<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 16:02:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 16:02:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے شرح نمو کی پیش گوئی کم کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271547/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو کے بارے میں اپنے اندازے کو 2.5 فیصد تک کم کر دیا ہے، جو دسمبر 2024 میں 3 فیصد مقرر کیا تھا۔ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ ”ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک اپریل 2025“ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا انحصار بنیادی طور پر جاری اقتصادی اصلاحات کی کامیابی پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2024 میں 23.4 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، لیکن خبردار کیا گیا ہے کہ مہنگائی آئندہ مہینوں میں اپنے حالیہ کم ترین سطح سے دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ 2025 میں اقتصادی نمو 2.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو اصلاحات کے پروگرام کے نفاذ کی بدولت نجی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ موجودہ شرح نمو کے اندازے 2 اپریل 2025 کو امریکہ کی طرف سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان سے پہلے مرتب کیے گئے تھے، اس لیے یہ پیش گوئیاں صرف ان ٹیرف کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں جو پہلے سے لاگو تھے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل میں بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے نمو پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے لیے کئی خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں عالمی سطح پر اجناس اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلیاں، اور اندرونی سطح پر توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے دوران متوقع قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں کا دباؤ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سیاسی کشیدگیوں کے بڑھنے کے باعث کاروباری اعتماد میں کمی اور نجی سرمایہ کاری اور کھپت میں کمی آ سکتی ہے، جو مجموعی اقتصادی نمو کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی زرعی پیداوار میں کمی آئی ہے، اور اہم فصلوں کی پیداوار میں 11.2 فیصد کی کمی آئی ہے، جبکہ صنعتی پیداوار میں 1 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا سبب زرعی اراضی میں کمی، موسمیاتی تبدیلیاں اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کی تعریف کی ہے، جن کے تحت زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اور آئندہ مالی سال 26-2025 میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات کی جائیں گی۔ تاہم، پاکستان کو ابھی بھی کئی ساختی مسائل اور کمزوریاں درپیش ہیں، جیسے ٹیکس کی بنیاد میں توسیع، سماجی اخراجات میں اضافہ، اور سرکاری اداروں کے مالی خطرات سے نمٹنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کی پائیدار اور مستقل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی میں خواتین کی ورک فورس کی شرکت کا بڑا کردار ہے، جو موجودہ مالی سال 2021 میں صرف 23 فیصد تھی، جو جنوبی ایشیا کے اوسط 27 فیصد اور عالمی سطح پر 35 فیصد سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ تجویز کی گئی ہے کہ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی شرکت پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور خواتین کی معاشی طاقت کو مضبوط کر سکتی ہے، جس سے مجموعی طور پر معاشی ترقی اور سماجی بہتری میں اضافہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مالی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد، رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ پاکستان نے پہلی ششماہی میں 2.9 فیصد جی ڈی پی کے حساب سے پرائمری سرپلس حاصل کیا، تاہم ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باوجود، حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کی شرح کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، غیر ملکی امداد میں اضافے اور کارکنوں کی ترسیلات زر کے سبب پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو کے بارے میں اپنے اندازے کو 2.5 فیصد تک کم کر دیا ہے، جو دسمبر 2024 میں 3 فیصد مقرر کیا تھا۔ بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ ”ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک اپریل 2025“ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا انحصار بنیادی طور پر جاری اقتصادی اصلاحات کی کامیابی پر ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2024 میں 23.4 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، لیکن خبردار کیا گیا ہے کہ مہنگائی آئندہ مہینوں میں اپنے حالیہ کم ترین سطح سے دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ 2025 میں اقتصادی نمو 2.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو اصلاحات کے پروگرام کے نفاذ کی بدولت نجی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ موجودہ شرح نمو کے اندازے 2 اپریل 2025 کو امریکہ کی طرف سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان سے پہلے مرتب کیے گئے تھے، اس لیے یہ پیش گوئیاں صرف ان ٹیرف کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں جو پہلے سے لاگو تھے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا اور بحرالکاہل میں بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے نمو پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>بینک نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے لیے کئی خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں عالمی سطح پر اجناس اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلیاں، اور اندرونی سطح پر توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے دوران متوقع قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں کا دباؤ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سیاسی کشیدگیوں کے بڑھنے کے باعث کاروباری اعتماد میں کمی اور نجی سرمایہ کاری اور کھپت میں کمی آ سکتی ہے، جو مجموعی اقتصادی نمو کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی زرعی پیداوار میں کمی آئی ہے، اور اہم فصلوں کی پیداوار میں 11.2 فیصد کی کمی آئی ہے، جبکہ صنعتی پیداوار میں 1 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کا سبب زرعی اراضی میں کمی، موسمیاتی تبدیلیاں اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔</p>
<p>بینک نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کی تعریف کی ہے، جن کے تحت زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اور آئندہ مالی سال 26-2025 میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات کی جائیں گی۔ تاہم، پاکستان کو ابھی بھی کئی ساختی مسائل اور کمزوریاں درپیش ہیں، جیسے ٹیکس کی بنیاد میں توسیع، سماجی اخراجات میں اضافہ، اور سرکاری اداروں کے مالی خطرات سے نمٹنا شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کی پائیدار اور مستقل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی میں خواتین کی ورک فورس کی شرکت کا بڑا کردار ہے، جو موجودہ مالی سال 2021 میں صرف 23 فیصد تھی، جو جنوبی ایشیا کے اوسط 27 فیصد اور عالمی سطح پر 35 فیصد سے کم ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ تجویز کی گئی ہے کہ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی شرکت پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور خواتین کی معاشی طاقت کو مضبوط کر سکتی ہے، جس سے مجموعی طور پر معاشی ترقی اور سماجی بہتری میں اضافہ ہو گا۔</p>
<p>پاکستان کی مالی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد، رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ پاکستان نے پہلی ششماہی میں 2.9 فیصد جی ڈی پی کے حساب سے پرائمری سرپلس حاصل کیا، تاہم ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باوجود، حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کی شرح کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، غیر ملکی امداد میں اضافے اور کارکنوں کی ترسیلات زر کے سبب پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھنے کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271547</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Apr 2025 09:37:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/10085344f1cc19e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/10085344f1cc19e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
