<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 07:12:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 07:12:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک رپورٹ میں پاکستان کا چوتھا درجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40266430/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ جس کا عنوان ”بزنس ریڈی“ ہے، نے پاکستان کو چوتھے کوآنٹائل میں رکھا ہے، جو نچلے کوآنٹائل سے ایک درجہ اوپر ہے۔ یہ درجہ ایسے ممالک کی نشاندہی کرتا ہے جو چیلنجنگ کاروباری ماحول کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں نسبتاً کمزور ریگولیٹری فریم ورک اور عوامی خدمات ہیں جو ان کے کاروباروں کی آپریشنل کارکردگی کو محدود کرتی ہیں؛ نچلا کوآنٹائل ایسے ممالک کی وضاحت کرتا ہے جو پبلک سروسز کے ستون میں خاص مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو مشاہدات قابل غور ہیں ۔ اول، اس رپورٹ کا بنیادی محور واضح طور پر نجی شعبہ ہے، جو کہ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر معیشتوں میں تقریباً 90 فیصد نوکریاں، 75 فیصد سرمایہ کاری، 70 فیصد سے زائد پیداوار، اور 80 فیصد سے زیادہ حکومتی محصولات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کے معاملے میں، حکومتی پالیسی تاریخی طور پر نجی شعبے کی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹ رہی ہے، خاص طور پر: (i) صنعتی شعبے میں، جو نہ صرف انتظامیہ، سویلین اور فوجی، کی بڑی صنعتوں کو مالیاتی اور مانیٹری مراعات (بشمول سبسڈی والے یوٹیلیٹی نرخ) دینے کی رجحان کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی متنوع پیداوار کا فقدان ہے۔ ملک ابھی تک اپنی اضافی پیداوار کو برآمد کرتا ہے بجائے اس کے کہ برآمد کے لیے پیداوار کی منصوبہ بندی کرے جیسے کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور چین میں ہوتا ہے؛ اور (ii) زرعی شعبے میں اشرافیہ کا قبضہ، جو کہ امیر جاگیرداروں کو نہ صرف اپنی فی ہیکٹر پیداوار کو قومی اوسط سے بہتر کرنے میں کامیاب بناتا ہے بلکہ انہیں گنے پر برآمدی سبسڈی بھی ملتی ہے کیونکہ ان کا سیاسی اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، ملک کی وسیع غیر محفوظ سرحدیں اور اسمگلنگ کا مسئلہ جب بھی حکومت کسی شے کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ اشیاء ہمسایہ ممالک جیسے افغانستان اور بھارت کے مقابلے میں سستی ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے حالیہ آئی ایم ایف  کے ساتھ معاہدے میں نہ صرف تمام مالیاتی مراعات واپس لینے کی شرط ہے بلکہ مانیٹری مراعات بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس سے بجٹ کے تخمینے کے مطابق 3 فیصد سے کم شرح نمو متوقع ہے۔ اس سے روزگار، پیداوار اور حکومتی محصولات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، محصولات میں پہلی سہ ماہی میں 87 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پاکستان میں نجی شعبے کی سرگرمیوں کی راہ میں دوسرا بڑی رکاوٹ بڑھتا ہوا قرض اور اسکی کی ادائیگی کیلئے بڑھتا ہوا بجٹ  ہے، کیونکہ ملک بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر منحصر ہو چکا ہے اور موجودہ اخراجات کو قابو کرنے میں ناکام رہا ہے، جن میں موجودہ سال میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات، جن کا ترقی اور روزگار پر مثبت اثر ہوتا ہے، کو بے رحمی سے کم کیا گیا ہے تاکہ خسارے کو کم کیا جا سکے اور آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان مالیاتی خدمات میں دوسرے کوآنٹائل، کاروباری دیوالیہ پن میں تیسرے کوآنٹائل، یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی میں تیسرے سے نیچے اور کاروباری مقام اور مارکیٹ مقابلے میں چوتھے سے نیچے کے کوآنٹائل میں ہے؛ جبکہ تنازعہ حل کرنے، بین الاقوامی تجارت اور لیبر کے شعبوں میں پاکستان نچلے کوآنٹائل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پاکستان کا چوتھے درجہ میں ہونا ایک بڑے نتیجے کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی حکومت کو فوری طور پر اپنے ٹیکس ڈھانچے اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات شروع کرنے کی ضرورت ہے، جو کہ نجی شعبے کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومتی مالیاتی اور مانیٹری پالیسیاں ایسے نجی شعبے کی ترقی کے لیے بنائی جائیں جو پیداوار میں اضافے اور برآمدات کی طرف توجہ دے سکے، اور اسی دوران موجودہ اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ موجودہ وسائل سے پیدا ہونے والی محصولات کے دباؤ کو کم کیا جا سکے، جس میں موجودہ مالی سال کے بجٹ میں تصور کیے گئے بلند کارپوریٹ ٹیکس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر, 2024&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ جس کا عنوان ”بزنس ریڈی“ ہے، نے پاکستان کو چوتھے کوآنٹائل میں رکھا ہے، جو نچلے کوآنٹائل سے ایک درجہ اوپر ہے۔ یہ درجہ ایسے ممالک کی نشاندہی کرتا ہے جو چیلنجنگ کاروباری ماحول کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں نسبتاً کمزور ریگولیٹری فریم ورک اور عوامی خدمات ہیں جو ان کے کاروباروں کی آپریشنل کارکردگی کو محدود کرتی ہیں؛ نچلا کوآنٹائل ایسے ممالک کی وضاحت کرتا ہے جو پبلک سروسز کے ستون میں خاص مشکلات کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>دو مشاہدات قابل غور ہیں ۔ اول، اس رپورٹ کا بنیادی محور واضح طور پر نجی شعبہ ہے، جو کہ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر معیشتوں میں تقریباً 90 فیصد نوکریاں، 75 فیصد سرمایہ کاری، 70 فیصد سے زائد پیداوار، اور 80 فیصد سے زیادہ حکومتی محصولات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم پاکستان کے معاملے میں، حکومتی پالیسی تاریخی طور پر نجی شعبے کی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹ رہی ہے، خاص طور پر: (i) صنعتی شعبے میں، جو نہ صرف انتظامیہ، سویلین اور فوجی، کی بڑی صنعتوں کو مالیاتی اور مانیٹری مراعات (بشمول سبسڈی والے یوٹیلیٹی نرخ) دینے کی رجحان کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی متنوع پیداوار کا فقدان ہے۔ ملک ابھی تک اپنی اضافی پیداوار کو برآمد کرتا ہے بجائے اس کے کہ برآمد کے لیے پیداوار کی منصوبہ بندی کرے جیسے کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور چین میں ہوتا ہے؛ اور (ii) زرعی شعبے میں اشرافیہ کا قبضہ، جو کہ امیر جاگیرداروں کو نہ صرف اپنی فی ہیکٹر پیداوار کو قومی اوسط سے بہتر کرنے میں کامیاب بناتا ہے بلکہ انہیں گنے پر برآمدی سبسڈی بھی ملتی ہے کیونکہ ان کا سیاسی اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، ملک کی وسیع غیر محفوظ سرحدیں اور اسمگلنگ کا مسئلہ جب بھی حکومت کسی شے کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ اشیاء ہمسایہ ممالک جیسے افغانستان اور بھارت کے مقابلے میں سستی ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>ملک کے حالیہ آئی ایم ایف  کے ساتھ معاہدے میں نہ صرف تمام مالیاتی مراعات واپس لینے کی شرط ہے بلکہ مانیٹری مراعات بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس سے بجٹ کے تخمینے کے مطابق 3 فیصد سے کم شرح نمو متوقع ہے۔ اس سے روزگار، پیداوار اور حکومتی محصولات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، محصولات میں پہلی سہ ماہی میں 87 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم، پاکستان میں نجی شعبے کی سرگرمیوں کی راہ میں دوسرا بڑی رکاوٹ بڑھتا ہوا قرض اور اسکی کی ادائیگی کیلئے بڑھتا ہوا بجٹ  ہے، کیونکہ ملک بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر منحصر ہو چکا ہے اور موجودہ اخراجات کو قابو کرنے میں ناکام رہا ہے، جن میں موجودہ سال میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات، جن کا ترقی اور روزگار پر مثبت اثر ہوتا ہے، کو بے رحمی سے کم کیا گیا ہے تاکہ خسارے کو کم کیا جا سکے اور آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان مالیاتی خدمات میں دوسرے کوآنٹائل، کاروباری دیوالیہ پن میں تیسرے کوآنٹائل، یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی میں تیسرے سے نیچے اور کاروباری مقام اور مارکیٹ مقابلے میں چوتھے سے نیچے کے کوآنٹائل میں ہے؛ جبکہ تنازعہ حل کرنے، بین الاقوامی تجارت اور لیبر کے شعبوں میں پاکستان نچلے کوآنٹائل میں ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں پاکستان کا چوتھے درجہ میں ہونا ایک بڑے نتیجے کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی حکومت کو فوری طور پر اپنے ٹیکس ڈھانچے اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات شروع کرنے کی ضرورت ہے، جو کہ نجی شعبے کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومتی مالیاتی اور مانیٹری پالیسیاں ایسے نجی شعبے کی ترقی کے لیے بنائی جائیں جو پیداوار میں اضافے اور برآمدات کی طرف توجہ دے سکے، اور اسی دوران موجودہ اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ موجودہ وسائل سے پیدا ہونے والی محصولات کے دباؤ کو کم کیا جا سکے، جس میں موجودہ مالی سال کے بجٹ میں تصور کیے گئے بلند کارپوریٹ ٹیکس شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر, 2024</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40266430</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Oct 2024 10:48:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/10/08104658d114a12.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="853" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/10/08104658d114a12.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
