<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 16:43:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 08 Aug 2026 16:43:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا کے مارکسی رہنما ڈیسانائیکے کو صدارتی انتخاب میں ابتدائی کامیابی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40266011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکا کے مارکسسٹ رہنما انورا کمارا ڈسانائیکے نے صدارت کے انتخابات میں ابتدائی طور پر 53 فیصد ووٹ لے کر برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ حزب اختلاف کے رہنما ساجت پریماداسا 22 فیصد کے ساتھ دوسرے اور صدر رانیل وکرما سنگھے تیسرے نمبر پر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسانائیکے نے نیشنل پیپلز پاور (این پی پی) کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور بدعنوانی کے خاتمے اور غریب پرور پالیسیوں کا وعدہ کیا۔ انہوں نے اقتدار میں آکر 45 دن کے اندر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا عہد بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتخابات ملک کی پہلی معاشی بدحالی کے بعد ہو رہے ہیں، جس کے بعد آئی ایم ایف سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ ملا تھا۔ اگرچہ معیشت نے بحالی کے آثار دکھائے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اب بھی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور نئے صدر سے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسانائیکے نے ٹیکسوں میں کمی اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی کا وعدہ کیا ہے تاکہ معیشت کو استحکام دیا جا سکے اور قرضوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری لنکا کے مارکسسٹ رہنما انورا کمارا ڈسانائیکے نے صدارت کے انتخابات میں ابتدائی طور پر 53 فیصد ووٹ لے کر برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ حزب اختلاف کے رہنما ساجت پریماداسا 22 فیصد کے ساتھ دوسرے اور صدر رانیل وکرما سنگھے تیسرے نمبر پر ہیں۔</strong></p>
<p>ڈسانائیکے نے نیشنل پیپلز پاور (این پی پی) کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور بدعنوانی کے خاتمے اور غریب پرور پالیسیوں کا وعدہ کیا۔ انہوں نے اقتدار میں آکر 45 دن کے اندر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا عہد بھی کیا۔</p>
<p>یہ انتخابات ملک کی پہلی معاشی بدحالی کے بعد ہو رہے ہیں، جس کے بعد آئی ایم ایف سے 2.9 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ ملا تھا۔ اگرچہ معیشت نے بحالی کے آثار دکھائے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اب بھی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور نئے صدر سے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔</p>
<p>ڈسانائیکے نے ٹیکسوں میں کمی اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی کا وعدہ کیا ہے تاکہ معیشت کو استحکام دیا جا سکے اور قرضوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40266011</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Sep 2024 12:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/09/22125046a439d68.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="667" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/09/22125046a439d68.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
