<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 01:45:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 01:45:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب حکومت کے قرض پروگراموں میں سنگین مسائل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40269369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب حکومت نے حال ہی میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور غربت میں کمی لانے کی مجموعی کوشش میں صوبے کے عوام کے لئے دو محرک پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات یہ ہیں کہ سب سے پہلے ’آسان کروبار فنانس‘ (اے کے ایف) یا ’ایزی بزنس فنانس‘ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جس میں فعال ٹیکس فائلرز کو کسی بھی قسم کے کاروبار کے لیے 10 لاکھ سے 3 کروڑ روپے تک بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس کے لیے 36 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ ہے کہ بجٹ میں 48 ارب روپے ’آسان کروبار کارڈ‘ یا ’ایزی بزنس کارڈ‘ پروگرام کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جہاں ایک فرد کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے قرض کی رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں، قرض کی رقم اے کے ایف پروگرام کی صورت میں پانچ سال کے اندر اور اے کے سی پروگرام کے تحت تین سال کے اندر واپس کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف صوبے بلکہ گیر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن کمزور اقتصادی اداروں، غیر مؤثر تنظیموں اور انتہائی غیر مؤثر منڈیوں کے پیش نظر، جو بالآخر زیادہ ٹرانزیکشن لاگت اور کم قیمتوں کے تعین کا سبب بنتی ہیں، یہ کہنا مشکل ہے کہ ان قرضوں سے کاروباری سرگرمی میں کوئی نمایاں سطح کی کامیابی حاصل ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ”کاروبار کرنے میں آسانی“ کے حوالے سے صورتحال بہت مشکل ہے اور درآمدات بہت مہنگی ہیں جو کاروبار چلانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں کیونکہ اداروں کے مالکان کو زیادہ تر مشینری یا تو بیرون ملک سے خریدنی پڑتی ہے یا پھر مقامی طور پر درآمد شدہ مشینری خریدنی پڑتی ہے کیونکہ ملک میں صنعت بہت کمزور ہے۔ مثال کے طور پر روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے یہ تمام مسائل نہ صرف ان دونوں پروگراموں کو مؤثر نہیں بناتے بلکہ اس بات کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ یہ قرضے  ”غیر مؤثر قرضے“ نہ بن جائیں کیونکہ ان مشکلات کے پیش نظر اس بات کا کم امکان ہے کہ قرض لینے والے کاروبار قائم کر پائیں گے اور قرض سے کوئی معنی خیز منافع کما سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی بدترین امر یہ ہے کہ اس سے ایک طرف بڑی تعداد میں قرض نادہندگان پیدا ہوں گے تو دوسری طرف صوبائی بجٹ کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کے لئے مالی چیلنجز بھی وجود میں آئیں گے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط کے تحت پرائمری سرپلس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں پر وفاقی بجٹ کے حوالے سے سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، صوبائی حکومت نے ابھی تک اپنے دورِ اقتدار میں ایسی اقتصادی پالیسیوں کا اعلان نہیں کیا جس کی بدولت اقتصادی اداروں کے معیار میں بہتری لائی جاسکی یعنی دوسرے الفاظ میں صوبائی محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں صوبے کو مکمل صوبائی خودمختاری حاصل ہے۔ چونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کی وسیع تر منتقلی ہوئی ہے اس لیے ان شعبوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ان شعبوں کے تحت مؤثر قانونی فریم ورک قائم کرنا ضروری ہے– مثال کے طور پر محکمہ زراعت ایک ادارہ ہے اور اس کے تحت مختلف ادارے کام کر رہے ہیں – تاکہ وہ لین دین کے اخراجات یا ”تحقیق کی لاگت“ کو کم کر سکیں اور وہ لوگ جو ان دونوں قرضوں کے ذریعے کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے آسانی ہو، اور عمومی طور پر بھی یہ کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد دے سکے کیونکہ ان دونوں کا مقصد صوبائی شہریوں کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانا ہے – اور مجموعی طور پر کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اداروں اور تنظیموں کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ لاگت کو معقول بنانے کے لیے قیمتوں کا صحیح تعین ضروری ہے کیونکہ پچھلے چند سالوں میں افراط زر کی شرح بہت زیادہ رہی ہے جس سے قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اس کے لیے سپلائی اور ڈیمانڈ کے عمل کو بہتر طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں کا درست تعین ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ بہتر ہوتا اگر صوبائی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ”پرائس کمیشن“ بنانے کا اعلان کرتی، مثلاً قیمتیں کنٹرول کرنا، جیسا کہ چین میں ”دوہری قیمتوں“ کا نظام ہے اور مارکیٹ کی خرابیوں کو دور کر کے پیداوار کے ذرائع، درمیانی اور حتمی مصنوعات کی قیمتوں کو زیادہ معقول سطح تک پہنچانے کی کوشش کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ان اقتصادی، اداروں، تنظیموں اور مارکیٹ سے متعلق چیلنجز کے پیش نظر، یہ مناسب ہوتا کہ صوبائی حکومت قرض لینے والوں کو نہ صرف کسی بھی شعبے میں منصوبے شروع کرنے کی مکمل آزادی دیتی بلکہ کاروبار کے لیے ترغیبی اقدامات بھی فراہم کرتی اور کئی شعبوں میں منصوبوں کا اعلان کرتی، جیسے ون ونڈو سہولت فراہم کرنا، خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) قائم کرنا، یا پہلے سے موجود ایس ای زیڈز میں منصوبوں کو شامل کرنا۔ اس کے علاوہ، ایس ای زیڈز کی حالت بہتر بنانے کے لیے مخصوص مشن پر مبنی منصوبے بنانا اور/یا مختلف شعبوں میں عوامی-نجی شراکت داریوں کی پیشکش کرنا بھی شامل ہوتا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ افراد کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی کیونکہ صوبے میں مختلف شعبوں میں اس طرح کے پروگراموں کی بھرمار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی شراکت داروں کی موجودہ تکنیکی مہارت اور ان اہم منصوبوں کے لیے دستیاب بہتر اقتصادی اداروں کے معیار سے ایک طرف تو قرض لینے والوں کو فائدہ پہنچتا تو دوسری طرف ان منصوبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل میں اضافہ ہوکر ان ترقیاتی رسائی بھی وسیع ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، مقامی سرمایہ کاروں کی شمولیت سے ممکنہ طور پر ان دو قرض پروگراموں کے استعمال کنندگان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مقامی معلومات کو شامل کرنے کا اضافی فائدہ ہوتا، اس کے علاوہ قرض لینے والوں کی ان مستحکم منصوبوں میں شمولیت سے ان کے لیے دی گئی مدت کے اندر قرضوں کی واپسی کے امکانات بھی بڑھ جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے صوبائی حکومت نہ صرف پالیسی میں سنگین کمی کا شکار رہی ہے (پیسہ دینا اچھا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے اس کے لیے بہت زیادہ صلاحیت اور محنت کی ضرورت ہے)، بلکہ اس میں تخلیقی صلاحیتوں کا بھی فقدان رہا ہے کیوں کہ صوبائی حکومت مکمل حکومتی منصوبے منصوبے بنا کر ان افراد کو قرضوں کے ساتھ ان منصوبوں پر کام کرنے کی ترغیب دے سکتی تھی جو صوبے کے مجموعی اقتصادی مقاصد جیسے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقتصادی لچک، اور ”وبا پھیلنے“ کے مسائل سے بہتر طریقے سے حل کرپاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ان قرضوں کے ذریعے ان افراد کی سرمایہ کاری بھی متوجہ کی جا سکتی تھی جن میں کاروباری صلاحیت کم ہے، اور انہیں صوبے کی معیشت کے لیے مخصوص اسٹاک ایکسچینجز یا اہم اقتصادی شعبوں جیسے تعلیم، صحت، ماحولیات وغیرہ میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جا سکتا تھا کیوں بڑے چیلنجز کے سبب جو ان شعبوں میں بڑی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوس کی بات ہے کہ پچھلے محرک اور فلاحی پروگرامز کی طرح، جیسے پی ٹی آئی حکومت کا معروف ’احساس‘ یا ’کیئر‘ پروگرام، یہ دونوں سبسڈی والے پروگرامز بھی ضروری پالیسی حمایت اور تخلیقی صلاحیتوں کے بغیر تشکیل دیے گئے اور انتہائی