<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی ڈی ای کانفرنس: اسحاق ڈار کا این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظرثانی اور اُن وفاقی اداروں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اختیارات کی منتقلی کی روح کے منافی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی ایس ڈی ای) کے 38ویں سالانہ اجلاس و کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد وفاقی ادارے صوبوں کو منتقل کیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صوبوں کو دی گئی خودمختاری اور مالی وسائل کے بعد اب ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صحت، تعلیم، سوشل سروسز، پولیسنگ اور دیگر شعبوں میں واضح اور مثبت نتائج دکھائیں۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ مضبوط وفاق کے لیے مضبوط صوبے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ہر صوبے کے پاس منفرد صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے۔ انہوں نے پالیسیوں کے تسلسل اور سیاسی استحکام کو ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں صوبائی حکومتوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ نچلی سطح پر ڈیجیٹل اصلاحات جیسے سمارٹ اسکولز، ای گورننس اور ریئل ٹائم ڈیٹا سسٹمز ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل زراعت، گلگت بلتستان میں تعلیمی اصلاحات اور سندھ میں موسمیاتی لچک جیسے اقدامات کی مثالیں بھی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جب پاکستان ترقی کرے گا تو ہر صوبے کو اس پرواز میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور پی آئی ڈی ای کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے تحقیقی نتائج کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سماجی و اقتصادی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس میں ای وائی مینا کے محمد جے سیر نے محبوب الحق میموریل لیکچر دیا جس کا عنوان تھا: ”ڈیجیٹل دور میں خودمختاری کی ازسرنو تشریح“۔ انہوں نے ڈیجیٹل خودمختاری، ڈیٹا کنٹرول اور سائبر انفراسٹرکچر پر قومی خودمختاری کے تناظر میں روشنی ڈالی اور پاکستان میں مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ایکوسسٹمز میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے ”ڈیٹا کو نیا تیل“ قرار دیا اور نقدی سے پاک معیشت کی قانون سازی پر اپ ڈیٹس فراہم کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پیک 2.0 سے متعلق پینل میں چینی ماہرین اور پاکستانی اسکالرز نے سی پیک کی نئی سمت—جدت، ڈیجیٹل شراکت داری، اور علم کے تبادلے—پر تبادلہ خیال کیا۔ ہُواوے کے نمائندے نے پاکستان-چین ڈیجیٹل تعاون کی مزید وسعت کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر سیشنز میں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں درپیش رکاوٹوں جیسے کمزور انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، اور کمزور گورننس کو اجاگر کیا گیا، جبکہ مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں جیسے خواتین کے لیے مالیاتی تعلیم، دیہی علاقوں کے لیے ڈیجیٹل حکمتِ عملیاں، اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس میں ماہرین کا اتفاق تھا کہ اگرچہ چیلنجز درپیش ہیں، لیکن پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور تمام شعبے اس تبدیلی کو اپنانے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظرثانی اور اُن وفاقی اداروں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اختیارات کی منتقلی کی روح کے منافی ہیں۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی ایس ڈی ای) کے 38ویں سالانہ اجلاس و کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد وفاقی ادارے صوبوں کو منتقل کیے جانے چاہییں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صوبوں کو دی گئی خودمختاری اور مالی وسائل کے بعد اب ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صحت، تعلیم، سوشل سروسز، پولیسنگ اور دیگر شعبوں میں واضح اور مثبت نتائج دکھائیں۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ مضبوط وفاق کے لیے مضبوط صوبے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ہر صوبے کے پاس منفرد صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے۔ انہوں نے پالیسیوں کے تسلسل اور سیاسی استحکام کو ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں صوبائی حکومتوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ نچلی سطح پر ڈیجیٹل اصلاحات جیسے سمارٹ اسکولز، ای گورننس اور ریئل ٹائم ڈیٹا سسٹمز ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل زراعت، گلگت بلتستان میں تعلیمی اصلاحات اور سندھ میں موسمیاتی لچک جیسے اقدامات کی مثالیں بھی دیں۔</p>
<p>انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جب پاکستان ترقی کرے گا تو ہر صوبے کو اس پرواز میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور پی آئی ڈی ای کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے تحقیقی نتائج کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سماجی و اقتصادی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔</p>
<p>کانفرنس میں ای وائی مینا کے محمد جے سیر نے محبوب الحق میموریل لیکچر دیا جس کا عنوان تھا: ”ڈیجیٹل دور میں خودمختاری کی ازسرنو تشریح“۔ انہوں نے ڈیجیٹل خودمختاری، ڈیٹا کنٹرول اور سائبر انفراسٹرکچر پر قومی خودمختاری کے تناظر میں روشنی ڈالی اور پاکستان میں مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ایکوسسٹمز میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے ”ڈیٹا کو نیا تیل“ قرار دیا اور نقدی سے پاک معیشت کی قانون سازی پر اپ ڈیٹس فراہم کیں۔</p>
<p>سی پیک 2.0 سے متعلق پینل میں چینی ماہرین اور پاکستانی اسکالرز نے سی پیک کی نئی سمت—جدت، ڈیجیٹل شراکت داری، اور علم کے تبادلے—پر تبادلہ خیال کیا۔ ہُواوے کے نمائندے نے پاکستان-چین ڈیجیٹل تعاون کی مزید وسعت کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>دیگر سیشنز میں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں درپیش رکاوٹوں جیسے کمزور انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، اور کمزور گورننس کو اجاگر کیا گیا، جبکہ مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں جیسے خواتین کے لیے مالیاتی تعلیم، دیہی علاقوں کے لیے ڈیجیٹل حکمتِ عملیاں، اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے نجی و سرکاری شراکت داری۔</p>
<p>کانفرنس میں ماہرین کا اتفاق تھا کہ اگرچہ چیلنجز درپیش ہیں، لیکن پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور تمام شعبے اس تبدیلی کو اپنانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271818</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Apr 2025 09:05:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/180905275466f9a.png" type="image/png" medium="image" height="300" width="450">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/180905275466f9a.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
