<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 13:49:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 13:49:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مخمصے کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40271407/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی) نے اپنے بینر ”غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح“ کے تحت مارچ 2025 کی اپنی دستخطی اشاعت ”او آئی سی سی ان سائٹ“ کے تحت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال پیش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق رپورٹ میں بدلتے ڈیموگرافک پیٹرن، خطے میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں پاکستان کی ایف ڈی آئی کی حیثیت اور ایف ڈی آئی کے حصول میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی تیار کردہ رپورٹ سے کچھ پریشان کن حقائق سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں سب سے بڑے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کار کی حیثیت سے برتری حاصل کر لی ہے جس کا ملک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 40 فیصد حصہ ہے اور گزشتہ چار سالوں میں اوسطا 650 ملین ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ اس بات کو منظر عام پر لاتی ہے کہ چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش میں، جو کہ سی پیک کے تحت اس کے عالمی ”بیلٹ اینڈ روڈ“ انیشیٹو کا حصہ ہے، پاکستان نے مغربی ممالک کے روایتی شراکت داروں کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ ان شراکت داروں کی شکایات میں سب سے بڑی شکایت لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم دستیابی، ضابطہ کار کے نظام میں کمی اور منصفانہ کاروباری طریقوں کے مطابق کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی کی رپورٹ پاکستان کی ایف ڈی آئی کی سمت کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کرتی ہے اور اس کے پیچھے وجوہات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں پیچھے کیوں رہ گیا ہے۔ اس کالم میں کے تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت اور ویتنام کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2007-2008 میں پاکستان، بھارت اور ویتنام کو خطے کی تیز ترین معیشتوں کے طور پر درجہ دیا گیا تھا جن کی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 6 فیصد تھی۔ 2024 تک کی رفتار پر نظر ڈالتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور ویتنام نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا جبکہ پاکستان پیچھے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے مسلسل 6 فیصد کی سالانہ شرح نمو کو برقرار رکھا جس کے نتیجے میں 2024 میں ایف ڈی آئی 71 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ویتنام نے کبھی کبھار ایف ڈی آئی کی شرح نمو 6 فیصد سے زائد حاصل کی اور 2024 میں 25 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس کے برعکس، پاکستان اس ہی عرصے کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری اوسطاً سالانہ 2 ارب ڈالر تک کم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے ”ملکی سیکورٹی کے چیلنجز“ اور ”ملک کو اہم خطرات“ کو اجاگر کیا ہے اور یہ بالکل درست ہے کیونکہ یہ دونوں عوامل مل کر کسی ملک میں ایف ڈی آئی کی آمد کو متاثر کرتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا پہلا فیصلہ ”جانا ہے یا نہیں جانا“ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی کے چیلنجز کے حوالے سے 2025 کے ”گلوبل ٹیررازم انڈیکس“ کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی 8.4 (سرمایہ کاری کے لیے کم محفوظ)، بھارت کی 6.4 (احتیاط کے ساتھ سرمایہ کاری کریں) اور ویتنام کی 0 (سرمایہ کاری کے لیے سب سے محفوظ) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو درپیش اہم خطرات اور چیلنجز  زیادہ پیچیدہ ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، کرنسی کی اتار چڑھاؤ، بیوروکریسی/ریڈ ٹیپ، سیکیورٹی رسک، انفراسٹرکچر کی کمی، اور پالیسی میں تسلسل کے فقدان جیسے عوامل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاملے میں درجہ بندی بالترتیب انتہائی، زیادہ پیچیدہ، اور غیر یقینی ہے۔ بھارت اور ویتنام کے معاملے میں درجہ بندی تقریبا یکساں ہے ، جو بالترتیب کم ،  معتدل ، مضبوط ہے جبکہ پالیسی میں تسلسل کے لحاظ سے بھارت کی درجہ بندی ”بہتر ہو رہی ہے“ اور ویتنام کی ”مستحکم“ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں او آئی سی سی آئی پلس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان: پالیسی، کرنسی اور سیکورٹی خطرات کی وجہ سے ایف ڈی آئی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت: ایف ڈی آئی نے آئی ٹی ، سیمی کنڈکٹر ، بنیادی ڈھانچے اور ریٹیل میں مضبوط رفتار دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویتنام: مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور گرین ٹکنالوجی میں ایف ڈی آئی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھارت اور ویتنام نئی اور ترقی یافتہ مارکیٹوں کی طرف جا رہے ہیں، جہاں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی آئی پلس نے سال 2024 کے لئے پاکستان میں ایف ڈی آئی کی صورتحال بھی بیان کی ہے جس میں مالی شعبے میں 464 ملین ڈالر ، توانائی کے شعبے میں 800 ملین ڈالر ، آئی ٹی صنعت میں 48 ملین ڈالر ، صنعت میں 100 ملین ڈالر اور تمباکو ، خوراک اور مشروبات میں 100 ملین ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کسی بھی معیار کے مطابق ترقی پر مبنی ترتیب نہیں ہے۔ صنعت میں ایف ڈی آئی کا بہاؤ کم ہے اور آئی ٹی صنعت میں سرمایہ کاری کم ہے اور اس کی صلاحیت کے مطابق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موضوع کے تجزیے سے پاکستان کے لیے فائدہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کے سیکورٹی خدشات کو کم کیا جائے، ملک کو درپیش خطرات میں نمایاں بہتری لائی جائے جو بنیادی طور پر ریاستی گورننس کا مسئلہ ہے اور مغرب سے روایتی سرمایہ کاروں کو پاکستانی مارکیٹ میں واپس لانا اور سرمایہ کاری کے تمام مقامات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی) نے اپنے بینر ”غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح“ کے تحت مارچ 2025 کی اپنی دستخطی اشاعت ”او آئی سی سی ان سائٹ“ کے تحت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال پیش کی ہے۔</strong></p>
<p>2025 کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق رپورٹ میں بدلتے ڈیموگرافک پیٹرن، خطے میں اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں پاکستان کی ایف ڈی آئی کی حیثیت اور ایف ڈی آئی کے حصول میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی تیار کردہ رپورٹ سے کچھ پریشان کن حقائق سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>چین نے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں سب سے بڑے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کار کی حیثیت سے برتری حاصل کر لی ہے جس کا ملک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں 40 فیصد حصہ ہے اور گزشتہ چار سالوں میں اوسطا 650 ملین ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔</p>
<p>یہ رپورٹ اس بات کو منظر عام پر لاتی ہے کہ چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش میں، جو کہ سی پیک کے تحت اس کے عالمی ”بیلٹ اینڈ روڈ“ انیشیٹو کا حصہ ہے، پاکستان نے مغربی ممالک کے روایتی شراکت داروں کی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ ان شراکت داروں کی شکایات میں سب سے بڑی شکایت لیول پلیئنگ فیلڈ کی عدم دستیابی، ضابطہ کار کے نظام میں کمی اور منصفانہ کاروباری طریقوں کے مطابق کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی کمی ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی کی رپورٹ پاکستان کی ایف ڈی آئی کی سمت کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کرتی ہے اور اس کے پیچھے وجوہات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں پیچھے کیوں رہ گیا ہے۔ اس کالم میں کے تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت اور ویتنام کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>سال 2007-2008 میں پاکستان، بھارت اور ویتنام کو خطے کی تیز ترین معیشتوں کے طور پر درجہ دیا گیا تھا جن کی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 6 فیصد تھی۔ 2024 تک کی رفتار پر نظر ڈالتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور ویتنام نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا جبکہ پاکستان پیچھے رہ گیا۔</p>
