<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 13:13:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 13:13:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اطالوی قونصل جنرل کا پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271560/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی کے قونصل جنرل فیبریزیو بیلی نے اٹلی اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے آئندہ سالوں میں موجودہ تجارتی حجم کو کم از کم 3 ارب ڈالر تک دگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پرانہوں نے خاص طور پر کراچی میں دستیاب وسیع مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے اِسے بے پناہ اقتصادی صلاحیت کا حامل شہر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی قونصل جنرل نے کہا کہ توانائی، زراعت، پانی کی ری سائیکلنگ اور صنعتی مشینری سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ اٹلی ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے اعلیٰ معیار کی مشینری اور جدید طبی آلات بشمول نوزائیدہ بچوں کے لیے انکیوبیٹرز کی تیاری میں عالمی لیڈرہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، چیئرمین ڈپلومیٹک مشن اور ایمبیسیزلائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر مجید عزیز، عبداللہ ذکی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قونصل جنرل کی حیثیت سے صرف دو ماہ قبل عہدہ سنبھالنے والے فیبریزیو بیلی نے کراچی کے معاشی منظر نامے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات کو جاننے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کے شعبے میں بھی حوصلہ افزا امکانات موجود ہیں۔ ہمیں پاکستانی مارکیٹ میں اٹلی کی فارماسیوٹیکل مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کے سی سی آئی کو سال میں تین بار ایک جامع شعبہ جاتی رپورٹ تیار کرنے اور شیئر کرنے کا مشورہ دیا جس سے اٹلی کے کاروباری  اداروں کو کراچی اور پورے پاکستان میں دستیاب مواقع کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کے سی سی آئی کے اراکین کو اٹلی کے قونصل خانے میں ٹریڈ پروموشن سیکشن کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سپورٹ کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیبریزیو بیلی نے کہا کہ یہ صرف ایک و نڈو نہیں بلکہ اٹلی کے قونصل خانے میں تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں اور نئے مواقع کی نشاندہی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین نے کہا کہ یورپی یونین مسلسل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل رہی ہے جہاں مالی سال 2024میں 8ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اٹلی یورپی یونین میں پاکستان کا ایک اہم تجارتی پارٹنر بن کر ابھرا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم مالی سال 2024 میں 1.6 ارب ڈالر سے زیادہ رہا جس میں تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا۔ اس عرصے میں پاکستان کی اٹلی کو برآمدات 1.12 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاء العارفین کا ماننا تھا کہ امریکہ کے حالیہ ٹیرف میں اضافہ عالمی معیشت اور تجارت کے حوالے سے تشویش کا باعث بنا ہے۔ پاکستان اس کو صرف ایک چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹیجک اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا ایک موقع سمجھتا ہے اور اس معاملے کو ایک جامع منصوبے اور محتاط ردعمل کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان اور اٹلی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اقتصادی سفارتکاری کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان برآمدات کو فروغ دینے کے لیے نئے راستوں کی تلاش کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی کے قونصل جنرل فیبریزیو بیلی نے اٹلی اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے آئندہ سالوں میں موجودہ تجارتی حجم کو کم از کم 3 ارب ڈالر تک دگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پرانہوں نے خاص طور پر کراچی میں دستیاب وسیع مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے اِسے بے پناہ اقتصادی صلاحیت کا حامل شہر قرار دیا۔</p>
<p>اطالوی قونصل جنرل نے کہا کہ توانائی، زراعت، پانی کی ری سائیکلنگ اور صنعتی مشینری سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ اٹلی ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے اعلیٰ معیار کی مشینری اور جدید طبی آلات بشمول نوزائیدہ بچوں کے لیے انکیوبیٹرز کی تیاری میں عالمی لیڈرہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، چیئرمین ڈپلومیٹک مشن اور ایمبیسیزلائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر مجید عزیز، عبداللہ ذکی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔</p>
<p>قونصل جنرل کی حیثیت سے صرف دو ماہ قبل عہدہ سنبھالنے والے فیبریزیو بیلی نے کراچی کے معاشی منظر نامے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات کو جاننے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کے شعبے میں بھی حوصلہ افزا امکانات موجود ہیں۔ ہمیں پاکستانی مارکیٹ میں اٹلی کی فارماسیوٹیکل مصنوعات کی تیاری کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کے سی سی آئی کو سال میں تین بار ایک جامع شعبہ جاتی رپورٹ تیار کرنے اور شیئر کرنے کا مشورہ دیا جس سے اٹلی کے کاروباری  اداروں کو کراچی اور پورے پاکستان میں دستیاب مواقع کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>انہوں نے کے سی سی آئی کے اراکین کو اٹلی کے قونصل خانے میں ٹریڈ پروموشن سیکشن کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سپورٹ کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>فیبریزیو بیلی نے کہا کہ یہ صرف ایک و نڈو نہیں بلکہ اٹلی کے قونصل خانے میں تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں اور نئے مواقع کی نشاندہی کریں۔</p>
<p>کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین نے کہا کہ یورپی یونین مسلسل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل رہی ہے جہاں مالی سال 2024میں 8ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ اٹلی یورپی یونین میں پاکستان کا ایک اہم تجارتی پارٹنر بن کر ابھرا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم مالی سال 2024 میں 1.6 ارب ڈالر سے زیادہ رہا جس میں تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا۔ اس عرصے میں پاکستان کی اٹلی کو برآمدات 1.12 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>ضیاء العارفین کا ماننا تھا کہ امریکہ کے حالیہ ٹیرف میں اضافہ عالمی معیشت اور تجارت کے حوالے سے تشویش کا باعث بنا ہے۔ پاکستان اس کو صرف ایک چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹیجک اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا ایک موقع سمجھتا ہے اور اس معاملے کو ایک جامع منصوبے اور محتاط ردعمل کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان اور اٹلی کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اقتصادی سفارتکاری کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان برآمدات کو فروغ دینے کے لیے نئے راستوں کی تلاش کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271560</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Apr 2025 12:38:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/101228223cafd0a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/101228223cafd0a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