چیلنجنگ اقتصادی ماحول کے پیش اس کی افادیت کا امکان بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب حکومت نے حال ہی میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور غربت میں کمی لانے کی مجموعی کوشش میں صوبے کے عوام کے لئے دو محرک پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>تفصیلات یہ ہیں کہ سب سے پہلے ’آسان کروبار فنانس‘ (اے کے ایف) یا ’ایزی بزنس فنانس‘ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جس میں فعال ٹیکس فائلرز کو کسی بھی قسم کے کاروبار کے لیے 10 لاکھ سے 3 کروڑ روپے تک بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس کے لیے 36 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری بات یہ ہے کہ بجٹ میں 48 ارب روپے ’آسان کروبار کارڈ‘ یا ’ایزی بزنس کارڈ‘ پروگرام کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جہاں ایک فرد کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے قرض کی رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں، قرض کی رقم اے کے ایف پروگرام کی صورت میں پانچ سال کے اندر اور اے کے سی پروگرام کے تحت تین سال کے اندر واپس کی جائے گی۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف صوبے بلکہ گیر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن کمزور اقتصادی اداروں، غیر مؤثر تنظیموں اور انتہائی غیر مؤثر منڈیوں کے پیش نظر، جو بالآخر زیادہ ٹرانزیکشن لاگت اور کم قیمتوں کے تعین کا سبب بنتی ہیں، یہ کہنا مشکل ہے کہ ان قرضوں سے کاروباری سرگرمی میں کوئی نمایاں سطح کی کامیابی حاصل ہو سکے گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ ”کاروبار کرنے میں آسانی“ کے حوالے سے صورتحال بہت مشکل ہے اور درآمدات بہت مہنگی ہیں جو کاروبار چلانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں کیونکہ اداروں کے مالکان کو زیادہ تر مشینری یا تو بیرون ملک سے خریدنی پڑتی ہے یا پھر مقامی طور پر درآمد شدہ مشینری خریدنی پڑتی ہے کیونکہ ملک میں صنعت بہت کمزور ہے۔ مثال کے طور پر روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے یہ تمام مسائل نہ صرف ان دونوں پروگراموں کو مؤثر نہیں بناتے بلکہ اس بات کا بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ یہ قرضے  ”غیر مؤثر قرضے“ نہ بن جائیں کیونکہ ان مشکلات کے پیش نظر اس بات کا کم امکان ہے کہ قرض لینے والے کاروبار قائم کر پائیں گے اور قرض سے کوئی معنی خیز منافع کما سکیں گے۔</p>
<p>اس سے بھی بدترین امر یہ ہے کہ اس سے ایک طرف بڑی تعداد میں قرض نادہندگان پیدا ہوں گے تو دوسری طرف صوبائی بجٹ کو مناسب طریقے سے منظم کرنے کے لئے مالی چیلنجز بھی وجود میں آئیں گے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط کے تحت پرائمری سرپلس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں پر وفاقی بجٹ کے حوالے سے سنگین ذمہ داریاں عائد ہیں۔</p>
<p>لہٰذا، صوبائی حکومت نے ابھی تک اپنے دورِ اقتدار میں ایسی اقتصادی پالیسیوں کا اعلان نہیں کیا جس کی بدولت اقتصادی اداروں کے معیار میں بہتری لائی جاسکی یعنی دوسرے الفاظ میں صوبائی محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں صوبے کو مکمل صوبائی خودمختاری حاصل ہے۔ چونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کی وسیع تر منتقلی ہوئی ہے اس لیے ان شعبوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ان شعبوں کے تحت مؤثر قانونی فریم ورک قائم کرنا ضروری ہے– مثال کے طور پر محکمہ زراعت ایک ادارہ ہے اور اس کے تحت مختلف ادارے کام کر رہے ہیں – تاکہ وہ لین دین کے اخراجات یا ”تحقیق کی لاگت“ کو کم کر سکیں اور وہ لوگ جو ان دونوں قرضوں کے ذریعے کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے آسانی ہو، اور عمومی طور پر بھی یہ کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد دے سکے کیونکہ ان دونوں کا مقصد صوبائی شہریوں کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانا ہے – اور مجموعی طور پر کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ اداروں اور تنظیموں کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ لاگت کو معقول بنانے کے لیے قیمتوں کا صحیح تعین ضروری ہے کیونکہ پچھلے چند سالوں میں افراط زر کی شرح بہت زیادہ رہی ہے جس سے قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اس کے لیے سپلائی اور ڈیمانڈ کے عمل کو بہتر طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں کا درست تعین ہو سکے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ بہتر ہوتا اگر صوبائی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ”پرائس کمیشن“ بنانے کا اعلان کرتی، مثلاً قیمتیں کنٹرول کرنا، جیسا کہ چین میں ”دوہری قیمتوں“ کا نظام ہے اور مارکیٹ کی خرابیوں کو دور کر کے پیداوار کے ذرائع، درمیانی اور حتمی مصنوعات کی قیمتوں کو زیادہ معقول سطح تک پہنچانے کی کوشش کرتی۔</p>
</blockquote>
<p>اس کے علاوہ ان اقتصادی، اداروں، تنظیموں اور مارکیٹ سے متعلق چیلنجز کے پیش نظر، یہ مناسب ہوتا کہ صوبائی حکومت قرض لینے والوں کو نہ صرف کسی بھی شعبے میں منصوبے شروع کرنے کی مکمل آزادی دیتی بلکہ کاروبار کے لیے ترغیبی اقدامات بھی فراہم کرتی اور کئی شعبوں میں منصوبوں کا اعلان کرتی، جیسے ون ونڈو سہولت فراہم کرنا، خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) قائم کرنا، یا پہلے سے موجود ایس ای زیڈز میں منصوبوں کو شامل کرنا۔ اس کے علاوہ، ایس ای زیڈز کی حالت بہتر بنانے کے لیے مخصوص مشن پر مبنی منصوبے بنانا اور/یا مختلف شعبوں میں عوامی-نجی شراکت داریوں کی پیشکش کرنا بھی شامل ہوتا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ افراد کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی کیونکہ صوبے میں مختلف شعبوں میں اس طرح کے پروگراموں کی بھرمار ہے۔</p>
<p>ترقیاتی شراکت داروں کی موجودہ تکنیکی مہارت اور ان اہم منصوبوں کے لیے دستیاب بہتر اقتصادی اداروں کے معیار سے ایک طرف تو قرض لینے والوں کو فائدہ پہنچتا تو دوسری طرف ان منصوبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل میں اضافہ ہوکر ان ترقیاتی رسائی بھی وسیع ہوتی۔</p>
<p>مزید برآں، مقامی سرمایہ کاروں کی شمولیت سے ممکنہ طور پر ان دو قرض پروگراموں کے استعمال کنندگان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مقامی معلومات کو شامل کرنے کا اضافی فائدہ ہوتا، اس کے علاوہ قرض لینے والوں کی ان مستحکم منصوبوں میں شمولیت سے ان کے لیے دی گئی مدت کے اندر قرضوں کی واپسی کے امکانات بھی بڑھ جاتے۔</p>
<p>اس لیے صوبائی حکومت نہ صرف پالیسی میں سنگین کمی کا شکار رہی ہے (پیسہ دینا اچھا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے اس کے لیے بہت زیادہ صلاحیت اور محنت کی ضرورت ہے)، بلکہ اس میں تخلیقی صلاحیتوں کا بھی فقدان رہا ہے کیوں کہ صوبائی حکومت مکمل حکومتی منصوبے منصوبے بنا کر ان افراد کو قرضوں کے ساتھ ان منصوبوں پر کام کرنے کی ترغیب دے سکتی تھی جو صوبے کے مجموعی اقتصادی مقاصد جیسے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقتصادی لچک، اور ”وبا پھیلنے“ کے مسائل سے بہتر طریقے سے حل کرپاتے۔</p>
<p>مزید برآں، ان قرضوں کے ذریعے ان افراد کی سرمایہ کاری بھی متوجہ کی جا سکتی تھی جن میں کاروباری صلاحیت کم ہے، اور انہیں صوبے کی معیشت کے لیے مخصوص اسٹاک ایکسچینجز یا اہم اقتصادی شعبوں جیسے تعلیم، صحت، ماحولیات وغیرہ میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جا سکتا تھا کیوں بڑے چیلنجز کے سبب جو ان شعبوں میں بڑی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>افسوس کی بات ہے کہ پچھلے محرک اور فلاحی پروگرامز کی طرح، جیسے پی ٹی آئی حکومت کا معروف ’احساس‘ یا ’کیئر‘ پروگرام، یہ دونوں سبسڈی والے پروگرامز بھی ضروری پالیسی حمایت اور تخلیقی صلاحیتوں کے بغیر تشکیل دیے گئے اور انتہائی چیلنجنگ اقتصادی ماحول کے پیش اس کی افادیت کا امکان بہت کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40269369</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jan 2025 16:29:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/01/24162110f1f4e83.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/01/24162110f1f4e83.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
