<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 17:35:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 17:35:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں جنگ بندی پرعملدرآمد جاری،3 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40269994/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی یرغمالی ایئر ہارن، ساگوئی ڈیکیل چن اور ساشا (الیگزینڈر) ٹروفانوف ہفتے کے روز غزہ میں ایک رہائی کے مقام پر پہنچے جب مصری اور قطری ثالثوں نے اس تعطل کو ٹالنے میں مدد کی جس سے نازک جنگ بندی کے خاتمے  کا خطرہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہ راست فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تینوں کو خان یونس کے مقام پر حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ ایک اسٹیج پر لے جایا گیا تھا جس کے دونوں طرف خودکار رائفلیں کھڑی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تینوں کو 369 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کے بدلے واپس بھیجا جا رہا ہے، جس سے 42 روزہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل معاہدے کے ٹوٹنے کے خدشات میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تل ابیب میں یرغمالی اسکوائر کے نام سے مشہورعلاقے میں جب لوگوں نے یہ سنا کہ ریڈ کراس غزہ میں حماس کی جانب سے رہا کئے گئے یرغمالیوں کو اسرائیلی افواج کے حوالے کرنے جا رہا ہے تو وہ خوشی سے چیختے اورغم کے مار آنسوبہاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ دیکھ کر راحت محسوس کی کہ تینوں کی حالت گزشتہ ہفتے رہا ہونے والے دیگر 3 افراد کے مقابلے میں بہتر ہے جو لاغر اور کمزور دکھائی دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیر قبضہ غزہ کی پٹی کے آس پاس کی آبادیوں میں سے ایک کبوتز نیر اوز میں امریکی اسرائیلی ڈیکیل چن، روسی اسرائیلی ٹروفانوف اور ہارن، جن کے بھائی ایتان کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا، کو حراست میں لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائی کے مقام پر درجنوں مسلح جنگجو تعینات کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ذرائع نے بتایا کہ اس مقام پر حماس کے کچھ جنگجو سات اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیلی فوج سے ضبط کی گئی رائفلیں اٹھائے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹروفانوف کو اس کی ماں، دادی اور گرل فرینڈ کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا - جن سب کو نومبر 2023 کی مختصر جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا۔ ان کے والد نیر اوز پر حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جو سب سے زیادہ متاثر ہونے والی برادریوں میں سے ایک ہے، جہاں ہر چار میں سے ایک شخص یا تو ہلاک ہو گیا تھا یا یرغمال بنا لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے اس سے قبل مزید یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ اس نے اسرائیل پر غزہ میں امداد  کی فراہمی روک کر جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی دھمکی دی تھی اور اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا جبکہ اضافی دستوں کو بھی طلب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گذشتہ ہفتے رہا کیے گئے 3 یرغمالیوں کی غیر معمولی کمزور صحت اور 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دیگر یرغمالیوں کی جانب سے روا رکھے گئے استحصال کے واقعات نے اسرائیلی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جنگ بندی پر قائم رہے اور تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے معاہدے کے اگلے مرحلے میں آگے بڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یرغمالیوں کے ساتھ بدسلوکی پر ہونے والی تنقید کو ختم کرنے کے لیے حماس سے وابستہ اور ٹروفانوف کو پکڑنے والے جنگجوؤں کے گروپ اسلامک جہاد نے جمعے کے روز اس کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہیں غزہ کے ساحل پر کھانا کھاتے اور مچھلی پکڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے مستقل طور پر نکالنے اورغزہ کی  تعمیرنو کے لیے اسے امریکہ کے حوالے کرنے کے مطالبے کی وجہ سے بھی جنگ بندی کے امکانات معدوم ہو گئے تھے۔ فلسطینی گروپوں، عرب ریاستوں اور مغربی اتحادیوں نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے گزشتہ ماہ 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جن میں خواتین، بچے اور بیمار، زخمی اور بوڑھے مرد شامل ہیں، جس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں اور زیرحراست افراد کو ان کے حوالے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز سے قبل 33 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 16 کو واپس بھیج دیا گیا تھا جبکہ تھائی لینڈ کے 5 یرغمالیوں کو کسی منصوبہ بندی  کے بغیر رہا کر دیا گیا تھا۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں غزہ میں 76 یرغمالی اب بھی موجود ہیں جن میں سے صرف نصف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ بڑے پیمانے پر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ بندی کا مقصد باقی یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے حتمی خاتمے سے قبل اسرائیلی افواج کے انخلا کو مکمل کرنے اور غزہ ، جو اب بڑے پیمانے پر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، کی تعمیر نو کے لئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی راہ ہموار کرنا تھا، جسے خوراک، پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کی جانب سے مزید یرغمالیوں کو رہا کرنے سے روکنے کی دھمکی اس الزام کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسرائیل نے خیموں اور عارضی پناہ گاہوں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہزاروں امدادی ٹرکوں کو غزہ جانے کی اجازت دی ہے اور حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاہدے سے انحراف کر رہی ہے۔ حماس نے ہفتے کے روز کہا کہ اسے توقع ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے اپنی امدادی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے امداد کے مزید ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں لیکن امدادی حکام کا کہنا ہے کہ یہ امداد آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں غزہ میں 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ اس کی کئی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی یرغمالی ایئر ہارن، ساگوئی ڈیکیل چن اور ساشا (الیگزینڈر) ٹروفانوف ہفتے کے روز غزہ میں ایک رہائی کے مقام پر پہنچے جب مصری اور قطری ثالثوں نے اس تعطل کو ٹالنے میں مدد کی جس سے نازک جنگ بندی کے خاتمے  کا خطرہ تھا۔</strong></p>
