<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جنگ کے خاتمے کے بدلے باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہیں، حماس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی جیلوں میں قید  فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے تمام یرغمالیوں کی رہائی کا جامع معاہدہ حماس کی اولین شرط بن چکا ہے۔ تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے ایک نشری تقریر میں اسرائیل کی عبوری جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حماس اب صرف ایک مکمل پیکج معاہدے پر بات چیت کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل الحیہ، جو حماس کے مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ جزوی معاہدوں کو جنگ اور محاصرے کے تسلسل کے لیے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم اس پالیسی کو آگے بڑھانے کا حصہ نہیں بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کی ثالثی سے جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اسرائیل اور حماس ایک دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ پیر کو قاہرہ میں ہونے والے تازہ مذاکرات بھی کسی پیشرفت کے بغیر ختم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جیمز ہیوئٹ نے حماس کے موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حماس امن میں نہیں، بلکہ مسلسل تشدد میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کریں، ورنہ انجام کے لیے تیار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے 45 روزہ عبوری جنگ بندی کی پیشکش کی تھی، جسے حماس نے مسترد کر دیا۔ اسرائیل کی شرط تھی کہ حماس ہتھیار ڈالے، جسے حماس نے ناقابل قبول قرار دیا۔ مارچ میں حماس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع سے انکار پر اسرائیل نے دوبارہ زمینی اور فضائی حملے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حملوں میں جمعرات کے روز کم از کم 32 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں ایک اقوام متحدہ کے اسکول پر بمباری سے چھ افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ حماس کے کمانڈ سینٹر پر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی ابتداء 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے ہوئی تھی، جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 51,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی جیلوں میں قید  فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے تمام یرغمالیوں کی رہائی کا جامع معاہدہ حماس کی اولین شرط بن چکا ہے۔ تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے ایک نشری تقریر میں اسرائیل کی عبوری جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حماس اب صرف ایک مکمل پیکج معاہدے پر بات چیت کرے گی۔</strong></p>
<p>خلیل الحیہ، جو حماس کے مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ جزوی معاہدوں کو جنگ اور محاصرے کے تسلسل کے لیے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم اس پالیسی کو آگے بڑھانے کا حصہ نہیں بنیں گے۔</p>
<p>مصر کی ثالثی سے جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اسرائیل اور حماس ایک دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ پیر کو قاہرہ میں ہونے والے تازہ مذاکرات بھی کسی پیشرفت کے بغیر ختم ہو گئے۔</p>
<p>امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جیمز ہیوئٹ نے حماس کے موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حماس امن میں نہیں، بلکہ مسلسل تشدد میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کریں، ورنہ انجام کے لیے تیار رہیں۔</p>
<p>اسرائیل نے 45 روزہ عبوری جنگ بندی کی پیشکش کی تھی، جسے حماس نے مسترد کر دیا۔ اسرائیل کی شرط تھی کہ حماس ہتھیار ڈالے، جسے حماس نے ناقابل قبول قرار دیا۔ مارچ میں حماس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع سے انکار پر اسرائیل نے دوبارہ زمینی اور فضائی حملے شروع کر دیے۔</p>
<p>اسرائیلی حملوں میں جمعرات کے روز کم از کم 32 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں ایک اقوام متحدہ کے اسکول پر بمباری سے چھ افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ حماس کے کمانڈ سینٹر پر کیا گیا تھا۔</p>
<p>جنگ کی ابتداء 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے ہوئی تھی، جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 51,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271827</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Apr 2025 11:56:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/18115619e1072ba.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/18115619e1072ba.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
