<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 01:02:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 01:02:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی چیمبر کا درآمدی چائے پر ایم آر پی ریگولیشن فوری واپس لینے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40267924/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کالی چائے کی بھاری مقدار درآمد پر 1200 روپے فی کلو گرام یکساں ریٹ کی کم از کم ریٹیل پرائس (ایم آر پی) مقرر کرنے کے بارے میں  پاکستان ٹی ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کی جانب سے اظہار تشویش  کے رد عمل میں حکومت پر زور دیا کہ اس غیر منصفانہ ضابطے کو فوری طور پر واپس لیا جائے جس کے با عث درآمد کنندگان کو سزا دیتے ہوئے نہ صرف زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے بلکہ یہ اقدام معاشرے کے غریب طبقے کے لیے چائے مہنگی کرنے کا بھی باعث بنے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ فی کلو گرام پر ایم آرپی کا یکساں ریٹ مقرر کرنے سے  شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر پڑے گا اور ان پر بوجھ زیادہ آمدنی والے افراد کے برابر ہوجائے گا۔ اس اقدام سے کم آمدنی والے اور درمیانے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا جو پہلے ہی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سنگین اثرات سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کا دورہ کرنے والے پی ٹی اے کے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاوید بلوانی نے تجویز دی تمام درآمدی چائے پر یکساں ریٹ لاگو کرنے کے بجائے سوچ بچار پر مبنی طریقہ اختیارکیا جائے۔ ایم آر پی کو 1200فی کلو کردینے کے نتیجے میں 80سینٹ فی کلو کی معمولی قیمت پر درآمد کی جانے والی چائے پرذائد سیلز ٹیکس کی تشخیص کی جائے گی اور یہ چائے صارفین کے لئے ناقابل برداشت ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کالی چائے 80سینٹ سے لے کر 4.5ڈالر فی کلو کی قیمت پر درآمد کی جارہی ہے۔ ایک طرف یہ اقدام جائز  درآمد کنندگان کے لئے مشکلات کو بڑھا رہا ہے  اور دوسری طرف فاٹا، پاٹا کو چھوٹ دی جارہی ہے جبکہ ڈرائی پورٹ کی سہولیات ٹیکس چوری کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہی ہیں جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ چائے کے درآمد کنندگان کے لیے یکساں کاروباری مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنایا جا سکے جو کئی دہائیوں سے اس ضروری گھریلو شے کی فراہمی کر رہے ہیں اور قومی خزانے میں ٹیکس کی مد میں بھاری حصہ ڈالتے چلے آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ2023-24 کے دوران فاٹا، پاٹا کے استثنیٰ کے تحت 23 ملین کلو گرام چائے آئی جو پاکستان بھر کی مارکیٹوں میں پہنچ گئی۔فاٹا، پاٹا چھوٹ کے تحت درآمد کی جانے والی چائے ان علاقوں میں کھپت سے500 فیصد زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں سے تقریباً20 ملین کلو گرام چائے دوسرے چینلز کے ذریعے پاکستان کے باقی حصوں میں بھیجی گئی جس سے قومی خزانے کو ہر سال  25 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر چیئرمین پاکستان ٹی ایسوسی ایشن محمد الطاف نے بھاری مقدار میں درآمد کی جانے والی کالی چائے پر 1200 روپے فی کلوگرام ایم آر پی کے حالیہ نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے ایف بی آر کے ایم آر پی کے اعلان کے فیصلے سے متفق نہیں کیونکہ اس میں کوئی دلیل نہیں اور اسے چائے کی تجارت کی نوعیت کو نظر انداز کرتے ہوئے متعارف کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کالی چائے کی بھاری مقدار درآمد پر 1200 روپے فی کلو گرام یکساں ریٹ کی کم از کم ریٹیل پرائس (ایم آر پی) مقرر کرنے کے بارے میں  پاکستان ٹی ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کی جانب سے اظہار تشویش  کے رد عمل میں حکومت پر زور دیا کہ اس غیر منصفانہ ضابطے کو فوری طور پر واپس لیا جائے جس کے با عث درآمد کنندگان کو سزا دیتے ہوئے نہ صرف زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے بلکہ یہ اقدام معاشرے کے غریب طبقے کے لیے چائے مہنگی کرنے کا بھی باعث بنے گا۔</strong></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ فی کلو گرام پر ایم آرپی کا یکساں ریٹ مقرر کرنے سے  شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر پڑے گا اور ان پر بوجھ زیادہ آمدنی والے افراد کے برابر ہوجائے گا۔ اس اقدام سے کم آمدنی والے اور درمیانے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا جو پہلے ہی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سنگین اثرات سے دوچار ہیں۔</p>
<p>یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کا دورہ کرنے والے پی ٹی اے کے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>جاوید بلوانی نے تجویز دی تمام درآمدی چائے پر یکساں ریٹ لاگو کرنے کے بجائے سوچ بچار پر مبنی طریقہ اختیارکیا جائے۔ ایم آر پی کو 1200فی کلو کردینے کے نتیجے میں 80سینٹ فی کلو کی معمولی قیمت پر درآمد کی جانے والی چائے پرذائد سیلز ٹیکس کی تشخیص کی جائے گی اور یہ چائے صارفین کے لئے ناقابل برداشت ہو جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کالی چائے 80سینٹ سے لے کر 4.5ڈالر فی کلو کی قیمت پر درآمد کی جارہی ہے۔ ایک طرف یہ اقدام جائز  درآمد کنندگان کے لئے مشکلات کو بڑھا رہا ہے  اور دوسری طرف فاٹا، پاٹا کو چھوٹ دی جارہی ہے جبکہ ڈرائی پورٹ کی سہولیات ٹیکس چوری کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہی ہیں جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ چائے کے درآمد کنندگان کے لیے یکساں کاروباری مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنایا جا سکے جو کئی دہائیوں سے اس ضروری گھریلو شے کی فراہمی کر رہے ہیں اور قومی خزانے میں ٹیکس کی مد میں بھاری حصہ ڈالتے چلے آرہے ہیں۔</p>
<p>یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ2023-24 کے دوران فاٹا، پاٹا کے استثنیٰ کے تحت 23 ملین کلو گرام چائے آئی جو پاکستان بھر کی مارکیٹوں میں پہنچ گئی۔فاٹا، پاٹا چھوٹ کے تحت درآمد کی جانے والی چائے ان علاقوں میں کھپت سے500 فیصد زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں سے تقریباً20 ملین کلو گرام چائے دوسرے چینلز کے ذریعے پاکستان کے باقی حصوں میں بھیجی گئی جس سے قومی خزانے کو ہر سال  25 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر چیئرمین پاکستان ٹی ایسوسی ایشن محمد الطاف نے بھاری مقدار میں درآمد کی جانے والی کالی چائے پر 1200 روپے فی کلوگرام ایم آر پی کے حالیہ نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے ایف بی آر کے ایم آر پی کے اعلان کے فیصلے سے متفق نہیں کیونکہ اس میں کوئی دلیل نہیں اور اسے چائے کی تجارت کی نوعیت کو نظر انداز کرتے ہوئے متعارف کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40267924</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Dec 2024 12:32:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/12/03120806ccbbb34.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/12/03120806ccbbb34.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
