<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:13:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:13:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجکاری سے 30 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ ہدف مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40263561/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 میں نجکاری سے 30 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے)، روزویلٹ ہوٹل، فرسٹ ویمن بینک، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں سمیت 25 سرکاری اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے 10 مئی 2024 کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اپنے دوسرے اور آخری جائزے میں آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے سال کے لیے پیش گوئی کی تھی کہ اس نے پی آئی اے کے بنیادی کاروبار کے لیے بولی جون 2024 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے حکومت ممکنہ طور پر 51 فیصد حصص فروخت کرنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا  کہ پاکستان پی آئی اے اور دیگر اثاثوں کی نجکاری کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اپنے وسیع تر نجکاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی چھوٹے ایس او ایز بھی اس وقت فعال نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 میں نجکاری سے 30 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ ہدف مقرر کیا ہے۔</strong></p>
<p>حکومت پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے)، روزویلٹ ہوٹل، فرسٹ ویمن بینک، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں سمیت 25 سرکاری اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے 10 مئی 2024 کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اپنے دوسرے اور آخری جائزے میں آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے سال کے لیے پیش گوئی کی تھی کہ اس نے پی آئی اے کے بنیادی کاروبار کے لیے بولی جون 2024 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے حکومت ممکنہ طور پر 51 فیصد حصص فروخت کرنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا  کہ پاکستان پی آئی اے اور دیگر اثاثوں کی نجکاری کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اپنے وسیع تر نجکاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی چھوٹے ایس او ایز بھی اس وقت فعال نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40263561</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Jun 2024 11:07:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2024/06/13105704300ac8e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2024/06/13105704300ac8e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
