<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:50:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 14:50:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائشیا کی برکس اقتصادی گروپ میں شمولیت کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40263662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے چینی میڈیا ادارے گوانچا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ملائیشیا ابھرتی ہوئی معیشتوں کے برکس گروپ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برکس ممالک کے گروپ میں بنیادی طور پر برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ نے گزشتہ سال اپنا اراکان کی تعداد بڑھانا شروع کی تھی کیونکہ یہ مغربی معیشتوں کے زیر اثر عالمی نظام کو چیلنج کرنا چاہتا ہے ، جس میں سعودی عرب ، ایران ، ایتھوپیا ، مصر ، ارجنٹائن اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، جس کے بعد 40 سے زیادہ ممالک نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے، ہم جلد ہی باضابطہ طریقہ کار طے کریں گے… اتوار کے روز گوانچا کی جانب سے پوسٹ کیے گئے انٹرویو کی ایک ویڈیو کے مطابق انورابراہیم نے کہا کہ ہم صرف جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انورابراہیم کے دفتر کے ایک نمائندے نے منگل کے روز رائٹرز کو ان کے بیان کی تصدیق کی۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے درخواست کے عمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انورابراہیم کا یہ بیان چین کے وزیر اعظم لی کیانگ کے اس ہفتے تین روزہ دورے سے قبل سامنے آیا ہے جو ملائیشیا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ لی کے دورے کے دوران ملائیشیا اور چین کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن میں پانچ سالہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کی تجدید بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے چینی میڈیا ادارے گوانچا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ملائیشیا ابھرتی ہوئی معیشتوں کے برکس گروپ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>برکس ممالک کے گروپ میں بنیادی طور پر برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔</p>
<p>گروپ نے گزشتہ سال اپنا اراکان کی تعداد بڑھانا شروع کی تھی کیونکہ یہ مغربی معیشتوں کے زیر اثر عالمی نظام کو چیلنج کرنا چاہتا ہے ، جس میں سعودی عرب ، ایران ، ایتھوپیا ، مصر ، ارجنٹائن اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، جس کے بعد 40 سے زیادہ ممالک نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے، ہم جلد ہی باضابطہ طریقہ کار طے کریں گے… اتوار کے روز گوانچا کی جانب سے پوسٹ کیے گئے انٹرویو کی ایک ویڈیو کے مطابق انورابراہیم نے کہا کہ ہم صرف جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p>انورابراہیم کے دفتر کے ایک نمائندے نے منگل کے روز رائٹرز کو ان کے بیان کی تصدیق کی۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے درخواست کے عمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>انورابراہیم کا یہ بیان چین کے وزیر اعظم لی کیانگ کے اس ہفتے تین روزہ دورے سے قبل سامنے آیا ہے جو ملائیشیا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حصہ ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ لی کے دورے کے دوران ملائیشیا اور چین کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن میں پانچ سالہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے کی تجدید بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40263662</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Jun 2024 12:54:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/06/181253206e0c134.gif" type="image/gif" medium="image" height="750" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/06/181253206e0c134.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