<p>بھارت نے مسلسل 6 فیصد کی سالانہ شرح نمو کو برقرار رکھا جس کے نتیجے میں 2024 میں ایف ڈی آئی 71 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ویتنام نے کبھی کبھار ایف ڈی آئی کی شرح نمو 6 فیصد سے زائد حاصل کی اور 2024 میں 25 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس کے برعکس، پاکستان اس ہی عرصے کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری اوسطاً سالانہ 2 ارب ڈالر تک کم ہو گئی۔</p>
<p>رپورٹ نے ”ملکی سیکورٹی کے چیلنجز“ اور ”ملک کو اہم خطرات“ کو اجاگر کیا ہے اور یہ بالکل درست ہے کیونکہ یہ دونوں عوامل مل کر کسی ملک میں ایف ڈی آئی کی آمد کو متاثر کرتے ہیں اور سرمایہ کاروں کا پہلا فیصلہ ”جانا ہے یا نہیں جانا“ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>سیکیورٹی کے چیلنجز کے حوالے سے 2025 کے ”گلوبل ٹیررازم انڈیکس“ کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی 8.4 (سرمایہ کاری کے لیے کم محفوظ)، بھارت کی 6.4 (احتیاط کے ساتھ سرمایہ کاری کریں) اور ویتنام کی 0 (سرمایہ کاری کے لیے سب سے محفوظ) ہے۔</p>
<p>ملک کو درپیش اہم خطرات اور چیلنجز  زیادہ پیچیدہ ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، کرنسی کی اتار چڑھاؤ، بیوروکریسی/ریڈ ٹیپ، سیکیورٹی رسک، انفراسٹرکچر کی کمی، اور پالیسی میں تسلسل کے فقدان جیسے عوامل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے معاملے میں درجہ بندی بالترتیب انتہائی، زیادہ پیچیدہ، اور غیر یقینی ہے۔ بھارت اور ویتنام کے معاملے میں درجہ بندی تقریبا یکساں ہے ، جو بالترتیب کم ،  معتدل ، مضبوط ہے جبکہ پالیسی میں تسلسل کے لحاظ سے بھارت کی درجہ بندی ”بہتر ہو رہی ہے“ اور ویتنام کی ”مستحکم“ ہے۔</p>
<p>2025-26 کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں او آئی سی سی آئی پلس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:</p>
<p>پاکستان: پالیسی، کرنسی اور سیکورٹی خطرات کی وجہ سے ایف ڈی آئی محدود ہے۔</p>
<p>بھارت: ایف ڈی آئی نے آئی ٹی ، سیمی کنڈکٹر ، بنیادی ڈھانچے اور ریٹیل میں مضبوط رفتار دکھائی۔</p>
<p>ویتنام: مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور گرین ٹکنالوجی میں ایف ڈی آئی میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھارت اور ویتنام نئی اور ترقی یافتہ مارکیٹوں کی طرف جا رہے ہیں، جہاں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایف ڈی آئی پلس نے سال 2024 کے لئے پاکستان میں ایف ڈی آئی کی صورتحال بھی بیان کی ہے جس میں مالی شعبے میں 464 ملین ڈالر ، توانائی کے شعبے میں 800 ملین ڈالر ، آئی ٹی صنعت میں 48 ملین ڈالر ، صنعت میں 100 ملین ڈالر اور تمباکو ، خوراک اور مشروبات میں 100 ملین ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>یہ کسی بھی معیار کے مطابق ترقی پر مبنی ترتیب نہیں ہے۔ صنعت میں ایف ڈی آئی کا بہاؤ کم ہے اور آئی ٹی صنعت میں سرمایہ کاری کم ہے اور اس کی صلاحیت کے مطابق نہیں۔</p>
<p>موضوع کے تجزیے سے پاکستان کے لیے فائدہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کے سیکورٹی خدشات کو کم کیا جائے، ملک کو درپیش خطرات میں نمایاں بہتری لائی جائے جو بنیادی طور پر ریاستی گورننس کا مسئلہ ہے اور مغرب سے روایتی سرمایہ کاروں کو پاکستانی مارکیٹ میں واپس لانا اور سرمایہ کاری کے تمام مقامات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40271407</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Apr 2025 15:54:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/04/051550132359fc0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/04/051550132359fc0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
