<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 14:17:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 14:17:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن لڑنے کیلے تیار ہیں، چین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271886/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے امریکہ میں سفیر شیے فینگ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ مشترکہ بنیاد تلاش کرے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دے، جبکہ خبردار کیا کہ چین تجارتی جنگ میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز واشنگٹن میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے — جس کی تفصیلات چینی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں — شیے فینگ نے کہا کہ ٹیرفز (محصولات) عالمی معیشت کو تباہ کر دیں گے، اور انہوں نے 1930 میں امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات اور گریٹ ڈپریشن (عظیم کساد بازاری) کے درمیان مماثلت کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روایتی چینی طب کے اصولوں، جیسے یِن اور یانگ کی متوازن قوتوں کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے تعلقات میں ہم آہنگی کو رہنما اصول بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک اچھی چینی روایتی طبی ترکیب میں مختلف اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور بہترین طبی اثر پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی طرح زمین اتنی بڑی ہے کہ اس میں چین اور امریکہ دونوں کے لیے جگہ ہے۔ ہمیں باہم ٹکراؤ کے بجائے پرامن بقائے باہمی کو اپنانا چاہیے، اور ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ہم ایک تباہ کن صورتحال میں پھنس جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی جنگ نے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان وسیع تجارتی روابط کو تقریباً منجمد کر دیا ہے، دونوں جانب سے 100 فیصد سے زائد کے محصولات اور متعدد تجارتی، سرمایہ کاری و ثقافتی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی اعلیٰ جہاز سازی کی تنظیم نے ہفتے کے روز امریکہ کے ان منصوبوں پر تنقید کی جن کے تحت چین سے منسلک جہازوں پر بندرگاہ فیس عائد کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ جاپان، تائیوان اور دیگر ممالک پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ”لبریشن ڈے“ ٹیرف پالیسی پر واشنگٹن سے بات چیت کے لیے تیار یا سرگرم ہیں، چین کے ساتھ فی الحال کسی اعلیٰ سطح مکالمے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ ”اچھی نجی گفتگو“ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ  ویسے، ہمارا چین کے ساتھ اچھا رابطہ ہے۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے کہا ہے کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے امریکہ کو احترام کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیے فینگ نے کہا کہ چین تجارتی جنگ کا مخالف ہے اور جو بھی ملک اس پر محصولات لگائے گا، چین اس کا جواب دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے امریکہ میں سفیر شیے فینگ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ مشترکہ بنیاد تلاش کرے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دے، جبکہ خبردار کیا کہ چین تجارتی جنگ میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کے روز واشنگٹن میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے — جس کی تفصیلات چینی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں — شیے فینگ نے کہا کہ ٹیرفز (محصولات) عالمی معیشت کو تباہ کر دیں گے، اور انہوں نے 1930 میں امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات اور گریٹ ڈپریشن (عظیم کساد بازاری) کے درمیان مماثلت کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے روایتی چینی طب کے اصولوں، جیسے یِن اور یانگ کی متوازن قوتوں کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے تعلقات میں ہم آہنگی کو رہنما اصول بننا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک اچھی چینی روایتی طبی ترکیب میں مختلف اجزاء شامل ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور بہترین طبی اثر پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی طرح زمین اتنی بڑی ہے کہ اس میں چین اور امریکہ دونوں کے لیے جگہ ہے۔ ہمیں باہم ٹکراؤ کے بجائے پرامن بقائے باہمی کو اپنانا چاہیے، اور ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ہم ایک تباہ کن صورتحال میں پھنس جائیں۔</p>
<p>تجارتی جنگ نے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان وسیع تجارتی روابط کو تقریباً منجمد کر دیا ہے، دونوں جانب سے 100 فیصد سے زائد کے محصولات اور متعدد تجارتی، سرمایہ کاری و ثقافتی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>چین کی اعلیٰ جہاز سازی کی تنظیم نے ہفتے کے روز امریکہ کے ان منصوبوں پر تنقید کی جن کے تحت چین سے منسلک جہازوں پر بندرگاہ فیس عائد کی جا رہی ہے۔</p>
<p>جبکہ جاپان، تائیوان اور دیگر ممالک پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ”لبریشن ڈے“ ٹیرف پالیسی پر واشنگٹن سے بات چیت کے لیے تیار یا سرگرم ہیں، چین کے ساتھ فی الحال کسی اعلیٰ سطح مکالمے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ ”اچھی نجی گفتگو“ کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ  ویسے، ہمارا چین کے ساتھ اچھا رابطہ ہے۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔</p>
<p>چین نے کہا ہے کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے امریکہ کو احترام کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>شیے فینگ نے کہا کہ چین تجارتی جنگ کا مخالف ہے اور جو بھی ملک اس پر محصولات لگائے گا، چین اس کا جواب دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271886</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Apr 2025 12:36:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/2012355277fa74a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/2012355277fa74a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
