<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:24:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:24:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای نقل و حرکت کو تیز کرنے کے لئے آئی ایف سی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت الیکٹرک ٹو وہیلر اور تھری وہیلر گاڑیوں (ای-2/3 ڈبلیو) میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے پر وزارت صنعت و پیداوار میں سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار سیف انجم اور آئی ایف سی کے پاکستان اور افغانستان کے کنٹری منیجر ذیشان شیخ نے دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشاورتی منصوبہ پالیسی، ریگولیٹری اور معیارات سے متعلق اصلاحات کی حمایت کرے گا تاکہ ای 2/3 ڈبلیو ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے، جس سے مارکیٹ کے خلا کو پر کرنے اور قانونی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت داری کے ایک حصے کے طور پر، آئی ایف سی تکنیکی نفاذ میں معاونت فراہم کرے گا اور اہم ریگولیٹرز بشمول انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ای سی اے) اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کیا جاسکے اور پاکستان میں ای-2/3 ڈبلیو مارکیٹ کی ترقی کو ہموار کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان، سینئر حکومتی حکام، پالیسی سازوں، صنعت کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ڈویژن ہارون اختر خان نے کہا کہ ایک سازگار پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرے گا اور الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلر گاڑیوں کو استعمال کرنے کے قابل بنائے گا، اس فریم ورک کو بہتر بنائے بغیر، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے لئے مقرر کردہ قومی اہداف کو پورا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور زور دیا کہ ای -2 /3 ڈبلیو اور الیکٹرک بسوں کو ان کے پھیلاؤ اور سماجی و اقتصادی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ترجیح دی جانی چاہئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے والی اہم حکمت عملیوں میں کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانا اور پالیسی ماحول کو واضح کرنا، لوکلائزیشن اور مجموعی خریداری کے ذریعے سرمائے کی لاگت کو کم کرنا - خاص طور پر ای -2 /3 ڈبلیو کے لئے - اور رسک شیئرنگ آلات کے ذریعے سستی کمرشل فنانسنگ کو کھولنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری سیف انجم  نے کہا کہ ہم آئی ایف سی کے ساتھ شراکت داری پر خوش ہیں جو پاکستان کو برقی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی طرف منتقلی تیز کرنے میں اہم معاونت فراہم کرے گا۔ سڑکوں پر 23 ملین سے زائد دو اور تین پہیے والی گاڑیوں کے ساتھ، نقل و حمل کو پائیدار بنانا اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم عوامی اور نجی سرمایہ کاری کو ایسے نقل و حمل کے طریقوں اور ویلیو چین میں بڑھائیں جو کم یا بالکل بھی فوسل ایندھن کا استعمال نہ کریں، اور یہ منصوبہ ہمیں ممکنہ سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے میں مدد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے لیے آئی ایف سی کے کنٹری منیجر ذیشان شیخ نے کہا  کہ الیکٹرک گاڑیاں پاکستان کے ٹرانسپورٹ بیڑے کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتی ہیں اور آئی ایف سی صاف ستھرے ٹرانسپورٹ سلوشنز کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے جو درآمدشدہ ایندھن پر انحصار کم کرتا ہے اور شہری ہوا کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ پاکستان کے وسیع تر پائیداری کے اہداف کی حمایت کرتا ہے، جو جدید، توانائی بچانے والی نقل و حمل کو فروغ دینے کے ذریعے ورلڈ بینک گروپ کے پاکستان کے لیے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت الیکٹرک ٹو وہیلر اور تھری وہیلر گاڑیوں (ای-2/3 ڈبلیو) میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>معاہدے پر وزارت صنعت و پیداوار میں سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار سیف انجم اور آئی ایف سی کے پاکستان اور افغانستان کے کنٹری منیجر ذیشان شیخ نے دستخط کیے۔</p>
<p>یہ مشاورتی منصوبہ پالیسی، ریگولیٹری اور معیارات سے متعلق اصلاحات کی حمایت کرے گا تاکہ ای 2/3 ڈبلیو ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے، جس سے مارکیٹ کے خلا کو پر کرنے اور قانونی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>شراکت داری کے ایک حصے کے طور پر، آئی ایف سی تکنیکی نفاذ میں معاونت فراہم کرے گا اور اہم ریگولیٹرز بشمول انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ای سی اے) اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کیا جاسکے اور پاکستان میں ای-2/3 ڈبلیو مارکیٹ کی ترقی کو ہموار کیا جاسکے۔</p>
<p>تقریب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان، سینئر حکومتی حکام، پالیسی سازوں، صنعت کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔</p>
<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ڈویژن ہارون اختر خان نے کہا کہ ایک سازگار پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرے گا اور الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلر گاڑیوں کو استعمال کرنے کے قابل بنائے گا، اس فریم ورک کو بہتر بنائے بغیر، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے لئے مقرر کردہ قومی اہداف کو پورا کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور زور دیا کہ ای -2 /3 ڈبلیو اور الیکٹرک بسوں کو ان کے پھیلاؤ اور سماجی و اقتصادی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ترجیح دی جانی چاہئے۔</p>
<p>آگے بڑھنے والی اہم حکمت عملیوں میں کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانا اور پالیسی ماحول کو واضح کرنا، لوکلائزیشن اور مجموعی خریداری کے ذریعے سرمائے کی لاگت کو کم کرنا - خاص طور پر ای -2 /3 ڈبلیو کے لئے - اور رسک شیئرنگ آلات کے ذریعے سستی کمرشل فنانسنگ کو کھولنا شامل ہے۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری سیف انجم  نے کہا کہ ہم آئی ایف سی کے ساتھ شراکت داری پر خوش ہیں جو پاکستان کو برقی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی طرف منتقلی تیز کرنے میں اہم معاونت فراہم کرے گا۔ سڑکوں پر 23 ملین سے زائد دو اور تین پہیے والی گاڑیوں کے ساتھ، نقل و حمل کو پائیدار بنانا اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم عوامی اور نجی سرمایہ کاری کو ایسے نقل و حمل کے طریقوں اور ویلیو چین میں بڑھائیں جو کم یا بالکل بھی فوسل ایندھن کا استعمال نہ کریں، اور یہ منصوبہ ہمیں ممکنہ سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے میں مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے لیے آئی ایف سی کے کنٹری منیجر ذیشان شیخ نے کہا  کہ الیکٹرک گاڑیاں پاکستان کے ٹرانسپورٹ بیڑے کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتی ہیں اور آئی ایف سی صاف ستھرے ٹرانسپورٹ سلوشنز کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے جو درآمدشدہ ایندھن پر انحصار کم کرتا ہے اور شہری ہوا کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ پاکستان کے وسیع تر پائیداری کے اہداف کی حمایت کرتا ہے، جو جدید، توانائی بچانے والی نقل و حمل کو فروغ دینے کے ذریعے ورلڈ بینک گروپ کے پاکستان کے لیے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے مطابق ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271850</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Apr 2025 10:12:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/190955068efb7ca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="794" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/190955068efb7ca.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
