<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی عدم توازن، پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کا امریکا سے تیل و گیس خریدنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت ایشیائی ممالک واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی سرپلس کو کم کرنے کے لیے امریکی تیل اور گیس خریدنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی درآمدی ڈیوٹیوں کے تحت ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ایشیائی ممالک کا امریکہ کے ساتھ بڑا تجارتی سرپلس ہے اور وہ توانائی کے بڑے درآمد کنندگان بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ٹیکسز کی پالیسی، جنہیں جزوی طور پر معطل کیا گیا ہے، نے معیشتوں اور منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچے کچھ اقدامات دیے گئے ہیں جنہیں ایشیائی ممالک امریکی تیل اور گیس کی خریداری بڑھانے کے لیے اختیار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز سے براہ راست منسلک ایک سرکاری ذرائع اور ریفائنری ایگزیکٹو کے مطابق، پاکستان پہلی بار امریکہ سے خام تیل درآمد کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ تجارتی عدم توازن کو دور کیا جا سکے جس کی وجہ سے امریکی محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنری کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی درآمدات کے برابر امریکی خام تیل خریدا جائے، جو تقریباً 1 بلین ڈالر مالیت کا تیل بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے حکومتی اور صنعت سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ بھارت امریکی ایل این جی پر درآمدی ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پر غور کررہا ہے تاکہ خریداری بڑھا سکے اور واشنگٹن کے ساتھ تجارتی سرپلس کو کم کر سکے، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت امریکی ایتھین اور ایل پی جی کی درآمدات پر ٹیکس بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے سب سے بڑے ایل این جی  درآمد کنندہ گیل انڈیا لمیٹڈ نے امریکہ میں ایک ایل این جی منصوبے میں 26 فیصد تک حصص خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جس کے ساتھ 15 سالہ گیس درآمدی معاہدہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونيشيا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے وزیر توانائی بہلیل لہرالیا نے منگل کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ انڈونیشیا ٹیرف مذاکرات میں امریکہ سے خام تیل اور ایل پی جی کی درآمدات میں تقریبا 10 ارب ڈالر کا اضافہ کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہلیل لہرالیا نے کہا کہ وزارت توانائی نے  امریکہ سے ایل پی جی کی درآمدی کوٹے میں اضافہ کرنے اور مزید امریکی خام تیل درآمد کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ہدف حاصل کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لينڈ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں امریکی ایل این جی اور ایتھین  کی مزید درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ منصوبے کے علاوہ، جس کے تحت تھائی لینڈ اگلے سال 1 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمد کرے گا، جس کی قیمت 500 ملین ڈالر ہوگی، 2026 میں شروع ہونے والے 15 سالہ منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 15 ملین ٹن ایل این جی کی درآمد کا ارادہ ہے، تھائی لینڈ اگلے پانچ سالوں میں امریکی ایل این جی کے مزید 1 ملین ٹن سے زائد کا معاہدہ بھی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھائی لینڈ کے وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ اگلے چار سال میں 100 ملین ڈالر مالیت کے 400،000 ٹن امریکی ایتھین درآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الاسکا ایل این جی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جاپان، جنوبی کوریا، اور تائیوان 44 ارب ڈالر کے قدرتی گیس کے برآمدی منصوبے میں شامل ہوں جو الاسکا میں واقع ہے، یہ واشنگٹن کی تجارت اور ٹیکسوں کے حوالے سے وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا مقصد الاسکا کے دور دراز شمال سے گیس کو جنوب کی طرف منتقل کرنا ہے، جس کے لیے 44 ارب ڈالر کی لاگت سے 1,300 کلومیٹر (800 میل) طویل پائپ لائن بنائی جائے گی، اور اس گیس کو ایل این جی کی صورت میں پاناما نہر کو نظرانداز کرتے ہوئے جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان بھیجا جائے گا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے آخر میں الاسکا کے ایک وفد نے جاپان کا دورہ کیا تاکہ پالیسی سازوں کو منصوبے سے آگاہ کر سکے اور اس کے ممکنہ حامیوں سے ملاقات کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف ایگزیکٹو کٹسویا ناکانیشی نے کہا ہے کہ جاپانی ٹریڈنگ ہاؤس مٹسوبشی کارپوریشن الاسکا ایل این جی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کرسکتی ہے ، حالانکہ کسی بھی فیصلے پر محتاط نظر ثانی کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی وزارت صنعت کے حکام اس منصوبے کے لیے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ورکنگ لیول مذاکرات کے حصے کے طور پر جلد الاسکا کا سفر کرنے پر غور کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ تائیوان کی سرکاری توانائی فرم سی پی سی کارپوریشن نے الاسکا گیس لائن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ ایل این جی خریدنے اور اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے تائیوان کے صدر لائی چنگ-ٹی نے کہا کہ یہ جزیرے کی توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت ایشیائی ممالک واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی سرپلس کو کم کرنے کے لیے امریکی تیل اور گیس خریدنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی درآمدی ڈیوٹیوں کے تحت ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>کئی ایشیائی ممالک کا امریکہ کے ساتھ بڑا تجارتی سرپلس ہے اور وہ توانائی کے بڑے درآمد کنندگان بھی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی ٹیکسز کی پالیسی، جنہیں جزوی طور پر معطل کیا گیا ہے، نے معیشتوں اور منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔</p>
