<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:26:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:26:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ای-بائیکس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271568/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ  بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں سے بچنے کیلئے الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کا رخ کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو مارک میگزین کی جانب سے جاری انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 4 سال کے دوران  ملک میں ای ٹو وہیلر گاڑیوں کی پیداوار میں 200 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ڈی بی کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2021-2022 میں  ای وی اسکوٹر کی پیداوار 7،377 یونٹس تھی  جو مالی سال 2024-25 تک بڑھ کر 22،404 یونٹس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے سابق چیئرمین محمد صابر شیخ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ صوبہ پنجاب میں ای وی موٹر سائیکلیں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں تاہم ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ان کی مقبولیت نسبتاً کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کراچی میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ای ٹو وہیلرز کی کم مقبولیت کی بڑی وجہ ہے، تاہم ان کی ماحول دوست خصوصیت اور ایندھن کی غیرمعمولی بچت نے لوگوں کو ای وی موٹر سائیکلوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صابرشیخ نے سندھ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں فوری طور پر سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کرے اور دوسرے مرحلے میں ای ٹو وہیلرز کے لیے علیحدہ لائن مختص کریں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چونکہ الیکٹرک بائیکس خواتین میں زیادہ مقبول ہیں لہٰذا ایسی پالیسیاں نافذ کرنے سے ٹو وہیلرز کی فروخت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور سستی نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر موٹر سائیکل سواروں نے ای-بائیکس کی طرف منتقل ہونا شروع کردیا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والوں کے لیے یہ قیمتیں اکثر ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ای وی بائیکس اور اسکوٹرز کو ایک سستا متبادل سمجھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیئرمین نے بتایا کہ نئی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن 30 دن کے اندر لازمی ہے، ایسا نہ کرنے پر سندھ حکومت 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن کی اس 30 دن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ  ایس آر او کے مطابق، چاہے گاڑی کسی مالک، شوروم ڈیلر یا کسی فرد کے ذریعے درآمد کی گئی ہو یا مقامی طور پر تیار کی گئی ہو، اسے 30 دن کے اندر رجسٹر کروانا ضروری ہے۔ درآمدات کی صورت میں یہ مدت مال کی ڈیکلیئریشن (جی ڈی) یا بل آف انٹری (بی او ای) کی تاریخ سے شروع ہوگی جبکہ مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کے لیے یہ مدت انوائس کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ایم اے کے سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ای ٹو وہیلرز کے لیے فنانسنگ کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت یا بینک مالی معاونت کی سہولت فراہم کریں تو ماحول دوست بائیکس اور اسکوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ وہ صوبے کی خواتین طلبہ اور ورکنگ خواتین کو مفت پنک الیکٹرک موٹر سائیکلز فراہم کرے گی، اس منصوبے کے تحت تقریباً ایک ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلز خواتین کو فراہم کی جائیں گی جو کہ ایک شفاف اور اوپن بیلٹنگ عمل کے ذریعے تقسیم ہونگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس منصوبے کے لیے 300 ملین روپے کی رقم درکار ہے جو بجٹ کے باہر سے حاصل کی جائے گی۔ کابینہ نے یہ بات نوٹ کی کہ دنیا بھر میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد روزانہ کی آمدورفت کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو ترجیح دے رہی ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صابر شیخ  نے زور دیا کہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ صرف ایندھن سے چلنے والے انجنز کو ای وی انجنز میں تبدیل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ایم اے کے کے سابق چیئرمین  کے مطابق پاکستان میں ای وی بائیکس اور اسکوٹرز ایک لاکھ 60 ہزار سے 3 لاکھ روپے کی قیمت میں دستیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نئی بیٹریاں 58 ہزار روپے سے 98 ہزار روپے تک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای وی موٹر سائیکلیں اور اسکوٹر عام طور پر چھ 12 وولٹ بیٹریوں کا ایک سیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ہر بیٹری کی عمر 1,000 لائف سائیکلز کی ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اسے ہزار بار چارج کیا جاسکتا ہے۔ چارجنگ کا وقت چھ سے آٹھ گھنٹے تک ہوتا ہے اور اسکوٹر کی رفتار 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صابر شیخ کے مطابق ایک ای ٹو وہیلر ایک ہی چارج پر 100 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے تاہم اگر بیٹری کی کارکردگی میں کمی آتی ہے تو یہ رینج 15 سے 20 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دیکھ بھال کے لحاظ سے ای وی بائیکس نسبتاً مہنگی ہیں کیونکہ پاکستان میں اس کے اسپیئر پارٹس دستیاب نہیں ہیں اور انہیں درآمد کرنا پڑتا ہے جس سے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ  جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جنوری 2025 میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں نئی انرجی وہیکل پالیسی 2025 پر غور کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد ای وی کی پیداوار اور اپنانے کے چیلنجزحل کرنا اور ٹرانسپورٹ  شعبے میں صاف توانائی کی منتقلی کیلئے بلند اہداف مقرر کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای وی پالیسی 2025-2030 پاکستان کے تمام ٹرانسپورٹ سیکٹر کو فوسل ایندھن سے بجلی پر منتقل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے ذریعے تیار کی گئی اس پالیسی کا مقصد خطرناک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا، درآمد شدہ فوسل ایندھن پر انحصار کو گھٹانا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کا ایک اہم ہدف یہ ہے کہ سال 2030 تک تمام نئی گاڑیوں کی 30 فیصد فروخت الیکٹرک ہو اور سال 2040 تک یہ تعداد 90 فیصد تک پہنچ جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ  بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں سے بچنے کیلئے الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کا رخ کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>آٹو مارک میگزین کی جانب سے جاری انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 4 سال کے دوران  ملک میں ای ٹو وہیلر گاڑیوں کی پیداوار میں 200 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ای ڈی بی کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2021-2022 میں  ای وی اسکوٹر کی پیداوار 7،377 یونٹس تھی  جو مالی سال 2024-25 تک بڑھ کر 22،404 یونٹس ہوگئی۔</p>
