<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:51:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:51:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابل میں دھماکا: طالبان کے وزیر برائے مہاجرین ساتھیوں سمیت جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40268146/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان وزیر برائے مہاجرین بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں وزارت کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ بات افغانستان میں طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدقسمتی سے وزارت مہاجرین میں ایک دھماکہ ہوا اور وزیر خلیل الرحمٰن حقانی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل الرحمٰن حقانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے جنہوں نے طالبان کی دو دہائیوں پر محیط شورش کے دوران سب سے زیادہ پرتشدد حملوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیل الرحمٰن حقانی موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان مسلح دستوں کی جانب سے 2021 میں افغانستان پر قبضے اور امریکہ اور نیٹو کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے خلاف ان کی جنگ کے خاتمےکے بعد سے ملک کے اندر پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دولت اسلامیہ کی علاقائی تنظیم جسے دولت اسلامیہ خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، افغانستان میں سرگرم ہے اورعام شہریوں، غیر ملکیوں اور طالبان عہدیداروں کے خلاف ہتھیاروں اور بموں سے حملے بدستورکرتی رہی ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان وزیر برائے مہاجرین بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں وزارت کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ بات افغانستان میں طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدقسمتی سے وزارت مہاجرین میں ایک دھماکہ ہوا اور وزیر خلیل الرحمٰن حقانی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔</p>
<p>خلیل الرحمٰن حقانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے جنہوں نے طالبان کی دو دہائیوں پر محیط شورش کے دوران سب سے زیادہ پرتشدد حملوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی تھی۔</p>
<p>خلیل الرحمٰن حقانی موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا بھی تھے۔</p>
<p>طالبان مسلح دستوں کی جانب سے 2021 میں افغانستان پر قبضے اور امریکہ اور نیٹو کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے خلاف ان کی جنگ کے خاتمےکے بعد سے ملک کے اندر پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>تاہم دولت اسلامیہ کی علاقائی تنظیم جسے دولت اسلامیہ خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، افغانستان میں سرگرم ہے اورعام شہریوں، غیر ملکیوں اور طالبان عہدیداروں کے خلاف ہتھیاروں اور بموں سے حملے بدستورکرتی رہی ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40268146</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Dec 2024 17:52:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/12/11185858d169564.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/12/11185858d169564.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