<p>براہ راست فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تینوں کو خان یونس کے مقام پر حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ ایک اسٹیج پر لے جایا گیا تھا جس کے دونوں طرف خودکار رائفلیں کھڑی تھیں۔</p>
<p>ان تینوں کو 369 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کے بدلے واپس بھیجا جا رہا ہے، جس سے 42 روزہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل معاہدے کے ٹوٹنے کے خدشات میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>تل ابیب میں یرغمالی اسکوائر کے نام سے مشہورعلاقے میں جب لوگوں نے یہ سنا کہ ریڈ کراس غزہ میں حماس کی جانب سے رہا کئے گئے یرغمالیوں کو اسرائیلی افواج کے حوالے کرنے جا رہا ہے تو وہ خوشی سے چیختے اورغم کے مار آنسوبہاتے رہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ دیکھ کر راحت محسوس کی کہ تینوں کی حالت گزشتہ ہفتے رہا ہونے والے دیگر 3 افراد کے مقابلے میں بہتر ہے جو لاغر اور کمزور دکھائی دے رہے تھے۔</p>
<p>7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیر قبضہ غزہ کی پٹی کے آس پاس کی آبادیوں میں سے ایک کبوتز نیر اوز میں امریکی اسرائیلی ڈیکیل چن، روسی اسرائیلی ٹروفانوف اور ہارن، جن کے بھائی ایتان کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا، کو حراست میں لیا گیا تھا۔</p>
<p>رہائی کے مقام پر درجنوں مسلح جنگجو تعینات کیے گئے تھے۔</p>
<p>حماس کے ذرائع نے بتایا کہ اس مقام پر حماس کے کچھ جنگجو سات اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیلی فوج سے ضبط کی گئی رائفلیں اٹھائے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ٹروفانوف کو اس کی ماں، دادی اور گرل فرینڈ کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا - جن سب کو نومبر 2023 کی مختصر جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا۔ ان کے والد نیر اوز پر حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جو سب سے زیادہ متاثر ہونے والی برادریوں میں سے ایک ہے، جہاں ہر چار میں سے ایک شخص یا تو ہلاک ہو گیا تھا یا یرغمال بنا لیا گیا تھا۔</p>
<p>حماس نے اس سے قبل مزید یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ اس نے اسرائیل پر غزہ میں امداد  کی فراہمی روک کر جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی دھمکی دی تھی اور اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا جبکہ اضافی دستوں کو بھی طلب کیا۔</p>
<p>گذشتہ ہفتے رہا کیے گئے 3 یرغمالیوں کی غیر معمولی کمزور صحت اور 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دیگر یرغمالیوں کی جانب سے روا رکھے گئے استحصال کے واقعات نے اسرائیلی مظاہروں کو جنم دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جنگ بندی پر قائم رہے اور تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے معاہدے کے اگلے مرحلے میں آگے بڑھے۔</p>
<p>یرغمالیوں کے ساتھ بدسلوکی پر ہونے والی تنقید کو ختم کرنے کے لیے حماس سے وابستہ اور ٹروفانوف کو پکڑنے والے جنگجوؤں کے گروپ اسلامک جہاد نے جمعے کے روز اس کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہیں غزہ کے ساحل پر کھانا کھاتے اور مچھلی پکڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے مستقل طور پر نکالنے اورغزہ کی  تعمیرنو کے لیے اسے امریکہ کے حوالے کرنے کے مطالبے کی وجہ سے بھی جنگ بندی کے امکانات معدوم ہو گئے تھے۔ فلسطینی گروپوں، عرب ریاستوں اور مغربی اتحادیوں نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>حماس نے گزشتہ ماہ 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جن میں خواتین، بچے اور بیمار، زخمی اور بوڑھے مرد شامل ہیں، جس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں اور زیرحراست افراد کو ان کے حوالے کیا جائے گا۔</p>
<p>ہفتے کے روز سے قبل 33 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 16 کو واپس بھیج دیا گیا تھا جبکہ تھائی لینڈ کے 5 یرغمالیوں کو کسی منصوبہ بندی  کے بغیر رہا کر دیا گیا تھا۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں غزہ میں 76 یرغمالی اب بھی موجود ہیں جن میں سے صرف نصف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔</p>
<p><strong>غزہ بڑے پیمانے پر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا</strong></p>
<p>اس جنگ بندی کا مقصد باقی یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے حتمی خاتمے سے قبل اسرائیلی افواج کے انخلا کو مکمل کرنے اور غزہ ، جو اب بڑے پیمانے پر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، کی تعمیر نو کے لئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی راہ ہموار کرنا تھا، جسے خوراک، پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔</p>
<p>حماس کی جانب سے مزید یرغمالیوں کو رہا کرنے سے روکنے کی دھمکی اس الزام کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسرائیل نے خیموں اور عارضی پناہ گاہوں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہزاروں امدادی ٹرکوں کو غزہ جانے کی اجازت دی ہے اور حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاہدے سے انحراف کر رہی ہے۔ حماس نے ہفتے کے روز کہا کہ اسے توقع ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے اپنی امدادی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔</p>
<p>بین الاقوامی امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے امداد کے مزید ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں لیکن امدادی حکام کا کہنا ہے کہ یہ امداد آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p>فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں غزہ میں 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ اس کی کئی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40269994</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Feb 2025 20:17:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/02/15193746e35c599.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/02/15193746e35c599.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
