<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 02:06:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 02:06:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس مارکیٹ، نجی شعبہ گردشی قرضوں میں کمی میں مددکریگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40269462/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) غیاث پراچہ نے کہا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے توانائی کے شعبے میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ نجی شعبے کی گیس کمپنیاں سالانہ 71 ارب روپے کے گردشی قرضے میں کمی کرسکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کیلئے گیس مارکیٹ کھلنے سے حکومت سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 12 ارب روپے اضافی ریونیو وصول کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پٹرولیم پالیسی 2012 میں ترمیم کرکے تیسرے فریق کو 35 فیصد گیس فروخت کرنے کے حالیہ فیصلے سے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو 10 فیصد گیس تھرڈ پارٹی کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی جسے موجودہ حکومت نے نجی شعبے کے لیے گیس مارکیٹ کھولنے اور توانائی کمپنیوں کے لیے نقدی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے 35 فیصد گیس فروخت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیاث پراچہ، جو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں گیس سے متعلق کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے خصوصی ادارے ایس آئی ایف سی کے ذریعے ان کوششوں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کلیدی کردار کو سراہا، جس نے گیس کے شعبے میں اہم اصلاحات میں سہولت فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، “ایس آئی ایف سی کی مسلسل شمولیت، حمایت اور کمپنیوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ساتھ، پالیسیوں اور ان کے فیصلوں کو کامیابی سے نافذ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیاث پراچہ نے کہا کہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی کی صورت میں کمپنیاں تقریبا 255.5 ملین ڈالر ایڈوانس ادا کریں گی جو تقریبا 71.28 ارب روپے کے مساوی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیشگی ادائیگی سے گردشی قرضوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم فائدہ سیلز ٹیکس کے ذریعے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہے۔ اس پالیسی سے تقریبا 46 ملین ڈالر کی سیلز ٹیکس آمدنی متوقع ہے جو تقریبا 12.81 ارب روپے کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اس پالیسی سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی۔ اگر سالانہ ایک بھی ایل این جی کارگو درآمد نہ کیا جائے تو ملک کو 400 ملین ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔ اس سے قومی خزانے کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) غیاث پراچہ نے کہا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے توانائی کے شعبے میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ نجی شعبے کی گیس کمپنیاں سالانہ 71 ارب روپے کے گردشی قرضے میں کمی کرسکیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کیلئے گیس مارکیٹ کھلنے سے حکومت سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 12 ارب روپے اضافی ریونیو وصول کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پٹرولیم پالیسی 2012 میں ترمیم کرکے تیسرے فریق کو 35 فیصد گیس فروخت کرنے کے حالیہ فیصلے سے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>اس سے قبل تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو 10 فیصد گیس تھرڈ پارٹی کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی جسے موجودہ حکومت نے نجی شعبے کے لیے گیس مارکیٹ کھولنے اور توانائی کمپنیوں کے لیے نقدی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے 35 فیصد گیس فروخت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔</p>
<p>غیاث پراچہ، جو نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں گیس سے متعلق کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے خصوصی ادارے ایس آئی ایف سی کے ذریعے ان کوششوں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے کلیدی کردار کو سراہا، جس نے گیس کے شعبے میں اہم اصلاحات میں سہولت فراہم کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، “ایس آئی ایف سی کی مسلسل شمولیت، حمایت اور کمپنیوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ساتھ، پالیسیوں اور ان کے فیصلوں کو کامیابی سے نافذ کیا گیا۔</p>
<p>غیاث پراچہ نے کہا کہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی کی صورت میں کمپنیاں تقریبا 255.5 ملین ڈالر ایڈوانس ادا کریں گی جو تقریبا 71.28 ارب روپے کے مساوی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیشگی ادائیگی سے گردشی قرضوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے گا۔</p>
<p>ایک اور اہم فائدہ سیلز ٹیکس کے ذریعے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہے۔ اس پالیسی سے تقریبا 46 ملین ڈالر کی سیلز ٹیکس آمدنی متوقع ہے جو تقریبا 12.81 ارب روپے کے مساوی ہے۔</p>
<p>مزید برآں اس پالیسی سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی۔ اگر سالانہ ایک بھی ایل این جی کارگو درآمد نہ کیا جائے تو ملک کو 400 ملین ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔ اس سے قومی خزانے کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40269462</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jan 2025 09:04:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/280903238c4bfec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/280903238c4bfec.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
