<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کھلے ذہن سے غور کرنا چایے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40270265/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسٹیٹ بینک سمیت حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ میں اہم پیش رفت کے تناظر میں ”کھلے ذہن“ کے ساتھ کرپٹو کرنسی متعارف کرانے کے ممکنہ طریقے پر غور کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کرپٹو پہلے سے ہی غیر رسمی مارکیٹ میں رائج ہے، اور اعداد و شمار وہی ہیں جو وہ ہیں۔۔  اگر یہ اعداد و شمار کا ایک چوتھائی حصہ بھی ہیں تو ہمیں ریگولیٹری نظام کے حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں (پاکستان میں) کے ساتھ کیسے آگے بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں حال ہی میں منعقدہ العلا کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ زیادہ تر ابھرتی ہوئی مارکیٹیں  تبدیلی کے عمل سے گزر رہی  ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر اب مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل بینکاری کو آگے بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسی کے بارے میں اپنے خیالات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے  وزیرخزانہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زور دیا کہ میں نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے تناظر میں بات کی ہے جہاں لوگ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کو زیادہ وسیع پیمانے پر دیکھ رہے ہیں اور ہم اسے یہاں کس طرح دیکھ رہے ہیں … میرے نقطہ نظر سے، ہمیں اسے (کرپٹو کرنسی) کھلے ذہن کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل بینکاری اور مالیاتی شمولیت میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ میرے نقطہ نظر سے، ڈیجیٹل ہونا کوئی ہدف نہیں ہے، بلکہ ہدف تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے. جو بہتر، سستا اور تیز تر بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بینک نقد رقم کے خلاف وسیع تر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کیش لیس معاشرے کی طرف بڑھنے کے لئے پرعزم ہے۔ یہ ملک کے ڈیجیٹل بینکاری کے سفر کو آگے بڑھانے اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں اور کیو آر کوڈز کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کو یقینی بنا کر حاصل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے پالیسی بیان میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اثاثوں کی ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بینکوں کو مقامی سرمایہ کاروں کے ذریعے ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لئے یہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا ٹاک کے دوران ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان معیشت میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاکہ بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو ختم کیا جاسکے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لئے آگے بڑھایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور زراعت کے شعبے میں توانائی اور ٹیکس کے اقدامات میں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسٹیٹ بینک سمیت حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ میں اہم پیش رفت کے تناظر میں ”کھلے ذہن“ کے ساتھ کرپٹو کرنسی متعارف کرانے کے ممکنہ طریقے پر غور کریں۔</strong></p>
<p>کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کرپٹو پہلے سے ہی غیر رسمی مارکیٹ میں رائج ہے، اور اعداد و شمار وہی ہیں جو وہ ہیں۔۔  اگر یہ اعداد و شمار کا ایک چوتھائی حصہ بھی ہیں تو ہمیں ریگولیٹری نظام کے حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں (پاکستان میں) کے ساتھ کیسے آگے بڑھنا ہے۔</p>
<p>سعودی عرب میں حال ہی میں منعقدہ العلا کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ زیادہ تر ابھرتی ہوئی مارکیٹیں  تبدیلی کے عمل سے گزر رہی  ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر اب مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل بینکاری کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>کرپٹو کرنسی کے بارے میں اپنے خیالات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے  وزیرخزانہ نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زور دیا کہ میں نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے تناظر میں بات کی ہے جہاں لوگ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اثاثوں کو زیادہ وسیع پیمانے پر دیکھ رہے ہیں اور ہم اسے یہاں کس طرح دیکھ رہے ہیں … میرے نقطہ نظر سے، ہمیں اسے (کرپٹو کرنسی) کھلے ذہن کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل بینکاری اور مالیاتی شمولیت میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ میرے نقطہ نظر سے، ڈیجیٹل ہونا کوئی ہدف نہیں ہے، بلکہ ہدف تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے. جو بہتر، سستا اور تیز تر بھی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بینک نقد رقم کے خلاف وسیع تر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کیش لیس معاشرے کی طرف بڑھنے کے لئے پرعزم ہے۔ یہ ملک کے ڈیجیٹل بینکاری کے سفر کو آگے بڑھانے اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں اور کیو آر کوڈز کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کو یقینی بنا کر حاصل کیا جائے گا۔</p>
<p>اپنے پالیسی بیان میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اثاثوں کی ڈی ریگولیشن اور نجکاری کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بینکوں کو مقامی سرمایہ کاروں کے ذریعے ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لئے یہ ضروری ہے۔</p>
<p>میڈیا ٹاک کے دوران ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان معیشت میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاکہ بوم اینڈ بسٹ سائیکل کو ختم کیا جاسکے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لئے آگے بڑھایا جاسکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور زراعت کے شعبے میں توانائی اور ٹیکس کے اقدامات میں کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40270265</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Feb 2025 10:52:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/yukGgGSa5R8/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/yukGgGSa5R8/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=yukGgGSa5R8"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
