<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فارما انڈسٹری: سیکٹرل ایکسپورٹ میں ایک سال کے دوران 52 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271824/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فارما انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد اس شعبے کی برآمدات میں ایک سال کے اندر 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات چیئرمین پی پی ایم اے توقیر الحق نے  وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات  کے دوران کہی۔ ملاقات کے دوران حکومت اورفارماسیوٹیکل انڈسٹری کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا محور باہمی تعاون کو فروغ دینا اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنا تھا، وفد نے وزیرصحت کو اس شعبے کی کارکردگی اور حالیہ مہینوں میں ہونے والی نمایاں پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقیر الحق نے بتایا کہ جولائی 2024 سے اب تک پاکستان میں فارماسیوٹیکل برآمدات میں 52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا سہرا حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسیوں کو جاتا ہے۔ ان پالیسیوں نے نہ صرف اس صنعت کو استحکام دیا بلکہ مارکیٹ میں ادویات کی قلت کا خاتمہ کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے مزید بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب 90 فیصد ادویات ملک کے اندر تیار کی جاتی ہیں، اور ان میں سے بہت سی مصنوعات برآمدی معیار پر بھی پوری اُترتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفی کمال نے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اپنے وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی حدود کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں آئے گا جب ریاست اکیلے ہر مریض کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز اور ریفرل سسٹم کی عدم موجودگی کی وجہ سے تیسرے درجے کے اسپتالوں کو مریضوں کے بھاری بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد مریض جنہیں بنیادی ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یو) میں جانا چاہئے، بڑے اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفی کمال نے ان چیلنجز کے حل میں ٹیلی میڈیسن کو کلیدی حیثیت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 80 فیصد سے زیادہ آبادی پہلے ہی ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ہم اسپتالوں پر بوجھ کم کرسکتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فارماسوٹیکل انڈسٹری سے ٹیلی میڈیسن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور اس شعبے میں مکمل حکومتی تعاون کی پیشکش کی۔ صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے انضمام کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے ایک اہم اصلاحات کا اعلان کیا: “نادرا کی مدد سے اب قومی شناختی نمبر مریض کا میڈیکل ریکارڈ (ایم آر) نمبر بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کمال نے مستقبل کے ایک پرجوش منصوبے کے بارے میں مزید بتایا: “جلد ہی، ہم ڈاکٹروں اور ادویات کو لوگوں کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں خامیوں کا اعتراف کیا لیکن بہتر اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت کے عزم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوام کو محفوظ، موثر، اعلیٰ معیار اور سستی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے کیو آر کوڈز کے نفاذ کی وکالت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمال نے دوا ساز کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں سخت اقدامات کریں، “جعلی ادویات ہمارے ملک اور ہماری کمپنیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فارما انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد اس شعبے کی برآمدات میں ایک سال کے اندر 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات چیئرمین پی پی ایم اے توقیر الحق نے  وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات  کے دوران کہی۔ ملاقات کے دوران حکومت اورفارماسیوٹیکل انڈسٹری کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p>ملاقات کا محور باہمی تعاون کو فروغ دینا اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنا تھا، وفد نے وزیرصحت کو اس شعبے کی کارکردگی اور حالیہ مہینوں میں ہونے والی نمایاں پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>توقیر الحق نے بتایا کہ جولائی 2024 سے اب تک پاکستان میں فارماسیوٹیکل برآمدات میں 52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا سہرا حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسیوں کو جاتا ہے۔ ان پالیسیوں نے نہ صرف اس صنعت کو استحکام دیا بلکہ مارکیٹ میں ادویات کی قلت کا خاتمہ کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔</p>
<p>وفد نے مزید بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب 90 فیصد ادویات ملک کے اندر تیار کی جاتی ہیں، اور ان میں سے بہت سی مصنوعات برآمدی معیار پر بھی پوری اُترتی ہیں۔</p>
<p>مصطفی کمال نے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اپنے وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی حدود کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں آئے گا جب ریاست اکیلے ہر مریض کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز اور ریفرل سسٹم کی عدم موجودگی کی وجہ سے تیسرے درجے کے اسپتالوں کو مریضوں کے بھاری بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد مریض جنہیں بنیادی ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یو) میں جانا چاہئے، بڑے اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں۔</p>
<p>مصطفی کمال نے ان چیلنجز کے حل میں ٹیلی میڈیسن کو کلیدی حیثیت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 80 فیصد سے زیادہ آبادی پہلے ہی ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ہم اسپتالوں پر بوجھ کم کرسکتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے فارماسوٹیکل انڈسٹری سے ٹیلی میڈیسن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور اس شعبے میں مکمل حکومتی تعاون کی پیشکش کی۔ صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے انضمام کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے ایک اہم اصلاحات کا اعلان کیا: “نادرا کی مدد سے اب قومی شناختی نمبر مریض کا میڈیکل ریکارڈ (ایم آر) نمبر بنے گا۔</p>
<p>مصطفیٰ کمال نے مستقبل کے ایک پرجوش منصوبے کے بارے میں مزید بتایا: “جلد ہی، ہم ڈاکٹروں اور ادویات کو لوگوں کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں خامیوں کا اعتراف کیا لیکن بہتر اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت کے عزم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوام کو محفوظ، موثر، اعلیٰ معیار اور سستی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے کیو آر کوڈز کے نفاذ کی وکالت کی۔</p>
<p>کمال نے دوا ساز کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں سخت اقدامات کریں، “جعلی ادویات ہمارے ملک اور ہماری کمپنیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271824</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Apr 2025 11:01:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/181027510c7a539.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/181027510c7a539.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
