<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 14:38:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 14:38:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اضافی چینی کی برآمد سے 120 ملین ڈالر کمائے گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40267026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کمیٹی برائے مانیٹرنگ شوگر ایکسپورٹ کو دی گئی تازہ ترین بریفنگ کے مطابق ملک نے اضافی چینی کی برآمد سے تقریبا 120 ملین ڈالر کمائے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس کے دوران انہوں نے چینی کے سٹاک لیول اور ملکی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ملکی کھپت اور برآمد دونوں کے لئے چینی کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اہداف کے مطابق اسحاق ڈار نے اگلے پیداواری سیزن کو 21 نومبر سے پہلے شروع کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جس کا مقصد کافی اسٹاک کو برقرار رکھنا اور طلب میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ قیمتوں کو مستحکم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کمیٹی برائے مانیٹرنگ شوگر ایکسپورٹ کو دی گئی تازہ ترین بریفنگ کے مطابق ملک نے اضافی چینی کی برآمد سے تقریبا 120 ملین ڈالر کمائے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس کے دوران انہوں نے چینی کے سٹاک لیول اور ملکی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ملکی کھپت اور برآمد دونوں کے لئے چینی کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>ان اہداف کے مطابق اسحاق ڈار نے اگلے پیداواری سیزن کو 21 نومبر سے پہلے شروع کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جس کا مقصد کافی اسٹاک کو برقرار رکھنا اور طلب میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ قیمتوں کو مستحکم کرنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40267026</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Oct 2024 09:53:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/10/310953084318f88.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/10/310953084318f88.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
