<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:37:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 08:37:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان بزنس فورم کا فکسڈ ٹیکس نظام کے نفاذ کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40270407/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے آئندہ بجٹ میں تاجروں کیلئے  فکسڈ ٹیکس نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر دوست اسکیم (ٹی ڈی ایس) کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے بڑے خوردہ فروشوں کے لیے 20 ہزار روپے ماہانہ اور چھوٹے ریٹیلرز کے لیے 10 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس لگانے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں خوردہ فروشوں پر 5000 روپے کا فکسڈ ٹیکس لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ فکسڈ ٹیکس کی وصولی بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے اور ایک بار فکسڈ ٹیکس ادا ہونے کے بعد تاجروں سے مزید سوالات نہ پوچھے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس فورم نے مطالبہ کیا کہ اگر معیشت کو چلانا ہے تو فکسڈ ٹیکس نظام کو بغیر کسی دباؤ کے نافذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ 77 سال میں تاجروں کا پورا خیال رکھا  لیکن اب انہیں ان سے ٹیکس وصول کرنے میں سنجیدہ ہونا چاہئے۔ تاجروں سے ٹیکس وصول کیے بغیر مالی وسائل میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ تھوک اور خوردہ تجارت جی ڈی پی کا 18.1 فیصد ہے لیکن براہ راست ٹیکسز میں صرف 2 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صنعتی شعبہ 18.4 فیصد بنتا ہے اور کل ٹیکسز میں 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سالانہ ٹیکس وصولی کم از کم 15 کھرب روپے ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد جواد نے پی بی ایف کے موقف کا اعادہ کیا کہ ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ  موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید دبانے کے بجائے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بہتر بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ عمل منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے اور اسے کاروبار دوست انداز میں انجام دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب صرف 9 فیصد ہے، جبکہ علاقائی اور ذیلی علاقائی ممالک یہ تناسب 16 سے 18 فیصد کے درمیان حاصل کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کو ریٹیلرز پر ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ایک مقررہ ٹیکس نافذ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرن اوور کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا ٹیکس عائد کرنے سے رجسٹریشن کی شرح متاثر ہوگی اور مستحکم کاروباری طریقہ کار کے توازن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے تاجروں اور خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی ہے اور ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے آئندہ بجٹ میں تاجروں کیلئے  فکسڈ ٹیکس نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر دوست اسکیم (ٹی ڈی ایس) کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔</strong></p>
<p>پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے بڑے خوردہ فروشوں کے لیے 20 ہزار روپے ماہانہ اور چھوٹے ریٹیلرز کے لیے 10 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس لگانے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں خوردہ فروشوں پر 5000 روپے کا فکسڈ ٹیکس لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ فکسڈ ٹیکس کی وصولی بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے اور ایک بار فکسڈ ٹیکس ادا ہونے کے بعد تاجروں سے مزید سوالات نہ پوچھے جائیں۔</p>
<p>پاکستان بزنس فورم نے مطالبہ کیا کہ اگر معیشت کو چلانا ہے تو فکسڈ ٹیکس نظام کو بغیر کسی دباؤ کے نافذ کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ 77 سال میں تاجروں کا پورا خیال رکھا  لیکن اب انہیں ان سے ٹیکس وصول کرنے میں سنجیدہ ہونا چاہئے۔ تاجروں سے ٹیکس وصول کیے بغیر مالی وسائل میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ تھوک اور خوردہ تجارت جی ڈی پی کا 18.1 فیصد ہے لیکن براہ راست ٹیکسز میں صرف 2 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب صنعتی شعبہ 18.4 فیصد بنتا ہے اور کل ٹیکسز میں 40 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سالانہ ٹیکس وصولی کم از کم 15 کھرب روپے ہونی چاہیے۔</p>
<p>احمد جواد نے پی بی ایف کے موقف کا اعادہ کیا کہ ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ  موجودہ ٹیکس دہندگان کو مزید دبانے کے بجائے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو بہتر بنایا جاسکے۔</p>
<p>تاہم یہ عمل منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے اور اسے کاروبار دوست انداز میں انجام دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب صرف 9 فیصد ہے، جبکہ علاقائی اور ذیلی علاقائی ممالک یہ تناسب 16 سے 18 فیصد کے درمیان حاصل کرچکے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کو ریٹیلرز پر ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ایک مقررہ ٹیکس نافذ ہونا چاہیے۔</p>
<p>ٹرن اوور کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا ٹیکس عائد کرنے سے رجسٹریشن کی شرح متاثر ہوگی اور مستحکم کاروباری طریقہ کار کے توازن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے تاجروں اور خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی ہے اور ناکام رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40270407</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Feb 2025 11:55:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/02/281148032bc3bf6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/02/281148032bc3bf6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
