<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 21:45:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 21:45:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک کا گردشی قرضوں میں کوئی کردار نہ ہونے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271812/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کے-الیکٹرک کے ترجمان نےایک بیان میں کہا ہے کہ  بطور ایک نجی یوٹیلیٹی، کے-الیکٹرک کا گردشی قرضے میں کوئی حصہ نہیں، جسے عالمی سطح پر معروف ادارے بھی تسلیم کر چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جائز دعوؤں کی منظوری سے کے-الیکٹرک کی مالیاتی صورتِ حال مضبوط ہو گی، جس سے منصوبہ بندی کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور صارفین کو زیادہ مستحکم بجلی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک اس معاملے پر ریگولیٹر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ کے-الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جو 1913 میں پاکستان میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس ای) کے طور پر قائم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2005 میں اس کی نجکاری کی گئی، اور یہ پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط (ورٹیکلی انٹی گریٹڈ) بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہے جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں کو بجلی فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے 66.4 فیصد اکثریتی شیئرز کے ای ایس پاور کے پاس ہیں، جو کہ سرمایہ کاروں کے ایک کنسورشیم پر مشتمل ہے، جن میں سعودی عرب کی الجمیح پاور لمیٹڈ، کویت کی نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ)، اور انفراسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپیٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان حکومت بھی کمپنی میں 24.36 فیصد کی شریکِ کار ہے، جبکہ باقی حصص اوپن مارکیٹ میں بطور فری فلوٹ لسٹڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کے-الیکٹرک کے ترجمان نےایک بیان میں کہا ہے کہ  بطور ایک نجی یوٹیلیٹی، کے-الیکٹرک کا گردشی قرضے میں کوئی حصہ نہیں، جسے عالمی سطح پر معروف ادارے بھی تسلیم کر چکے ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ جائز دعوؤں کی منظوری سے کے-الیکٹرک کی مالیاتی صورتِ حال مضبوط ہو گی، جس سے منصوبہ بندی کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور صارفین کو زیادہ مستحکم بجلی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔</p>
<p>کے-الیکٹرک اس معاملے پر ریگولیٹر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ کے-الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جو 1913 میں پاکستان میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس ای) کے طور پر قائم ہوئی۔</p>
<p>2005 میں اس کی نجکاری کی گئی، اور یہ پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط (ورٹیکلی انٹی گریٹڈ) بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہے جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں کو بجلی فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے 66.4 فیصد اکثریتی شیئرز کے ای ایس پاور کے پاس ہیں، جو کہ سرمایہ کاروں کے ایک کنسورشیم پر مشتمل ہے، جن میں سعودی عرب کی الجمیح پاور لمیٹڈ، کویت کی نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ)، اور انفراسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپیٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان حکومت بھی کمپنی میں 24.36 فیصد کی شریکِ کار ہے، جبکہ باقی حصص اوپن مارکیٹ میں بطور فری فلوٹ لسٹڈ ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271812</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Apr 2025 08:17:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/18081414c53af89.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="500" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/18081414c53af89.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