<p>ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے سابق چیئرمین محمد صابر شیخ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ صوبہ پنجاب میں ای وی موٹر سائیکلیں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں تاہم ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ان کی مقبولیت نسبتاً کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کراچی میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ای ٹو وہیلرز کی کم مقبولیت کی بڑی وجہ ہے، تاہم ان کی ماحول دوست خصوصیت اور ایندھن کی غیرمعمولی بچت نے لوگوں کو ای وی موٹر سائیکلوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کردیا ہے۔</p>
<p>صابرشیخ نے سندھ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں فوری طور پر سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کرے اور دوسرے مرحلے میں ای ٹو وہیلرز کے لیے علیحدہ لائن مختص کریں ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چونکہ الیکٹرک بائیکس خواتین میں زیادہ مقبول ہیں لہٰذا ایسی پالیسیاں نافذ کرنے سے ٹو وہیلرز کی فروخت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور سستی نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر موٹر سائیکل سواروں نے ای-بائیکس کی طرف منتقل ہونا شروع کردیا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والوں کے لیے یہ قیمتیں اکثر ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ای وی بائیکس اور اسکوٹرز کو ایک سستا متبادل سمجھا جارہا ہے۔</p>
<p>سابق چیئرمین نے بتایا کہ نئی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن 30 دن کے اندر لازمی ہے، ایسا نہ کرنے پر سندھ حکومت 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن کی اس 30 دن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔</p>
<p>سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ  ایس آر او کے مطابق، چاہے گاڑی کسی مالک، شوروم ڈیلر یا کسی فرد کے ذریعے درآمد کی گئی ہو یا مقامی طور پر تیار کی گئی ہو، اسے 30 دن کے اندر رجسٹر کروانا ضروری ہے۔ درآمدات کی صورت میں یہ مدت مال کی ڈیکلیئریشن (جی ڈی) یا بل آف انٹری (بی او ای) کی تاریخ سے شروع ہوگی جبکہ مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کے لیے یہ مدت انوائس کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔</p>
<p>اے پی ایم اے کے سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ای ٹو وہیلرز کے لیے فنانسنگ کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔</p>
<p>اگر حکومت یا بینک مالی معاونت کی سہولت فراہم کریں تو ماحول دوست بائیکس اور اسکوٹرز کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ وہ صوبے کی خواتین طلبہ اور ورکنگ خواتین کو مفت پنک الیکٹرک موٹر سائیکلز فراہم کرے گی، اس منصوبے کے تحت تقریباً ایک ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلز خواتین کو فراہم کی جائیں گی جو کہ ایک شفاف اور اوپن بیلٹنگ عمل کے ذریعے تقسیم ہونگی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس منصوبے کے لیے 300 ملین روپے کی رقم درکار ہے جو بجٹ کے باہر سے حاصل کی جائے گی۔ کابینہ نے یہ بات نوٹ کی کہ دنیا بھر میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد روزانہ کی آمدورفت کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو ترجیح دے رہی ہے</p>
<p>صابر شیخ  نے زور دیا کہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ صرف ایندھن سے چلنے والے انجنز کو ای وی انجنز میں تبدیل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>اے پی ایم اے کے کے سابق چیئرمین  کے مطابق پاکستان میں ای وی بائیکس اور اسکوٹرز ایک لاکھ 60 ہزار سے 3 لاکھ روپے کی قیمت میں دستیاب ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ نئی بیٹریاں 58 ہزار روپے سے 98 ہزار روپے تک ہیں۔</p>
<p>ای وی موٹر سائیکلیں اور اسکوٹر عام طور پر چھ 12 وولٹ بیٹریوں کا ایک سیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ہر بیٹری کی عمر 1,000 لائف سائیکلز کی ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اسے ہزار بار چارج کیا جاسکتا ہے۔ چارجنگ کا وقت چھ سے آٹھ گھنٹے تک ہوتا ہے اور اسکوٹر کی رفتار 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>صابر شیخ کے مطابق ایک ای ٹو وہیلر ایک ہی چارج پر 100 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے تاہم اگر بیٹری کی کارکردگی میں کمی آتی ہے تو یہ رینج 15 سے 20 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دیکھ بھال کے لحاظ سے ای وی بائیکس نسبتاً مہنگی ہیں کیونکہ پاکستان میں اس کے اسپیئر پارٹس دستیاب نہیں ہیں اور انہیں درآمد کرنا پڑتا ہے جس سے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ  جاتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ جنوری 2025 میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں نئی انرجی وہیکل پالیسی 2025 پر غور کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد ای وی کی پیداوار اور اپنانے کے چیلنجزحل کرنا اور ٹرانسپورٹ  شعبے میں صاف توانائی کی منتقلی کیلئے بلند اہداف مقرر کرنا تھا۔</p>
<p>ای وی پالیسی 2025-2030 پاکستان کے تمام ٹرانسپورٹ سیکٹر کو فوسل ایندھن سے بجلی پر منتقل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے ذریعے تیار کی گئی اس پالیسی کا مقصد خطرناک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا، درآمد شدہ فوسل ایندھن پر انحصار کو گھٹانا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>پالیسی کا ایک اہم ہدف یہ ہے کہ سال 2030 تک تمام نئی گاڑیوں کی 30 فیصد فروخت الیکٹرک ہو اور سال 2040 تک یہ تعداد 90 فیصد تک پہنچ جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271568</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Apr 2025 15:35:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمادالدین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/1014242435cceb9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/1014242435cceb9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