<p>نیچے کچھ اقدامات دیے گئے ہیں جنہیں ایشیائی ممالک امریکی تیل اور گیس کی خریداری بڑھانے کے لیے اختیار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p><strong>پاکستان</strong></p>
<p>اس تجویز سے براہ راست منسلک ایک سرکاری ذرائع اور ریفائنری ایگزیکٹو کے مطابق، پاکستان پہلی بار امریکہ سے خام تیل درآمد کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ تجارتی عدم توازن کو دور کیا جا سکے جس کی وجہ سے امریکی محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ریفائنری کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی درآمدات کے برابر امریکی خام تیل خریدا جائے، جو تقریباً 1 بلین ڈالر مالیت کا تیل بنتا ہے۔</p>
<p><strong>بھارت</strong></p>
<p>بھارت کے حکومتی اور صنعت سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ بھارت امریکی ایل این جی پر درآمدی ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پر غور کررہا ہے تاکہ خریداری بڑھا سکے اور واشنگٹن کے ساتھ تجارتی سرپلس کو کم کر سکے، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے</p>
<p>بھارت امریکی ایتھین اور ایل پی جی کی درآمدات پر ٹیکس بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>ملک کے سب سے بڑے ایل این جی  درآمد کنندہ گیل انڈیا لمیٹڈ نے امریکہ میں ایک ایل این جی منصوبے میں 26 فیصد تک حصص خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے، جس کے ساتھ 15 سالہ گیس درآمدی معاہدہ بھی شامل ہے۔</p>
<p><strong>انڈونيشيا</strong></p>
<p>انڈونیشیا کے وزیر توانائی بہلیل لہرالیا نے منگل کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ انڈونیشیا ٹیرف مذاکرات میں امریکہ سے خام تیل اور ایل پی جی کی درآمدات میں تقریبا 10 ارب ڈالر کا اضافہ کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔</p>
<p>بہلیل لہرالیا نے کہا کہ وزارت توانائی نے  امریکہ سے ایل پی جی کی درآمدی کوٹے میں اضافہ کرنے اور مزید امریکی خام تیل درآمد کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ہدف حاصل کیا جاسکے۔</p>
<p><strong>تھائی لينڈ</strong></p>
<p>تھائی لینڈ نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں امریکی ایل این جی اور ایتھین  کی مزید درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>موجودہ منصوبے کے علاوہ، جس کے تحت تھائی لینڈ اگلے سال 1 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمد کرے گا، جس کی قیمت 500 ملین ڈالر ہوگی، 2026 میں شروع ہونے والے 15 سالہ منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 15 ملین ٹن ایل این جی کی درآمد کا ارادہ ہے، تھائی لینڈ اگلے پانچ سالوں میں امریکی ایل این جی کے مزید 1 ملین ٹن سے زائد کا معاہدہ بھی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>تھائی لینڈ کے وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ اگلے چار سال میں 100 ملین ڈالر مالیت کے 400،000 ٹن امریکی ایتھین درآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p><strong>الاسکا ایل این جی</strong></p>
<p>ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جاپان، جنوبی کوریا، اور تائیوان 44 ارب ڈالر کے قدرتی گیس کے برآمدی منصوبے میں شامل ہوں جو الاسکا میں واقع ہے، یہ واشنگٹن کی تجارت اور ٹیکسوں کے حوالے سے وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کا مقصد الاسکا کے دور دراز شمال سے گیس کو جنوب کی طرف منتقل کرنا ہے، جس کے لیے 44 ارب ڈالر کی لاگت سے 1,300 کلومیٹر (800 میل) طویل پائپ لائن بنائی جائے گی، اور اس گیس کو ایل این جی کی صورت میں پاناما نہر کو نظرانداز کرتے ہوئے جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان بھیجا جائے گا</p>
<p>مارچ کے آخر میں الاسکا کے ایک وفد نے جاپان کا دورہ کیا تاکہ پالیسی سازوں کو منصوبے سے آگاہ کر سکے اور اس کے ممکنہ حامیوں سے ملاقات کرسکے۔</p>
<p>چیف ایگزیکٹو کٹسویا ناکانیشی نے کہا ہے کہ جاپانی ٹریڈنگ ہاؤس مٹسوبشی کارپوریشن الاسکا ایل این جی منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کرسکتی ہے ، حالانکہ کسی بھی فیصلے پر محتاط نظر ثانی کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی وزارت صنعت کے حکام اس منصوبے کے لیے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ورکنگ لیول مذاکرات کے حصے کے طور پر جلد الاسکا کا سفر کرنے پر غور کررہے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ تائیوان کی سرکاری توانائی فرم سی پی سی کارپوریشن نے الاسکا گیس لائن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ ایل این جی خریدنے اور اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے تائیوان کے صدر لائی چنگ-ٹی نے کہا کہ یہ جزیرے کی توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271785</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Apr 2025 10:14:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/1710103189e1011.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/1710103189e1011.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
