<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:03:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:03:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمدی مرحلے پر ٹیکس وصولی میں کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40266017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مالی سال 2023-24 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں درآمدی مرحلے پر ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد اور گھریلو ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے  اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 39 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 35 فیصد رہ گیا۔ 22-2021 میں درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 49 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امپورٹ ٹیکس کے زمرے میں 2022-23 میں کسٹم ڈیوٹی وصولی کا حصہ 13 فیصد رہا جب کہ 2023-24 میں یہ حصہ 12 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو ٹیکسز کا حصہ 2022-23 میں 61 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 65 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 22-2021 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں مقامی اسٹیج/ سپلائی سے جمع ہونے والے وفاقی ٹیکسز کا حصہ 51 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023-24 کے دوران گھریلو سطح پر سیلز ٹیکس کی وصولی 47 فیصد اور درآمدات 53 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 44 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 47 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 2021-22 میں مجموعی ٹیکسز میں گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد تھا جو 2023-24 میں بڑھ کر 47 فیصد ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی مرحلے سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 56 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 53 فیصد رہ گیا۔ مالی سال 22-2021 میں درآمدات سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی میں سے مقامی سپلائی / گھریلو مرحلے سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 96 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 94 فیصد رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدات سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں مجموعی ایف ای ڈی کلیکشن میں 6 فیصد ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023-24 میں گھریلو سطح سے انکم ٹیکس وصولی کا حصہ 92 فیصد تھا جب کہ درآمدی مرحلے سے آئی ٹی وصولی اس عرصے کے دوران کل ٹیکس وصولی کا 8 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی انکم ٹیکس وصولی میں گھریلو سطح پر آئی ٹی وصولی 2022-23 میں 90 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 92 فیصد ہوگئی۔ مالی سال 2021-22 میں گھریلو آئی ٹی کلیکشن کا حصہ کل آئی ٹی کلیکشن میں 86 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 23-2022 میں درآمدات سے آئی ٹی وصولی 9 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 8 فیصد رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مالی سال 2023-24 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں درآمدی مرحلے پر ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد اور گھریلو ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد تھا۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کے  اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 39 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 35 فیصد رہ گیا۔ 22-2021 میں درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 49 فیصد تھا۔</p>
<p>امپورٹ ٹیکس کے زمرے میں 2022-23 میں کسٹم ڈیوٹی وصولی کا حصہ 13 فیصد رہا جب کہ 2023-24 میں یہ حصہ 12 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>گھریلو ٹیکسز کا حصہ 2022-23 میں 61 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 65 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 22-2021 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں مقامی اسٹیج/ سپلائی سے جمع ہونے والے وفاقی ٹیکسز کا حصہ 51 فیصد تھا۔</p>
<p>مالی سال 2023-24 کے دوران گھریلو سطح پر سیلز ٹیکس کی وصولی 47 فیصد اور درآمدات 53 فیصد رہی۔</p>
<p>گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 44 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 47 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 2021-22 میں مجموعی ٹیکسز میں گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد تھا جو 2023-24 میں بڑھ کر 47 فیصد ہوگیا۔</p>
<p>درآمدی مرحلے سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 56 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 53 فیصد رہ گیا۔ مالی سال 22-2021 میں درآمدات سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد رہا۔</p>
<p>مجموعی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی میں سے مقامی سپلائی / گھریلو مرحلے سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 96 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 94 فیصد رہ گیا۔</p>
<p>درآمدات سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں مجموعی ایف ای ڈی کلیکشن میں 6 فیصد ہوگیا۔</p>
<p>مالی سال 2023-24 میں گھریلو سطح سے انکم ٹیکس وصولی کا حصہ 92 فیصد تھا جب کہ درآمدی مرحلے سے آئی ٹی وصولی اس عرصے کے دوران کل ٹیکس وصولی کا 8 فیصد تھی۔</p>
<p>مجموعی انکم ٹیکس وصولی میں گھریلو سطح پر آئی ٹی وصولی 2022-23 میں 90 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 92 فیصد ہوگئی۔ مالی سال 2021-22 میں گھریلو آئی ٹی کلیکشن کا حصہ کل آئی ٹی کلیکشن میں 86 فیصد تھا۔</p>
<p>ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 23-2022 میں درآمدات سے آئی ٹی وصولی 9 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 8 فیصد رہ گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40266017</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Sep 2024 10:22:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/09/2310151658091d6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/09/2310151658091d6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
