<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 01:37:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 16 Aug 2026 01:37:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹی ابھرتی مارکیٹوں کے ڈالر بانڈز میں پھر فروخت کا دباؤ، پاکستانی بانڈز کی قدر میں 6 سینٹ سے زائد کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271527/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 104 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد بدھ کے روز چھوٹی اور خطرات کا شکار ابھرتی ہوئی معشیتوں کے عالمی بانڈز میں ایک بار پھر تیزی سے فروخت دیکھنے میں آئی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر اضطراب پھیل گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈ ویب کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر پر مبنی پاکستان کے طویل مدتی بانڈز کی قدر 6 سینٹ سے زیادہ کم ہونے کے بعد 70 سینٹ کی حد سے نیچے آگئی ہے جہاں قرضوں کو بحران کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے شرکاء کے مطابق سری لنکا، نائجیریا اور مصر کی جانب سے جاری کیے گئے طویل المیعاد بانڈز کی قدر میں 3.5 سے 4.5 سینٹ تک کی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ بدھ کو ٹرمپ کی جانب سے بھاری محصولات کے اعلان کے بعد سے چھوٹی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں قرض کو تیزی سے فروخت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران اثاثوں کی کلاس کے بہت سے بانڈز میں 10 سینٹ یا اس سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مندی ان معیشتوں کے لیے قرضوں کی لاگت میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے اور  بہت سے بانڈز اپنے منافع کو ڈبل ڈیجٹ میں دیکھ رہے ہیں جو انہیں عالمی سرمایہ کاری مارکیٹس سے رقم حاصل کرنے کے لیے غیر پر کشش بنادیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوسیٹ جنرل کے سینئر فرنٹیئر مارکیٹ اسٹریٹجسٹ گرگیلی ارموسی نے ک مارکیٹ میں کچھ خدشات ہیں کہ بیرونی معاشی حالات اور ممکنہ طور پر سرمایہ کاروں کا خطرہ مول لینے کا رجحان کم ہونے کی وجہ سے فرنٹیئرز کے لیے مستقبل میں بیرونی مالی امداد حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
آئیں گی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس سے درمیانی مدت میں ان معیشتوں میں کرنسی کی مزید کمزوری پیدا ہوسکتی ہے اور مرکزی بینکوں کے لئے اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لئے شرح سود کو کم کرنے کی گنجائش کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی فرنٹیئر مارکیٹ حکومتوں، خاص طور پر افریقی خودمختار حکومتوں نے حال ہی میں یوروبانڈ مارکیٹس میں واپسی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکومتیں تقریباً دو سال تک یوروبانڈ مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہیں جب کرونا کے اثرات اور یوکرین پر بھرپور روسی حملے سے مہنگائی مزید بڑھی اور عالمی شرح سود میں اضافے کے چکر کو جنم دیا جس کے سبب ان حکومتوں کیلئے فنڈنگ ختم ہوگئی اور گھانا اور زامبیا کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ اور افریقہ کیلئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی ریسرچ ہیڈ رضیہ خان نے کہا کہ حالیہ ٹیرف سیٹ نے عالمی ترقی کے بارے میں مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر مارکیٹس، خاص طور پر وہ جو درجہ بندی کے نچلے حصے میں آتی ہیں، کو زیادہ غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے جب مارکیٹس میں خطرات سے بچنے کا رجحان بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 104 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد بدھ کے روز چھوٹی اور خطرات کا شکار ابھرتی ہوئی معشیتوں کے عالمی بانڈز میں ایک بار پھر تیزی سے فروخت دیکھنے میں آئی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر اضطراب پھیل گیا۔</strong></p>
<p>ٹریڈ ویب کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر پر مبنی پاکستان کے طویل مدتی بانڈز کی قدر 6 سینٹ سے زیادہ کم ہونے کے بعد 70 سینٹ کی حد سے نیچے آگئی ہے جہاں قرضوں کو بحران کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کے شرکاء کے مطابق سری لنکا، نائجیریا اور مصر کی جانب سے جاری کیے گئے طویل المیعاد بانڈز کی قدر میں 3.5 سے 4.5 سینٹ تک کی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>گزشتہ بدھ کو ٹرمپ کی جانب سے بھاری محصولات کے اعلان کے بعد سے چھوٹی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں قرض کو تیزی سے فروخت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران اثاثوں کی کلاس کے بہت سے بانڈز میں 10 سینٹ یا اس سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>حالیہ مندی ان معیشتوں کے لیے قرضوں کی لاگت میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے اور  بہت سے بانڈز اپنے منافع کو ڈبل ڈیجٹ میں دیکھ رہے ہیں جو انہیں عالمی سرمایہ کاری مارکیٹس سے رقم حاصل کرنے کے لیے غیر پر کشش بنادیتی ہے۔</p>
<p>سوسیٹ جنرل کے سینئر فرنٹیئر مارکیٹ اسٹریٹجسٹ گرگیلی ارموسی نے ک مارکیٹ میں کچھ خدشات ہیں کہ بیرونی معاشی حالات اور ممکنہ طور پر سرمایہ کاروں کا خطرہ مول لینے کا رجحان کم ہونے کی وجہ سے فرنٹیئرز کے لیے مستقبل میں بیرونی مالی امداد حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
آئیں گی</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس سے درمیانی مدت میں ان معیشتوں میں کرنسی کی مزید کمزوری پیدا ہوسکتی ہے اور مرکزی بینکوں کے لئے اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لئے شرح سود کو کم کرنے کی گنجائش کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>کئی فرنٹیئر مارکیٹ حکومتوں، خاص طور پر افریقی خودمختار حکومتوں نے حال ہی میں یوروبانڈ مارکیٹس میں واپسی کی تھی۔</p>
<p>یہ حکومتیں تقریباً دو سال تک یوروبانڈ مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہیں جب کرونا کے اثرات اور یوکرین پر بھرپور روسی حملے سے مہنگائی مزید بڑھی اور عالمی شرح سود میں اضافے کے چکر کو جنم دیا جس کے سبب ان حکومتوں کیلئے فنڈنگ ختم ہوگئی اور گھانا اور زامبیا کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ اور افریقہ کیلئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی ریسرچ ہیڈ رضیہ خان نے کہا کہ حالیہ ٹیرف سیٹ نے عالمی ترقی کے بارے میں مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر مارکیٹس، خاص طور پر وہ جو درجہ بندی کے نچلے حصے میں آتی ہیں، کو زیادہ غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے جب مارکیٹس میں خطرات سے بچنے کا رجحان بڑھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271527</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Apr 2025 15:57:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/09134739c4e2fe8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/09134739c4e2fe8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
