکہ مخالف اور صیہونیت مخالف‘ کو فروغ دیا ہے۔</p>
<p>’کشیدگی میں کمی‘</p>
<p>قطر کی تعلیمی شراکت داری کے بارے میں ان کے دعووں کو بار بار غلط ثابت کیا گیا ہے۔ قطری عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ شفاف ہے۔</p>
<p>قطر، جس میں الخلیفی اس کے اہم مذاکرات کار ہیں، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں حالیہ مہینوں کے دوران ابھرنے والے تنازعے میں سہولت کار کے طور پر بھی سامنے آیا ہے، مسلح ایم 23 گروپ نے ملک کے وسائل سے مالا مال مشرق میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔</p>
<p>مارچ کے اوائل میں کانگو کے صدر فیلکس شیسیکیڈی اور ان کے روانڈا کے ہم منصب پال کاگامے، جن پر ایم 23 کی حمایت کا الزام ہے، نے دوحہ میں اچانک ملاقاتیں کیں اور بعد میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p>الخلیفی نے کہا کہ یہ اجلاس کشیدگی میں کمی اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر ایک معاہدے کی طرف ایک راستہ تلاش کرنے کے لئے ہوا ہے۔</p>
<p>قطری وزیر نے مزید کہا کہ ہم دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی یہ لچکدار ترتیب بنانے میں کامیاب رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اگلے دنوں میں آپ جتنی کامیابیاں سن سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کامیابیاں ملیں گی۔</p>
<p>الخلیفی نے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کے بعد کہا کہ قطر نے ایم 23، روانڈا اور ڈی آر سی کو اسٹریٹجک کان کنی کے مرکز ولی کلے کے قریب ”کشیدگی کم کرنے“ پر راضی کر لیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے ولی کلے سے مشرقی جانب، گوما کی طرف پیچھے ہٹنے کا عمل شروع ہو گیا۔ انہوں نے ڈی آر کانگو کے شمالی کیوو صوبے کے ایم 23 کے زیر قبضہ دارالحکومت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ تحریک ہمارے خیال میں ایک مثبت پیش رفت تھی۔</p>
<p>الخلیفی نے کہا کہ امریکہ ڈی آر کانگو میں ”ایک قابل اعتماد شراکت دار“ رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن میں افریقہ کے لئے امریکی سفیر مساد بولوس کے ساتھ تنازعہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>خلفی نے کہا کہ وہ صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بعد شام پر جاری پابندیوں کا معاملہ بھی امریکہ میں اٹھائیں گے۔</p>
<p>شام کو گیس کی فراہمی کے لیے قطر کی مالی معاونت کے علاوہ قطر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ملک میں سرکاری شعبے کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ اس پر بہت غور سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ہم اس ماحول میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271892</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Apr 2025 16:11:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/20160906b159bfe.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/20160906b159bfe.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
