<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 20:52:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 03 Aug 2026 20:52:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی اقدامات سے میکرو اکنامک حالات بہتر ہوئے، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40270420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے  کہا ہے کہ ملک کے میکرو اقتصادی حالات ان کی معاشی ٹیم کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے مائیکرو اقتصادی سطح پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروصنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صنعت اور کاروباری شعبوں کی معاونت اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری اور صنعتکار ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے درپیش چیلنجز کا حل نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیوں کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جو کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)  کی صورت میں موجود ہے— یہ وہ عسکری حمایت یافتہ سرمایہ کاری پروموشن باڈی ہے جس کی کافی تشہیر کی گئی ہے۔ یہ ادارہ تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مربوط ون ونڈو آپریشن پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کافی کام کیا گیا ہے، اور فیس لیس کسٹم اسیسمنٹ (ایف سی اے) نظام کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کام کررہی ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسے شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہے جن سے برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اور ازبکستان کے حالیہ دوروں کے نتیجے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے جو ملکی معیشت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کو فروغ دینے کا سب سے مؤثر طریقہ ملک کی برآمدات میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروباری رہنماؤں اور صنعتکاروں سے تجاویز دینے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے ہدایت جاری کی کہ تاجروں، صنعتکاروں اور حکومتی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکمت عملی تجویز کرے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کمیٹی دو ہفتوں کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور معاشی اشاریوں میں مثبت تبدیلیوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کے اراکین نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات پر ایف بی آر اور دیگر سرکاری محکموں کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایف سی اے سسٹم متعارف کرانے اور نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسیوں پر بھی حکومت کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے  کہا ہے کہ ملک کے میکرو اقتصادی حالات ان کی معاشی ٹیم کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے مائیکرو اقتصادی سطح پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>تاجروصنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صنعت اور کاروباری شعبوں کی معاونت اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری اور صنعتکار ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے درپیش چیلنجز کا حل نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیوں کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جو کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)  کی صورت میں موجود ہے— یہ وہ عسکری حمایت یافتہ سرمایہ کاری پروموشن باڈی ہے جس کی کافی تشہیر کی گئی ہے۔ یہ ادارہ تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مربوط ون ونڈو آپریشن پیش کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کافی کام کیا گیا ہے، اور فیس لیس کسٹم اسیسمنٹ (ایف سی اے) نظام کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کام کررہی ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسے شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہے جن سے برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اور ازبکستان کے حالیہ دوروں کے نتیجے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے جو ملکی معیشت پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کو فروغ دینے کا سب سے مؤثر طریقہ ملک کی برآمدات میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے کاروباری رہنماؤں اور صنعتکاروں سے تجاویز دینے کی دعوت دی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے ہدایت جاری کی کہ تاجروں، صنعتکاروں اور حکومتی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکمت عملی تجویز کرے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کمیٹی دو ہفتوں کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔</p>
<p>وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور معاشی اشاریوں میں مثبت تبدیلیوں کو سراہا۔</p>
<p>وفد کے اراکین نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات پر ایف بی آر اور دیگر سرکاری محکموں کی تعریف کی۔</p>
<p>انہوں نے ایف سی اے سسٹم متعارف کرانے اور نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسیوں پر بھی حکومت کی تعریف کی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40270420</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Mar 2025 09:22:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/03/01091048131df39.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/03/01091048131df39.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
